settings icon
share icon
سوال

کیا ایک مسیحی کو چھٹیاں گزارنے/تعطیل پر جاناچاہیے؟

جواب


بائبل میں تعطیلات گزارنے (یا ہمارے انگریزی بولنے والے دوستوں کے لیے امریکہ سے باہر تعطیلات/چھٹیاں گزارنے)کے لیے جانے یعنی vacation کا خاص طور پر کچھ بھی ذکر نہیں کیا گیا ۔ تاہم کلامِ مقدس آرام کرنے اور ذمہ داری کے تصورات کے بارے میں بات کرتا ہے اور اِن دونوں کا اِس خیال پر اطلاق ہوتا ہے کہ آیا مسیحیوں کو تعطیلات /چھٹیاں گزارنے کے لیے جانا چاہیے۔

چھٹی آرام کا وقت ہے اور خُدا نے پیدایش 3باب 2-3آیات میں اُس وقت آرام کی مثال قائم کی جب وہ تخلیق کے کام سے فارغ ہوا تھا ۔ خروج 20 باب 8-11آیات میں خُدا اپنے لوگوں سے فرماتا ہے کہ وہ کام کاج سے آرام – جیسا کہ ہفتہ وار چھٹی کے لیے ساتویں دن آرام کریں ۔ سبت کے دن کی پیروی کرنے کے حکم کو تمام پرانے عہد نامے میں دہرایا جاتا ہے۔ نئے عہد نامے میں ہم یسوع کو سبت کے دن کے معنی کو پورا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ مسیحی اب سبت کے قانون کے ما تحت نہیں ہیں مگر آرام کا تصور اب بھی اہم ہے۔ خداوند یسوع نے فرمایا کہ سبت کا دن انسان کے لیے بنایا گیا تھا، مطلب یہ کہ خدا نے یہ دن ہمیں تحفے کے طور پر دیا ہے (مرقس 2باب 27آیت)۔ سبت کا دن جو یسوع کے زمانے میں بوجھ بن گیا تھا اُس کا اصل مقصد تازگی اور بحالی بخشنا تھا ۔ آرام کرنے میں ہم خُدا پر اپنے انحصار کا اعلان کرتے ، اُس کی دستگیر ی پر اپنے ایمان کی مشق کرتے اور تازگی پاتے ہیں۔

خُداوند یسوع نے اپنی خدمت سے کبھی چھٹی نہیں کی تھی لیکن تازہ دم ہونے کے لیے وہ وقت نکالتا تھا اور اِس بات کو بھی یقینی بناتا تھا اُس کے شاگرد بھی ایسا ہی کریں ۔ ایک موقع پر جب "بہت لوگ آتے جاتے تھے اور اُن کو کھانا کھانے کی بھی فرصت نہ ملتی تھی" تو خُداوند یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا " تُم آپ الگ وِیران جگہ میں چلے آؤ اور ذرا آرام کرو" (مرقس 6:31۔ )۔ یقیناً اگر یسوع فارغ وقت کی تلاش کرتا تھا تو ضروری وقفے لینا ایک اچھی بات ہے۔

چھٹیوں کی منصوبہ بندی کرتے وقت توازن ضروری ہے۔ آرام ایک نعمت ہے؛ اِس سے بڑھ کر یہ انسانی ضرورت ہے۔ جیسا کہ نیند کی ضرورت کو ہماری روزمرّہ کی زندگی میں دیکھا جا سکتا ہے ہم کام اور آرام کے تسلسل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ آرام زندگی کا مقصد نہیں ہے۔ہمیں کام بھی کرنا چاہیے۔ افسیوں 5باب 15-17آیات فرماتی ہیں "پس غور سے دیکھو کہ کس طرح چلتے ہو۔ نادانوں کی طرح نہیں بلکہ داناؤں کی مانند چلو۔ اور وقت کو غنیمت جانو کیونکہ دِن بُرے ہیں۔ اِس سبب سے نادان نہ بنو بلکہ خُداوند کی مرضی کو سمجھو کہ کیا ہے"۔ موسیٰ نبی دعا کرتا ہے کہ " ہم کو اپنے دِن گننا سکھا۔ اَیسا کہ ہم دانا دِل حاصِل کریں" (90زبور 12آیت )اور خداوند یسوع فرماتا ہے کہ"جس نے مُجھے بھیجا ہے ہمیں اُس کے کام دِن ہی دِن کو کرنا ضرور ہے"( یوحنا 9باب 4آیت)۔ بے شک ہماری زندگی کا مقصد چھٹی منانانہیں ہے۔ لیکن ہمیں خدا کی طرف سے تازگی حاصل کرنے کے لیے اپنے روزمرّہ کے معمولات سے وقتی طور پر دور ہونے کی ضرورت ہے۔ خدا نے ہمیں ہر سال 7 دن ،24گھنٹے اور365 دن کام کرنے یا خدمت کرنے کے لیے تخلیق نہیں کیا۔

ذمہ داری یا مختاری چھٹیاں گزارنے کے لیے جانےکے حوالے سے غور کرنے کے لئے ایک اور اہم معاملہ ہے۔ ہمیں اپنے وقت اور سرمائے کے اچھے مختار بننا ہے۔ اپنے وسائل کو اُن چیزوں پر خرچ کرنا ضروری ہے جو حقیقی قدر رکھتی ہیں ۔ ایک اچھی چھٹی ہماری رُوحوں کو بحال کرے گی اور خداوند کے لیے ہمارے کام کو جاری رکھنے میں ہماری مدد کرے گی۔ چھٹی اِس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ ہم اپنی روزی کے لیے اپنے آپ پر نہیں بلکہ خدا پر انحصار کرتے ہیں ۔

چھٹیوں کے تعلق سے مالیاتی ذمہ داری ایک اہم مسئلہ ہے۔ چھٹیاں گزارنے کے لیے جانے کے بارے میں سوچتے وقت مالی معاملات پر گہرے طور پرغور کرنا اچھا ہے۔ کیا چھٹیاں گزارنے کے خرچ کا انتظام ہمارے مالی وسائل میں ممکن ہے؟ کیا خرچ چھٹی کی قدر کے برابر ہے ؟ کیا ہم مالیات کے دیگر شعبوں (اپنے بل ادا کرنے ، گرجا گھر کو دینے ، دوسروں کی مدد کرنے ، وغیرہ)میں ذمہ دار ہیں؟ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چھٹیاں گزارنے پر "کم سے کم اخراجات" کئے جائیں۔ کسی تجربے کے لیے پیسہ-یہاں تک کہ بہت سا پیسہ خرچ کرنا غلط نہیں ہے۔ تعلقات، بحالی ، یا خوشی کے تعلق سے خرچ کرنا قابل ِ قدر بات ہو سکتی ہے۔ اس کی کلید یہ ہے کہ ہم اپنے مالی فیصلے خدا کے سپرد کریں اور اپنے وسائل کو اچھی طرح سنبھالیں۔

چھٹیاں گزارنے کے لیے جانا مسیحیوں کے لیے نہ صرف جائز ہے بلکہ یہ ضروری بھی ہے ۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ تعطیلات گزارنے کے لیے جانے میں کیا شامل ہے یہ ضمیر، وسائل اور اعمال کا معاملہ ہے۔ چھٹیاں گزارنے کے لیے جانے کا معاملہ سادہ یا نفیس ہو سکتاہے لیکن جیسا کہ کلسیوں 3باب 17آیت بیان کرتی ہےکہ"کلام یا کام جو کچھ کرتے ہو وہ سب خُداوند یِسُوع کے نام سے کرو اور اُسی کے وسیلہ سے خُدا باپ کا شُکر بجا لاؤ"۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا ایک مسیحی کو چھٹیاں گزارنے/تعطیل پر جاناچاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries