settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ کئی ایک مسیحیوں نے خودکشی کی ہے۔ اور یہ غلط تعلیم کہ خودکشی بذات خود انسان کو جہنم میں لے جاتی ہے اس المیے میں مزید اضافہ کرتی ہے ۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ایک مسیحی جو خودکشی کرتا ہے نجات نہیں پائے گا۔ بائبل میں اس تعلیم کی حمایت نہیں کی گئی۔

کلام ِ مقدس سکھاتا ہے کہ جس لمحے ہم مسیح پر حقیقی ایمان لے آتے ہیں ہمیں ابدی زندگی کی ضمانت مل جاتی ہے (یوحنا 3باب 16آیت)۔ بائبل کے مطابق مسیحی بِناکسی شک کے جان سکتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کی زندگی کے مالک ہیں (1یوحنا 5باب 13آیت)۔ کوئی بھی چیز ایک مسیحی کو خدا کی محبت سے جُدا نہیں کر سکتی (رومیوں 8باب 38-39آیات)۔ کوئی بھی "تخلیق کردہ چیز" ایک مسیحی کو خدا کی محبت سے جُدا نہیں کر سکتی اور یہاں تک کہ خودکشی کرنے والا مسیحی بھی ایک "تخلیق شدہ چیز" ہے؛ لہٰذا، خودکشی بھی ایک مسیحی کو خدا کی محبت سے جُدا نہیں کر سکتی۔ یسوع نے ہمارے تمام گناہوں کے لیے جان دی ہے اور اگر ایک حقیقی مسیحی رُوحانی حملے اور کمزوری کے وقت خودکشی کر لیتا ہےتو مسیح کا خون اب بھی اُس کے گناہ پر غالب ہے۔

بائبل کے مطابق خودکشی اس بات کا تعین کرنے والی چیز نہیں ہے کہ آیا کوئی شخص فردوس میں داخل ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر ایک غیر نجات یافتہ شخص خودکشی کرتا ہے تو اُس نے اپنے جہنم کی طرف جانے والے سفر کو "جلد ختم " کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا ہے۔ تاہم وہ شخص جس نے خودکشی کی وہ مسیح کے وسیلے نجات کو مسترد کرنے کے باعث بالآخر جہنم میں جائے گا نہ کہ اِس لیے کہ اُس نے خودکشی کی تھی (دیکھیں یوحنا 3باب 18 آیت)۔ بہرحال ہمیں اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ کسی بھی انسان کو صحیح معنوں میں معلوم نہیں ہوتا کہ جب کسی شخص کی موت ہوئی تھی تو اُس کے دل میں کیا چل رہا تھا۔ کچھ لوگ "بسترِ مرگ پر ایمان " لاتے ہیں اور زندگی کے آخری لمحات میں مسیح کو قبول کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ خودکشی کرنے والے شخص کے دل کی تبدیلی آخری وقت پر ہوئی ہوا ور اُس نے خدا کے رحم کے لیے التجا کی ہو۔ ہم ایسے فیصلوں کو خدا پر چھوڑتے ہیں (1 سموئیل 16باب 7 آیت)۔

ایک ایماندار کی خودکشی اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی انسان مایوس کُن حالت میں سے گزر سکتا ہے اور ہمارا دشمن ابلیس"شروع سے ہی خونی "ہے (یوحنا8باب 44آیت)۔ اِن سب باتوں کے باجود خودکشی خدا کے خلاف ایک سنگین گناہ ہے۔ بائبل کے مطابق خودکشی قتل ہے؛ یہ ہمیشہ ہی غلط ہے۔ مسیحیوں کو خدا کے لیے اپنی زندگی بسر کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے اور اس بات کا فیصلہ کرنا صرف اور صرف خدا کے ہاتھ میں ہے کہ اُنہیں کب مرنا ہے ۔

خُدا ہر اُس شخص کو اپنا فضل اور زبور نویس کا نقطہ نظر عطا کرے جو آج کل مشکلات کا سامنا کر رہا ہے: "اَے میری جان! تُو کیوں گِری جاتی ہے؟ تُو اندر ہی اندر کیوں بے چین ہے؟ خُدا سے اُمّید رکھ! کیونکہ وہ میرے چہرے کی رَونق اور میرا خُدا ہے۔ مَیں پھر اُس کی ستایش کرُوں گا"(43زبور 5 آیت)۔

اگر آپ خودکشی کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو براہ کرم ابھی مدد لیں۔ امدادی ادارےبرائے خودکشی سے بچاؤ کے رابطہ نمبر0800- 44488 ،920334 - 05811 اور+92311-7786264 پر کال کریں،اگر ممکن ہو توفوراًہسپتال پہنچیں ،115یا1122 پر کال کریں، اپنے گھرمیں، اپارٹمنٹ، یا کام کی جگہ پر یا آپ جہاں کہیں بھی ہیں کسی کو آگاہ کریں اور مدد کے حصول کےلیے جو بھی ممکن ہو وہ کریں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries