settings icon
share icon
سوال

ایک مسیحی کو تجویز کردہ ادویات کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے؟

جواب


بہت سے مسیحی تجویز کردہ ادویات کے استعمال سمیت جائز طبی علاج کو قبول کرنے کیساتھ جڑے ہوئے اپنے فیصلوں کے حوالے سے کشمش کا شکار رہتےہیں ۔ بائبل اس موضوع کے حوالے سے ہمیں زیادہ معلومات فراہم نہیں کرتی لیکن اگر ہم تجویز کردہ ادویات کے مقاصد کا جائزہ لیں تو ہم اُن کے استعمال کے لیے بائبل کے اصولوں پر مبنی ایک مثالی نقطہ نظر پیش کر سکتے ہیں۔ کلام ِ مقدس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خراب صحت، بیماری اور موت دنیا میں موجود گناہ کا نتیجہ ہیں۔خداوند یسوع کی زمینی خدمت کا بڑا حصہ اس لعنت کا مقابلہ کرنے پر مشتمل تھا کیونکہ وہ جہاں جہاں گیا اُس نے وہاں لوگوں کو شفا دی تھی (دیکھیں متی 15باب 31آیت)۔ خداوند یسوع خدا کے وجود کی بالکل درست نمائندگی ہے (عبرانیوں 1باب 3آیت ) اور لوگوں کو شفا دے کر اُس نے ہم پر خدا کی شفقت اور اُس عظیم طبیب کے طور پر اپنی شناخت کو عیاں کیا تھا جو ایک دن تمام مخلوقات کی صحت کو بحال کرے گا (رومیوں 8باب 18-22آیات)۔

پس ،خداوند یسوع کی خدمت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شفا کی تلاش کرنا غلط بات نہیں ہے؛ اصل میں یہ بالکل واجب ہے! نیز، لوقا کی انجیل اور اعمال کی کتاب کا مصنف لوقا ایک طبیب تھا (کلسیوں 4باب 14آیت )۔ ممکن ہے کہ لوقا طبیب نے آج کل کے ڈاکٹروں کی طرح ادویاتی نسخے تجویز نہ کیے ہوں لیکن وہ اپنے دور کی ادویات اور طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی جسمانی بیماریوں کا علاج کرنے کے کاروبار سے منسلک تھا۔

تجویز کردہ ادویات سے پہلے کے دنوں میں لوگ دیگر طریقوں سے درد سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ امثال 31باب 6-7آیات میں ذکر ہے کہ شدید بیمار اور سخت تکلیف میں مبتلا لوگوں کو شراب اور مے دی جاتی تھی ۔ اس کے علاوہ 1تیمتھیس 5باب 23آیت میں پولس رسول تیمتھیس کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنے معدے کی درستگی کے لیے تھوڑی سی مے کو استعمال میں لائے ۔ چونکہ دیگر دوائیں ابھی تک تیار نہیں ہوئی تھیں اس لیے خمیر شدہ مشروبات اکثر درد اور تکلیف کے علاج کے طور پر استعمال کیے جاتے تھے اور اس طرح کی درد کُش ادویات کے استعمال کی تصدیق خدا کے کلام سے ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں ،ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آجکل کی زیادہ تر تجویز کردہ ادویات تخلیق میں قدرتی طور پر پائے جانے والے عناصر پر مبنی ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی ڈاکٹر ایماکسل/ Amoxil تجویز کر سکتا ہے لیکن یہ اینٹی بائیوٹک کہاں سے آئی ہے ؟ یہ Penicillium notatumکہلانے والی نیلی- سبز پھپھوَندی کے ذریعہ تیار ہونے والے مادے سے حاصل ہوا ہے ۔ یہ پھپھوندی کہاں سے آئی ؟ اِسے خدا نے تخلیق کیا تھا ۔ لہٰذا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا نے پینسلین پھپھوندی کو بنایا اور اِسے متعدی بیکٹیریا کو مارنے کی مفید خاصیت بخشی تھی۔ پھر خدا نے لوگوں کو اس خاصیت کو دریافت کرنے، کارآمد اجزاء کو الگ کرنے اور اِسے انسانی جسم میں استعمال کے لیے صاف کرنے کے قابل بنایا۔ کیا خدا کی تخلیق کردہ چیزوں کو انسانیت کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا غلط ہے؟ بالکل نہیں ۔درحقیقت وہ ایسی دریافتوں سے جلال پاتا ہے۔

ان سب سے ہمیں یہ تعین کرنے میں مدد ملنی چاہیے کہ ہمیں تجویز کردہ ادویات کے بارے میں کیسی سوچ رکھنی ہے۔ جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو ڈاکٹر سے مدد لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادویات کو مخصوص انداز میں لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیا تجویز کردہ ادویات سے خدشات اور مضر اثرات وابستہ ہوتے ہیں؟ ہاں، بالکل ہیں اور ڈاکٹر اور فارماسسٹ اِن اثرات کی وضاحت کریں گے۔ کیا تجویز کردہ ادویات کا غلط استعمال، اُن کا ضرورت سے زیادہ استعمال، یا اِن پر نا مناسب انحصار ممکن ہے؟ جی ہاں ممکن ہے، اور خُدا کے لوگوں کو کبھی بھی خود کو کسی مادے کی لت میں ملوث نہیں کرنا چاہیے (1 کرنتھیوں 6باب 12آیت دیکھیں جہا ں اس اصول کو ایک مختلف سیاق و سبا ق میں بیان کیا گیا ہے)۔

آخر میں، کسی مسیحی کا تجویز کردہ ادویات کا استعمال کرنا اُس مسیحی اور خدا کا آپسی معاملہ ہے۔ بائبل ادویاتی علاج کے استعمال کا حکم نہیں دیتی، لیکن بلاشبہ یہ اس سے منع بھی نہیں کرتی۔ رُوح القدس کا مَقدس ہونے کے ناطے خدا کے فرزند کو اپنے بدن کی دیکھ بھال کرنی چاہیے (1 کرنتھیوں 3باب 16آیت )۔ اس سے مراد مدافعتی لحاظ سے دیکھ بھال کرنا، متوازن غذا کو قائم رکھنا اور مناسب ورزش کرنا ہے ۔ اس سے مراد اُس حکمت سے بھی فائدہ اٹھانا ہے جو خدا نے ماہر محققین اور طبیبوں کو بخشی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شفا دینے والا خُدا ہے، چاہے وہ کس طرح سے شفا دیتا ہے اور ہم اُس کی نام کوجلال دیتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ایک مسیحی کو تجویز کردہ ادویات کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries