settings icon
share icon
سوال

ایک مسیحی کو جنسی تعلیم کو کس نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے؟

جواب


بچّے جنسیت کے بارے میں کسی نہ کسی سے سیکھیں گے۔ انتخابات میں ان کے ساتھی، فحش نگاری کا مواد ، سکول کا ماحول ، تجربہ یا اُن کے والدین شامل ہیں۔ جنسی تعلیم بچّوں کی اُس راہ میں تربیت جس پر انہوں نے جانا ہے (امثال 22باب 6آیت) کے ایک فطری حصے کے طور پر گھر میں ہی دی جانی چاہیے۔ یہ والدین کے لیے خدا کی طرف سے دی گئی ذمہ داری ہے کہ وہ جنسیت سمیت بچّوں کو زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں خُدا کا نقطہ نظر سکھائیں (افسیوں 6باب 1-4آیات)۔

انسانی جنسیت کی جبلتی پیچیدگیوں کی وجہ سے حیاتیاتی تولید کے جسمانی پہلوؤں کو اخلاقی ذمہ داری سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس بات سے قطعِ نظر کہ آیا بچّے جنسی تعلیم سکولوں میں یا گرجا گھر وں میں حاصل کرتے ہیں، یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اُن کے بچّوں کو جنسیت کے حیاتیاتی اور اخلاقی دونوں پہلوؤں کے بارے میں درست طور پر تعلیم دی جائے ۔ اپنے بچّوں کو اقدار کی تعلیم دینے بالخصوص آج کل کے معاشرے میں جنسی معاملات کے بارے سکھانے کے لیے اپنی بجائے دوسروں پر انحصار کرنا خطرناک ہے

پہلی بات ، بائبل جنسیت کے بارے میں کیا فرماتی ہے؟ جنسیت ہمارے لیے خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے اور اسے اِسی نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔ خُدا نے جنسیت کو دو مقاصد کے لیے پیدا کیا تھا : شوہر اور بیوی کے درمیان افزایشِ نسل اور اتحاد (پیدایش 1باب 28آیت؛ متی 19باب 6آیت؛ مرقس 10باب 7-8آیات؛ 1کرنتھیوں 7باب 1-5آیات)۔ جنسیت کا اِن دونوں مقاصد کے علاوہ کوئی بھی اور استعمال گناہ ہے (1کرنتھیوں 6باب 9، 18آیت؛ 1تھسلنیکیوں 4باب 3آیت)۔ افسوس کی بات ہے کہ ہماری دنیا میں بہت سے لوگ اِن سچائیوں پر یقین نہیں کرتے۔ نتیجتاً جنسی بدکاری کے بہت سے معاملات پائے جاتے ہیں اورجو بہت زیادہ غیر ضروری تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے والدین جو اپنے بچّوں کو جنسیت کے بارے میں صحیح طریقے سے تعلیم دیتے ہیں وہ اپنے بچّوں کو جھوٹ اور سچ کے درمیان فرق کرنے ، عقل مندی سے چلنے اور بالآخر جنسیت کے تحفے کا زیادہ صحت بخش تجربہ حاصل کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

زیادہ تر جدید جنسی تعلیم کی تدریس بدکاری، زنا کاری ، ہم جنس پرستی اور شادی سے پہلے ایک ساتھ رہنے کو جنسیت کے "عام" اظہار کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ حد بندیوں کے بارے میں کسی بھی طرح کی تعلیم منفی نتائج سے بچنے تک محدود ہے۔ یہ سب باتیں کلام ِ مقدس کے خلاف ہیں (1کرنتھیوں 6باب 9آیت ؛ احبار 20باب 15-16آیات ؛ متی 5باب 28آیت )۔ مسیحی والدین کو اپنے بچّوں کی تعلیم کے تمام پہلوؤں، خاص طور پر اُن حلقوں میں فعال طور پر شامل ہونا چاہیے جو کلام پاک کی تعلیم پرسمجھوتہ کرتے ہیں ۔ والدین کو اِس بات سے آگاہ ہونا چاہیے کہ اُن کے بچّے کیا سیکھ رہے ہیں اور اپنے بچّوں کو دی گئی کسی بھی غلط معلومات کو درست کرنا چاہیے ۔ انہیں اپنے بچّوں کو اس طور سے بھی تعلیم دینی چاہیے کہ وہ ثقافتی غلط عقیدے اور بائبل کی سچائی کے درمیان پرکھ کے لیے لیس ہو ں ۔ خدا سکولوں، گرجا گھروں یا حکومتی اداروں کو نہیں بلکہ والدین کو اپنے بچّوں کی پرورش کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے (افسیوں 6باب 4آیت ) ۔

بہت سے والدین کو جنسیت کا موضوع عجیب اور شرمناک لگتا ہےلیکن ایسا ہونا نہیں چاہیے ۔ والدین کو اِس تعلیم کا آغاز اُس وقت کرنا چاہیے جب بچّے بہت زیادہ چھوٹے ہوتے ہیں ، جب وہ سکول بھی نہیں جاتے اُنہیں اُن کے بدنوں کے بارے میں سکھانا چاہیے اور یہ بھی سکھانا چاہیے کہ مرد اور عورت کس طرح سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جیسے جیسے بچّہ بالغ ہوتا جاتا ہے اس طرح کی بات چیت فطری طور پر زیادہ پیچیدہ موضوعات کا احاطہ کرتی جاتی ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ بچّہ جانتا ہو کہ وہ ماں یا باپ کے ساتھ ایسی کسی بھی چیز کے بارے میں بات کر سکتا ہے جو اُسے پریشان کرتی ہے۔

چونکہ جنسی معلومات کی ہم پر ہر سمت سے بمباری جاری ہے اس لیے والدین اور بچّوں کی یہ گفتگو بہت جلد شروع ہوجانی چاہیے۔ اس سے پہلے کہ والدین سکول کے نظام کو جنسیت یا اخلاقیات کی تعلیم دینے کی اجازت دیں، انہیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ اُن کے بچّے سچائی کے بارے میں پہلے ہی سیکھ چکے ہیں۔ اس کے بعد بچّے کیا سیکھ رہے ہیں اور وہ اپنے علم کا کس طرح سے اطلاق کر رہے ہیں اُس کے بارے میں اُن کا با خبر رہنا بہت ضروری ہے۔ اپنے بچّوں کے ساتھ لگاتار اور دو طرفہ گفتگو جاری رکھنا اس بات کی نگرانی کرنے کی کلید ہے کہ وہ کیا کچھ سیکھ رہے ہیں ۔ جب والدین اپنے بچّوں کی تعلیم میں بے حد فعال ہوتے ہیں تو بچّوں کے پاس اُن غلطیوں کو پہچاننے اور رَد کرنے کی بنیاد ہوتی ہے جنہیں دنیا سچائی کے طور پر فروغ دیتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ایک مسیحی کو جنسی تعلیم کو کس نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries