settings icon
share icon
سوال

کیا کسی مسیحی کو سیاسی عہدے کے لیے انتخاب لڑنا چاہیے ؟

جواب


آیا مسیحیوں کو سیاسی عہدے کے لیے انتخاب لڑنا چاہیے یا نہیں یہ اُن" متنازعہ "مسائل میں سے ایک ہے جو سوال کے دونوں پہلوؤں کے حامیوں کی طرف سے سخت ردعمل کو ظاہر کرتے ہیں۔ مسیحیوں کے واسطے سیاسی عہد ے کے لیے انتخاب لڑنے کے تعلق سے بائبل میں کوئی براہِ راست حوالہ نہیں ہے۔ لیکن ایسے مسیحی اصول موجود ہیں جن کا اطلاق ہم سیاسی عہدہ حاصل کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے پر کر سکتے ہیں۔ عہدے کے حصول کے لیے انتخاب لڑنے کے بارے میں سوچنے والے کسی بھی شخص کا اُن اصولوں پر غور کرنا اور دعا کے ساتھ اپنی زندگی کے لیے خُدا کی مرضی تلاش کرنا بہتر ہو گا۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ممالک جہاں سیاسی عہدیداروں کا انتخاب شہریوں کی طرف سے کیا جاتا ہے وہ آزادی کو فروغ دینے والے ہوتے ہیں۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں مسیحی مظلوم اور ستائے ہوئے ہیں، ایسی حکومتوں کے ماتحت دُکھ اٹھا رہے ہیں جنہیں وہ بدلنے کی طاقت نہیں رکھتے اور جو اُن کے ایمان سے نفرت رکھتی اور اُن کی زبانوں کو بند کرتی ہیں۔ یہ ایماندار اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر یسوع مسیح کی انجیل کی منادی کرتے ہیں۔ امریکہ میں مسیحیوں کو اپنے بارے میں یا اپنے خاندان کے بارے میں خوفزدہ ہوئے بغیر اپنے رہنماؤں کے بارے میں بات کر نے اور اُن کا انتخاب کرنے کا حق دیا گیا ہے ۔

ہم جن رہنماؤں کا چناؤ کرتے ہیں وہ ہماری آزادیوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ وہ عبادت کرنے اور انجیل کی خوشخبری پھیلانے کے ہمارے حق کا تحفظ کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں یا وہ اُن حقوق پر پابندیاں لگا کر سکتے ہیں۔ وہ ہماری قوم کو راستبازی یا اخلاقی تباہی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ یقیناً جتنے زیادہ پرعزم مسیحی حکومت کا حصہ ہو ں گے- چاہے مقامی، ریاستی یا وفاقی سطح پر، ہماری مذہبی آزادیوں کی اتنی ہی زیادہ حفاظت کی جائے گی۔ سیاست میں مو جود مسیحی ثقافت میں درکار اشد ضروری تبدیلیوں کو پورا کر سکتے ہیں۔ اس کی ایک اعلیٰ مثال انیسویں صدی کا ایک انگریز سیاست دان ولیم ولبرفورس ہےجس نے اُس وقت ترقی پاتی ہوئی قابل ِ نفرت غلاموں کی تجارت کو ختم کرنے کے لیے کئی دہائیوں تک مہم چلائی تھی ۔ اُس کی مہم بالآخر کامیاب رہی اور آج اُس کی ہمت اور مسیحی اصولوں سے وابستگی کے لیے اُس کی تعریف کی جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک قدیم کہاوت بھی ہے: "سیاست ایک گندا دھندا ہے۔" سیاست دان ،حتیٰ کہ بہترین مقاصد کے حامل سیاست دان بھی ایسے نظام کے ہاتھوں بدعنوان ہونے کے خطرے میں ہوتے ہیں جو طاقت اور اقتدار سےمنسلک ہے۔ سیاسی عہدے پر فائز افراد کی،خاص طور پر وہ جو وفاقی سطح پر ہوتے ہیں ، ایسےلوگ مدد کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں جو اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش میں اُن کی حمایت حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ جہاں بھی پیسہ اور طاقت بکثرت ہوتے ہیں وہاں لالچ اور حرص بھی ہمیشہ قریب ہی ہوتے ہیں۔ دنیاوی سیاسی نظاموں میں شامل مسیحیوں کے لیے بڑا خطرہ ہے ، اُنہیں اِس دُنیا کی فکر نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایک مسیحی کے طور پر مناسب انداز سے اِس دُنیا میں رہنے کی فکر ہونی چاہیے۔ یہ بات کہ " بُری صحبتیں اچھّی عادتوں کو بِگاڑ دیتی ہیں " (1 کرنتھیوں 15باب 33آیت) غالباً سیاسی اقتدار کی نشست گاہوں کی نسبت زندگی کے کسی بھی اور معاملے میں اتنی سچ نہیں ہے ۔

خداوند یسوع نے فرمایا ہے کہ اُس کی بادشاہی اِس دنیا کی نہیں ہے (یوحنا 18باب 36آیت)۔ مسیح کی بادشاہی اُن زمینی سیاسی نظاموں یا ملکی حکومتوں سے منسلک نہیں ہے جو سب کے سب خدا کے خلاف بغاوت کی حالت میں ہیں۔ دنیا کے مسیحیوں کو جس چیز میں دلچسپی لینی چاہیے وہ دنیا وی نہیں بلکہ رُوحانی عالم ہے ۔ جب تک مسیحی یاد رکھیں گے کہ ہمیں زمین پر مسیح کے ایلچی بننا ہے تب تک اُن کے سیاست میں شامل ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ یہ ہماری ملازمت کا مرکزی حصہ ہے اور ہمارا مقصد دوسروں سے درخواست کرنا ہے کہ وہ یسوع کے وسیلہ سے خُدا سے میل ملاپ کر لیں (2 کرنتھیوں 5باب 20آیت)۔

لہذا کیا کسی مسیحی کو سیاسی عہدے کے لیے انتخاب لڑنا چاہیے؟ اس سوال کے لیے کچھ مسیحیوں کا جواب ہے قطعی نہیں جبکہ دوسروں کا ہےیقیناً، ہاں۔ یہ ایک ذاتی فیصلہ ہے جو دعا اور اُس حکمت کا تقاضا کرتاہے جو صرف خدا ہی فراہم کر سکتا ہے اور جو وہ اُن لوگوں کو دینے کا وعدہ کرتا ہے جو حقیقی معنوں میں اُس کی تلاش کرتے ہیں (یعقوب 1باب 5آیت)۔ مسیحی سیاست دانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ خُداوند کے لیے اُن کے فرض کو اُن کے سرکاری فرائض پر مقدم ہونا چاہیے۔ پولس رسول ہمیں بتاتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں ہمیں خُداوند کے جلال کے لیے کرنا ہے نہ کہ اپنے جلال کے لیے (1 کرنتھیوں 10باب 31آیت ؛ کلسیوں 3باب 17آیت )۔ اگر کوئی مسیحی عہدہ پانے کا خواہشمند ہے تو ایسا صرف اُس صورت میں ہونا چاہیے جب وہ اس عہدے کے فرائض کو خدا کے جلال اور مسیحی اصولوں سےسمجھوتہ کیے بغیر وفاداری سے انجام دے سکتا ہو ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا کسی مسیحی کو سیاسی عہدے کے لیے انتخاب لڑنا چاہیے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries