settings icon
share icon
سوال

ایک مسیحی شادی کی تقریب کو غیر مسیحی شادی کی تقریب سے کس طرح مختلف ہونا چاہیے؟

جواب


مسیحی شادی اور غیر مسیحی شادی میں بنیادی فرق یسوع مسیح کی ذات ہے۔ شادی کے بندھن میں بندھنے والے مسیحی جب ایک دوسرے کے ساتھ عہد باندھتے ہیں تو وہ اُس وقت خُداوند یسوع مسیح کے ساتھ بھی عہد باندھ رہے ہوتے ہیں اور اُن کے وہ عہد اِس قدر واضح ہوتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جو اُن کی شادی کی تقریب میں شامل ہوتے ہیں ، واضح طور پر اُنہیں سُنتے اور دیکھتے ہیں۔ غیر مسیحی شادیوں میں زیادہ تر شادی کرنے والا جوڑا یا پھر خصوصی طور پر دلہن ساری تقریب کا مرکز ہوتی ہے، جبکہ مسیحی شادی کے اندر مرکزی شخصیت خُداوند یسوع مسیح کی ذات ہے۔

وہ مسیحی جوڑا جو واقعی ہی اپنی شادی کی تقریب کے ذریعے سے خُداوند یسوع مسیح کے نام کو جلال دینا چاہتا ہے اُسے چاہیے کہ وہ اپنی شادی کی تیاری اپنے پاسٹر کے ساتھ شادی سے پہلے کی صلاح کاری کیساتھ شروع کریں۔ مسیحی اصولوں کی بنیاد پر کی جانے والی شادی سے پہلے کی صلاح کاری اُس شادی میں میاں اور بیوی کے کرداروں کے بارے میں اور پھر آئندہ ایام میں اُن کے پیدا ہونے والے بچّوں کے بارے میں واضح اصول پیش کرتی ہے (افسیوں 5باب22آیت تا 6باب4آیت؛ کلسیوں 3باب18-21آیات)۔ شادی کی تقریب خُدا، دلہے دلہن کے خاندانوں اور دوستوں کے سامنے اِس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ شادی کرنے والے جوڑے کی یہ خواہش ہے کہ وہ بطورِ میاں اپنے خاندان کے لیے خُدا کے منصوبے کے مطابق زندگی گزاریں۔

شادی کی تقریب جوڑے کی طرف سے خُداوند یسوع مسیح کے نام کو جلال دینے کی ایک تصویر بھی ہونی چاہیے۔ اُس ساری تقریب کا ہر ایک حصہ، موسیقی، پرستش، عہدو پیمان سے لیکر پاسبان کی طرف سے دئیے جانے والے پیغام کے ذریعے خُداوند کے نام کو جلال دینے کے عزم کا اظہار ہونا چاہیے۔ شادی کی تقریب میں استعمال ہونے والی موسیقی اچھی اور خُدا کے نام کو جلال دینے والی ہونی چاہیے نہ کہ دُنیاوی یا گمراہ کن۔ نکاح کے وقت عہدو پیمان اِس مکمل ادراک کے ساتھ ہونے چاہیے کہ جو کچھ وہ جوڑا ایک دوسرے کے سامنے بولتا ہے وہ اُن کے لیے زندگی بھر کا وعدہ ہے اور اُنہیں اِس بات کو بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ جو وعدے وہ ایک دوسرے کے ساتھ کر رہے ہیں اُسے دراصل وہ خُدا کے ساتھ کر رہے ہیں۔ پاسبان کی طرف سے پیش کئے جانے والے پیغام سے بھی اِنہی سچائیوں اور ایک دوسرے کے لیے مخصوص ہونے کے عزم کا پیغام ملنا چاہیے۔

مسیح جوڑے کو شادی کی تقریب میں اپنے قریبی ساتھیوں کا چناؤ بھی بہت زیادہ احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے یہ جانتے ہوئے کہ جن کو وہ چن رہے ہیں وہ اچھے مسیحی ہیں۔ دلہن کے ساتھ کھڑی ہونے والی لڑکیاں اور دلہے کے دوست وہاں پر تقریب کو محض پُر رونق بنانے اور ہلا گُلا کرنے کے لیے نہیں ہوتے۔ اُن کی موجودگی دلہے اور دلہن کی طرف سے کئے جانے والے اِس محبت کے معاہدے کی تصدیق کرتی ہے اور اُنکی موجودگی سے دلہے اور دلہن کو یہ وعدہ اور تسلی بھی ملتی ہے کہ وہ سبھی لوگ اُس جوڑے کی مدد کریں گے تاکہ وہ اپنی شادی کے ذریعے سے خُداوند یسوع مسیح کے نام کو جلال دے سکیں۔ اِس سب کے ساتھ ساتھ دلہن اور اُس کی سہلیوں کے لباس بھی مناسب، باحیا اور خُداوند کی حضوری میں کھڑے ہونے کے لیے موزوں ہونے چاہییں۔ کسی مسیحی شادی کی تقریب کے اندرایسے غیر مناسب اور مختصر لباس کی کوئی جگہ نہیں جو عریانی کا باعث بن رہا ہو۔

اِس کے بعداگر ولیمے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے تو اُس کی ساری تقریب سے بھی مسیح خُداوند کے نام کو جلال ملنا چاہیے۔ خصوصی طور پر ولیمے اور عمومی طور پر تمام کی تمام شادی کی تقریب میں شراب نوشی وغیر ہ جیسی سرگرمیوں کی طرف رجوع نہیں کیا جانا چاہیے اور نشہ بازی کا کوئی بھی کام تقریب کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔ وہ مسیحی لوگ جو اپنی شادی کی تقریبات میں کسی بھی ایسی سرگرمی کی اگر اجازت دیتے ہیں تو اُنہیں اِس بات کو بھی دھیان میں رکھنا چاہیے کہ اُن کا یہ قدم غیر مسیحیوں کے سامنے کیسا تاثر پیش کرے گا اور بہت سارے ایمانداروں کے لیے بھی کیسے ٹھوکر کا باعث ہوگا۔ شراب نوشی یا ایسی کسی بھی طرح کی کسی سرگرمی کی روک تھام کرنے یا اِس کی اجازت دینے کی ذمہ داری دلہے اور دلہن پر اور اُن کے خاندان کے لوگوں پر ہوتی ہے۔

وہ مسیحی جوڑا جس کی شادی سے خُداوند یسوع مسیح کے نام کو جلال ملتا ہے وہ اپنی شادی کی اُس تقریب کی خوبصورتی اور سنجیدگی کو عمر بھر یاد رکھے گا اور اُس دن کو اپنی نئی زندگی کے ایک بہترین آغاز کے طور پر پائے گا۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ایک مسیحی شادی کی تقریب کو غیر مسیحی شادی کی تقریب سے کس طرح مختلف ہونا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries