کیا مسیحی لوگوں کو دیگر لوگوں کے مذہبی اعتقاد کی بابت روا دار ہونا چاہئے؟



سوال: کیا مسیحی لوگوں کو دیگر لوگوں کے مذہبی اعتقاد کی بابت روا دار ہونا چاہئے؟

جواب:
ہمارے موجودہ "بردباری" کے زمانہ میں دینی رشتہ بنائے رکھنا سب سے بڑی نیکی بطور دلالی ہے، ہر ایک فلسفہ، خیال اور ایمان کا اصول یہ سب مساوی قابلیتیں یا خوبیاں ہیں۔ ایسا رشتہ بنائے رکھنے والا کہتا ہے۔ اور یہ مساوی عزت کے قابل ہے۔ جو لوگ دوسروں پر کسی کے ایمان کے اصول کی طرفداری کرتے۔ یہاں تک کہ اس سے بھی برا وہ ایک سچ مچ کی سچائی کا دعوی ہے جو تنگ نظری، غیر روشن خیال یا یہاں تک کہ ایک کٹر شخص کا لحاظ کیاجاتاہے۔

جی ہاں! فرق فرق مذہب مشترکہ طور سے مستثنی دعوے پیش کرتے اور شتہ بنانے والے قانونی طور سے کھلم کھلا تخالف کے ساتھ ہاتھ نہیں ملاپاتے ہیں۔ مثال کے طور پرکلام پاک دعوی کرتاہے۔ کہ "انسان کا ایک بار مرنا اور اسکے بعد عدالت کاہونا ضروری ہے ( عبرانیوں 9:27)، جبکہ کچھ مشرقی مذاہب از سر نو تجسم کی تعلیم دیتے ہیں۔ تو پھر کیا ہم ایک بار یا کئی بار مرتے ہیں؟ دونوں تعلیم سچ نہیں ہو سکتے۔ رشتہ بنانے والے خاص طور سے سچ کو دوبارہ واضح کرتے تاکہ ایک متناقضانہ (الٹی) دنیا کو وجود میں لائے۔ جہاں مختلف متبائن "سچائیاں" کسی وسری چیز کے ساتھ وجود رکھ سکتی ہیں۔

یسوع نے کہا "راہحق اور زندگی میں ہوں کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا (یوحنا 14:6)۔ ایک مسیحی سچائی کو قبول کیا ہوا ہوتاہے نہ کہ صرف ایک تصور کو بلکہ ایک شخصی بطور۔ یہ سچائی کا علم ایک مسیحی کو موجووہ نام نہاد "کشادہ دلی" دوری بنائے رکھتاہے۔ ایک مسیحی علانیہ طور سے جانتا ہے کہ یسوع مردوں میں سے جی اٹھا (رومیوں 10-9 :10)۔ اگر وہ سچ مچ یسوع کی قیامت پراعتقاد کرتاہے تو وہ ایک غیر ایماندار کے دعوے سے متعلق کس طرح "کشادہ دل" ہو سکتا ہے کہ یسوع کبھی بھی مردوں میں سے زندہ نہیں ہوا؟ ایک مسیحی کے لئے خدا کے کلام کی تعلیم کا صاف طور سے انکار کرنا فی الحقیقت خداکو دھوکا دینا ہوگا۔

اس بات کو نوٹ کریں کہ ہم نے اب تک اپنی مثالوں میں کچھ بنیادی باتوں کا حوالہ دیا ہے۔ کچھ باتیں جیسے مسیح کا جسمانی طور سے مردوں میں سے زندہ ہونا) اس پرکوئی اعتراض پیش نہیں کیاجا سکتا۔ مگر دوسری باتوں پر کھلے طور سےبحث کیا جا سکتا ہے جیسے کہ عبرانیوں کی کتاب کس نے لکھی یا پھر پولس نے جوبات کہی کہ "میرے جسم میں ایک کانٹا چبھو دیا گیااسکاکیا مطلب ہے وغیرہ۔ ہم کو دیگر معاملوں اور فضول کی حجتوں کے دلدل میں پھنسنے سے باز رہنا چاہئے (2 تموتھیس 2:23؛ ططس 3:9)۔

یہاں تک کہ جب مشہور (نامور) الہی علم کے اصول پر بحث و مباحثہ کیاجاتاہے تو ایک مسیحی کو مزاحمت کرنی چاہئے اور دوسروں کی عزت کرنی چاہئے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم کسی بات پر متفق نہیں ہو سکتے مگر دوسری بات یہ ہے کہ ہم کسی شخص کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتے جو شخص کسی سچائی کی بات سوال اٹھاتا ہے تو ہم کو سچائی پر قائم رہنا اور اس پر ترس کھانے کی ضرورت ہے۔ یسوع کی مانند ہم کو سچائی اور رحم سے بھرا ہوا ہونا چاہئے۔ (یوحنا 1:14)۔ پطرس ہمیں نصیحت دیتاہے کہ ہم کسی کو جواب دیتے وقت حلیمی کا برتاؤ کریں۔ "جو کوئی تم سے تمہاری امید کی وجہ دریافت کرے تو اس کو جواب دینے کے لئے ہر وقت مستعد رہو مگر حلم اور خوف کے ساتھ (1 پطرس 3:15)۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا مسیحی لوگوں کو دیگر لوگوں کے مذہبی اعتقاد کی بابت روا دار ہونا چاہئے؟