settings icon
share icon
سوال

کیا کسی مسیحی کو سٹاک مارکیٹ/بازارِ حِصص میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے؟

جواب


ایسےلوگ بھی موجود ہیں جو یہ کہتے ہوئے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کی مخالفت کرتے ہیں کہ سٹاک / حصِص خریدنا جؤا کھیلنے کے مترادف ہے۔ دلیل یہ ہے کہ چونکہ حصِص اس امید (نہ کہ ضمانت)پر خریدے جاتے ہیں کہ اِن کی قدر میں اضافہ ہوگا اِس لیے یہ جوئے کی ایک شکل ہے۔ تاہم جوئے کے اڈوں پر جؤا کھیلنے یا لاٹری کی ٹکٹ خریدنے اور حصِص خریدنے میں فرق ہے۔ جواری اس بات کو جانتے ہوئے پیسے کو داؤ پر لگاتے ہیں کہ جلد ازجلد پیسہ کمانے کی امید میں شائد وہ اس پیسے کو ہار جائیں گے۔سمجھدار سرمایہ کار وقت کے ساتھ ساتھ پیسہ کمانے کی امید میں کسی تجارتی ادارے کے مالکانہ حقوق کو جزوی طور پر خریدتے ہیں جو مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرنے کا ایک اچھا طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔

فرق کا انحصار اصل میں نیت پر ہوتا ہے۔ایک دن پر مشتمل کچھ قسم کی سرمایہ کاریاں بڑی حد تک جوئے کی طرح ہی ہوتی ہیں۔ ہر اُس کا م سے اجتناب کیا جانا چاہیے جو عقلمندانہ فیصلہ سازی اور طویل المدت منصوبہ بندی سے بڑھ کر "قسمت" کا تقاضا کرتا ہے ۔ زیادہ تر طویل مدت سرمایہ کاریاں وقت کے ساتھ سا تھ منافع پیدا کرتی ہےجو اِسے کسی جوئے کے اڈے پر پانسے پھینکنے کی بجائے بانڈز خریدنے یا مخصوص مدت کے لیے رقم جمع کرانے کی طرح بنا دیتی ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ریٹائرمنٹ، اپنے بچوں کی تعلیم اور اپنے خاندانوں کے لیے وراثت کو محفوظ بنانے کے لیے سرمایہ کاری کا استعمال کرتے ہیں۔

بائبل جائز ذرائع سے دولت بڑھانے کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہے۔ ان میں سے کچھ مثالیں بالکل سرمایہ کاری - بعد میں پیسہ کمانے کے لیے ابھی پیسہ لگانے- کی طرح ہی ہیں ۔ ہمیں اپنی دولت کا کس طرح سے انتظام کرنا چاہیے اس بارے میں خدا کے ارادے بہت سے صحائف میں پائے جاتے ہیں ۔ ذیل میں اس کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔

امثال 28باب 20آیت فرماتی ہے کہ"دِیانت دار آدمی برکتوں سے معمور ہو گا لیکن جو دَولت مند ہونے کے لئے جلدی کرتا ہے بے سزا نہ چُھوٹے گا"۔ یہ آیت "جلد امیر ہونے " کی سوچ کے خلاف بات کرتی ہے ۔ سرمایہ کاری کو مستقبل کے طویل المدت منصوبے کے طور پر دیکھنا اچھی منصوبہ بندی ہے لیکن راتوں رات مال بنانے کی کوشش کرنا اچھی منصوبہ بندی نہیں ہے۔

دوسرا کرنتھیوں 9باب 6آیت بیان کرتی ہے " لیکن بات یہ ہے کہ جو تھوڑا بوتا ہے وہ تھوڑا کاٹے گا اور جو بُہت بوتا ہے وہ بُہت کاٹے گا "۔ اس آیت کا سیاق و سباق درحقیقت خدا کے ساتھ ہمارے تعلقات میں سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں بات کر رہا ہے لیکن یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کیسے مستقبل میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے اکثر قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ اسی طرح امثال 3باب 9-10آیات میں درج ہے" اپنے مال سے اور اپنی ساری پَیداوار کے پہلے پھلوں سے خُداوند کی تعظیم کر۔ یُوں تیرے کھّتے خُوب بھرے رہیں گے اور تیرے حَوض نئی مَے سے لبریز ہوں گے"۔

دولت کے بارے میں بائبل کی زیادہ تر تعلیمات خُداوند پر بھروسہ کرنے (مثلاً، 1 تیمتھیس 6باب 17-18آیات) کی بجائے دولت پر بھروسہ کرنے اور اُن لوگوں کو نقصان پہنچنے کے خلاف ایک انتباہ ہے جو ہم پر انحصار کرتے ہیں (مثلاً،واعظ 5باب 13-14آیات )۔ جب تک ہم اپنے پیسے سے خُدا اور اپنے خاندانوں کے ساتھ اپنے وعدوں کا احترام کرتے اور سخاوت اور شکر گزاری کے جذبے کو برقرار رکھتے ہیں تب تک سرمایہ کاری ایک ایسا راستہ ہے جس پر مسیحی غور کر سکتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا کسی مسیحی کو سٹاک مارکیٹ/بازارِ حِصص میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries