settings icon
share icon
سوال

کیا کسی مسیحی کے پاس اسلحہ /ہتھیار ہونا چاہیے ؟

جواب


ہماری دنیا میں بڑھتے ہوئے تشدد اور کلام ِ مقدس میں امن کی تعریف کے پیشِ نظر مسیحیوں کے درمیان اِس بارے میں کافی بحث پائی جاتی ہے کہ آیا کسی مسیحی کے لیے ہتھیار رکھنا مناسب ہے۔ تاہم بائبل پر ایک جامع نظر ڈالنے سے اُن تاریخی طریقوں کے بارے میں ادراک حاصل کیا جا سکتا ہے جو ہمیں آج اس مسئلے سے آگاہ کرتے ہیں۔

ہمارے پاس رسولوں کی مثال موجود ہے کہ اُن کے پاس ہتھیارتھے۔ پکڑوائے جانے کی رات خداوند یسوع نے اپنے شاگردوں سے تلواریں لانے کو کہا۔ اُن کے پاس دو تلواریں تھیں جن کے بارے میں خداوند یسوع نے فرمایا کہ کافی ہیں (لوقا 22باب 37-39آیات)۔ جب خداوند یسوع کو گرفتار کیا جا رہا تھا تو پطرس نے سردار کاہن کے خادموں میں سے ایک کا کان کاٹ دیا (یوحنا 18باب 10آیت)۔ خُداوند یسوع نے فوراً اُس آدمی کو شفا بخشی (لوقا 22باب 51آیت ) اور پطرس کو حکم دیا کہ وہ اپنی تلوار کو میان میں رکھے (یوحنا 18باب 11آیت )۔ پطر س کے پاس تلوار ہونے کی مذمت نہیں کی گئی بلکہ پطرس کی طرف سے اُس کے مخصوص استعمال کی مذمت کی گئی تھی۔

ایک اور موقع پر سپاہی یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بپتسمہ لینے آئے۔ جب اُنہوں نے پوچھا کہ خدا کے لیے زندگی بسر کرنے کے لیے وہ کیا کریں تو یوحنا نے ان سے کہا" نہ کسی پر ظُلم کرو اور نہ کسی سے ناحق کُچھ لو اور اپنی تنخواہ پر کفایت کرو"(لوقا 3باب 14آیت )۔ یوحنا نے انہیں ہتھیار ڈالنے کو نہیں کہا۔

پھر داؤد بادشاہ کی مثال ہے جو خُدا کی حمد و ستائش کرتا ہے کہ وہ " میرے ہاتھوں کو جنگ کرنا اور میری اُنگلیوں کو لڑنا سکھاتا ہے" (144زبور 1آیت )۔ پرانے عہد نامے میں ایسے خدا پرست مردوں کی بہت سی دوسری مثالیں پائی جاتی ہیں جو عموماً جنگ کے تناظر میں ہتھیار رکھتے اور اُن کا استعمال کرتے تھے۔

بائبل کبھی بھی کسی مسیحی کو ہتھیار رکھنے سے منع نہیں کرتی لیکن یہ کچھ ایسے اصول پیش کرتی ہے جن کا مدِ نظر رکھا جانا ضروری ہے۔ پہلی بات، مسیحیوں کو صلح قائم کرنے کے لیے بُلایا جاتا ہے (متی 5باب 10آیت )۔ ہتھیار خریدنے کے بارے میں سوچنے والے کسی بھی مسیحی کو اس بات کو دُعا میں رکھتے ہوئے غور و خوص کرنا چاہیے کہ آیا ایسا کرنے سے صلح قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

دوسری بات، کسی مسیحی کے پاس صرف اُس مقصد کے لیے ہتھیار ہونا چاہیے جو خدا کے جلال کا باعث ہو گا(1 کرنتھیوں 10باب 23آیات)۔ شکار ، فوجی خدمات ،قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری یا اپنے دفاع کے لیے ہتھیار کااستعمال کرنا خدا کے نام کو جلال دے سکتا ہے۔ پھر بھی کسی شخص کو کوئی مخصوص ہتھیار رکھنے کے اپنے مقاصد پر غور کرنا چاہیے۔

تیسری بات ، کسی مسیحی کو بندوق رکھنے کے قوانین سمیت مقامی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔ رومیوں 13باب اس بارے میں واضح ہے کہ حکومتی حکام خدا کی طرف سے ہیں اور اُن کی تابعداری کی جانی چاہیے ۔ مزیدبرآں ہمیں حکومتی رہنماؤں کے واسطے دعا کرنی ہے جو ہماری برادریوں اور قوم کی نگرانی کرتے ہیں (1 تیمتھیس 2باب 1-2آیات )۔

آخر میں ، بندوق یا دیگر ہتھیار رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ کوئی ہتھیار کچھ مخصوص حالات میں مفید ، حتی ٰ کہ ضروری ہو سکتا ہے؛ اس کے ساتھ ساتھ مسیحیوں کو ہتھیار رکھنے کے اپنے محرک اور مقصد پر غور کرنا چاہیے اور مقامی قوانین کی پابندی کی جانی چاہیے

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا کسی مسیحی کے پاس اسلحہ /ہتھیار ہونا چاہیے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries