settings icon
share icon
سوال

کیا مسیحیوں کو مستقبل کی ممکنہ مصیبت/آفت کے پیشِ نظر خوراک/اشیاء کو ذخیرہ کرنا چاہیے؟

جواب


یقینی طور پر ایسے مواقع ہوتے ہیں جہاں مستقبل کے حوالے سے تیاری کرنا ایک عملی فہم کی بات لگتی ہے۔ تاہم اس بارے میں ہمارا رویہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارے خُداوند یسوع نے اپنے پہاڑی واعظ میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ ہمیں "کل " کی بابت فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہمارا آسمانی باپ ہمارے مانگنے سے پہلے ہی ہماری ضروریات کو جانتا ہے اور یہ بھی کہ وہ وفاداری سے ہماری ضروریات کو پورا کرے گا (متی 6باب 25- 34 آیات )۔ اپنی مستقبل کی ضروریات کے لیے خُدا پر ایمان رکھنا نہ صرف ہمارے لیے اُس کی دستگیری پراعتماد میں بلکہ اُس کی طرف سے ہمارے اردگرد کے تمام ضرورت مندوں کی ضروریات کو بھی پورا کرنے کے اعتقاد میں اضافے کا باعث ہونا چاہیے۔

اُس بیوہ کی عظیم مثال پر غور کریں جس نے ایلیاہ کو کھانا کھلایا (1 سلاطین 17باب 9-16آیات) اور جس وفاداری کے بدلے میں خدا نے اُسے کتنی کثرت سے نوازا تھا ۔ اِس کے ساتھ ساتھ کلام ِ مقدس میں دیگر مثا لیں بھی ہیں جہاں خداآنے والے وقت کے لیے منصوبہ بندی کرنے کے بارے میں واضح طور پر نصیحت کرتا ہے۔ پرانے عہد نامے میں ہم فرعون کے خواب کے تعلق سے دیکھ سکتے ہیں کہ خُدا یوسف کو ہدایت کرنا چاہتا تھا کہ وہ لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لیے آنے والی قحط سالی کے لیے تیاری کرے (پیدایش 41باب 15-41آیات)۔ خدا کی طرف سے یوسف کو ملنے والی ہدایت کو قبول کرتے ہوئے فرعون نے نہ صرف اپنے لوگوں کو بلکہ اُس نے یوسف کے اُس خاندان کو بھی فاقہ کشی سے بچایا جو موعودہ مسیحا، یسوع کےزمینی آباؤ اجداد تھے۔

نئے عہد نامے میں جب خُداوند یسوع اپنے شاگردوں کو اپنے آگے علاقوں میں بھیجنے کو تھا تواُس نے ان سے کہا کہ وہ اپنے ساتھ کوئی سامان نہ لے کر جائیں (لوقا 9باب 3آیت ؛ 10باب 1-4آیات )۔ اور اُن کی واپسی پر اُس نے انہیں یاد دلایا کہ انہیں کس طرح خُدا کی طرف سے مہیا کیا گیا تھا (لوقا 22 باب 35آیت )۔ مگر اگلی آیت میں خُداوند یسوع نے اپنی نصیحت کو تبدیل کیا اور اُن سے کہا کہ وہ اپنے ساتھ ایک ایک بٹوا، جھولی اور تلوار لے لیں (لوقا 22باب 36آیت )۔ شاید وہ جانتا تھا کہ اب انہیں اُس مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا انہیں پہلے سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ اُس کے پاس وہ حکمت اور واقعات کے بارے میں قبل از وقت علم تھا جو شاگردوں کے پاس نہیں تھا اور اِس سبب سے اُس نے مختلف حالات میں اُنہیں مختلف نصیحتیں کیں ۔

عملی لحاظ سے بات کی جائے تو مستقبل کے حوالے سے تیاری کرنا یقیناً درست اور سمجھدار ی کی بات ہے۔ لیکن ہمیں محتاط رہنا چاہیے کہ ہم اِن تیاریوں پر غیر معمولی اعتماد نہ رکھیں۔ اُس دولت مند شخص کے بارے میں خداوند یسوع کی تمثیل ناقص منصوبہ بندی کی ایک مثال کو پیش کرتی ہے جواپنی پیداوار کے لیے بڑی بڑی کوٹھیاں بنانا چاہتا تھا ۔ دولت مند شخص اپنی فراہمی اور سلامتی کے لیے اپنے مال و دولت کی طرف دیکھ رہا تھا (لوقا 12باب 16-21آیات )۔ اصولاً اُس کی طرف سے بڑی بڑی کوٹھیاں تعمیر کرنے میں کچھ بھی غلط نہیں تھا۔ لیکن اِس جگہ پر اُس کا رویہ غلط تھا وہ اپنے منصوبوں میں خدا کو تسلیم کیے بغیر اپنے آپ پر اعتمادرکھے ہوا تھا۔ بنیادی طور پر اُسے اپنی بکثرت پیداوار کے لیے خدا کا شکر گزار ہونے کی ضرورت تھی اور اپنی دولت اور پیداوار کے مناسب استعمال کے لیے خُدا سے حکمت مانگنے کی ضرورت تھی۔ لیکن اُس نے کبھی خُدا سے رجوع نہیں کیا ، اوراُس نے جو کچھ ذخیرہ کیا تھااُس میں سے کچھ بھی خرچ یا استعمال کرنے کا موقع ملنے سے پہلے ہی اُس کی جان لے لی گئی ۔

سچ تو یہ ہے کہ ہمیں مستقبل کی تیاری کرنے کے حوالے سے خدا کی طرف سے حکمت کا خواہاں ہونے کی ضرورت ہے۔ خُدا اُن سب کو حکمت بخشنے کا وعدہ کرتا ہے جو اُس کی تلاش کرتے ہیں (یعقوب 1باب 5آیت )اور وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ بنیادی ضروریات کے لیے معقول حد تک بچائے رکھنے اور اپنے پیسے، وقت اور ہنر کو آنے والی اُس ابدیت ،جو کبھی ختم نہیں ہو گا ( متی 6باب 19-20آیات)کے لیے خرچ کرتے ہوئے ، ہمیں اُن چیزوں کا دانشمند مختار بننے کی ضرورت ہے جو خدا نے ہمیں مہیا کی ہیں ۔ کل کے لیے تیاری کرتے وقت "ابدیت" کو مدِ نظر رکھیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا مسیحیوں کو مستقبل کی ممکنہ مصیبت/آفت کے پیشِ نظر خوراک/اشیاء کو ذخیرہ کرنا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries