settings icon
share icon
سوال

کیا ایک مسیحی کو فلسفے کا مطالعہ کرنا چاہیے ؟

جواب


لفظ فلسفہ ایک یونانی لفظ philosophia/فِلوسوفیا سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں "حکمت کے لیے محبت" ۔ فلسفے کا مطالعہ عقلی دلیل اور تنقیدی سوچ کو استعمال کرنے کے بارے میں ہے تاکہ انسان اپنے ارد گرد کی دنیا یعنی جسمانی دنیا اور خیالات کی تجریدی دنیا دونوں کے بارے میں سوچنے اور جاننے اور سمجھنے کے انداز کا تجزیہ کر سکے۔ایسے سوالات فلسفیانہ ہیں جیسے کہ "حقیقت کیا ہے؟"، "کیا سچائی کو جانا جا سکتا ہے" اور"خوبصورتی کیا ہے؟" خُدا سے محبت کرنے والے اور یسوع مسیح پر ایمان رکھنے والے ایک مسیحی کے طور پر ہمیں حکمت سے محبت کرنی چاہیے (امثال 4باب 6 آیت؛ 7 باب 4 آیت)، اِس لیے ایک مسیحی کے لیے فلسفے کا مطالعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فلسفے کا مطالعہ ایک اچھی اور مناسب چیز ہے کیونکہ یہ سچائی کے حصول کو آگے بڑھاتا ہے۔ واعظ کی کتاب فلسفیانہ معاملات پر گہرائی کے ساتھ غور کرتی ہے ۔ یہ کتاب پہلے مختلف طرح کے دُنیاوی فلسفوں سے نمٹتی ہے اور پھر یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ ایک ایسا فلسفہ جو خُدا کا خوف مانتا اور اُس کی تابعداری کرتا ہے وہی بہترین ہے (واعظ 12باب13 آیت)۔

خُدا، ابدیت اور خُدا پرست زندگی کے متعلق تمام ضروری سوالات کا جواب بائبل مُقدس کے اندر دیا گیا ہے۔ تاہم تعلیمی مطالعے کے شعبے کے طور پر فلسفہ دُنیا کے ساتھ کسی شخص کے معاملات میں روشن خیال اور فائدے کا باعث ہو سکتا ہے۔ اِس بات کا مطالعہ کرنا دلچسپ بات ہے کہ کس طرح کچھ لوگوں نے کائنات میں حقیقت کی نوعیت اور اُس کے مقصد (یا اُسکی کمی) کے بارے میں برسوں تک غورو فکر کیا۔ یہ جاننا بھی دلچسپ ہے کہ تاریخ میں مختلف فلسفوں نے اکثر بائبلی سچائیوں پر ضرب لگائی ہے، ہاں اگرچہ ایسا بعض اوقات نا دانستہ طور پر ہوا ہے۔

انسانوں کے مختلف فلسفوں کی تفہیم انجیل کی بشارت میں ایک بہت قیمتی آلہ ہے۔ فلسفہ یہ جاننے میں مدد کرتا ہے کہ "لوگ کہاں سے آ رہے ہیں " اور یہ چیز ہمیں اِس بات کا اندازہ لگانے میں مدد کرتی ہے کہ وہ ایسا کیوں سوچتے ہیں۔ کیا وہ شخص سپنوزا کے پینتھی ازم کا حامی ہے؟ کیا وہ ہابز کو پڑھتا ہے؟ کیا اُس کا جھکاؤ عقلیت پسندی، نسبتیت ، یا وجودیت کی طرف ہے؟ فلسفے کا کچھ علم رکھنے والا مبشر ایسے لوگوں کے ساتھ آسانی کے ساتھ بات چیت کر سکتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ایسے لوگ کیوں ایسی باتیں کرتے ہیں اور جو وہ سوچتے ہیں وہ کیوں سوچتے ہیں؟پولس رسول کی زندگی سے ہمیں اِس کی ایک بڑی مثال ملتی ہے کیونکہ یونانی تحریروں سے واقفیت کی وجہ سے وہ اتھینے میں مارس ہِل پر فلسفیوں سے اچھی طرح بات کرنے میں کامیاب رہا (اعمال 17باب28 آیت)۔ اُس نے ططس میں اپنی بات کو موثر طور پر بیان کرنے کے لیے کریتے کے ایک فلسفی کی بات کا حوالہ بھی دیا تھا (ططس 1 باب 12آیت)۔

ایمان کو اکثر ایک "غیر فکری" دوڑ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو ذہن کے ساتھ نہیں دوڑی جاتی بلکہ رُوح اور دِل کے ساتھ دوڑی جاتی ہے۔ بہت سارے لوگ – حتیٰ کہ کئی ایک مسیحی بھی یہ کہتے ہیں کہ ایمان عقل کے خلاف ہے، گویا ایمان لازمی طور پر غیر منطقی ہے یا پھر یہ دانشوری کا مخالف ہے۔ اگر کسی کو ایمان کی سمجھ نہیں آتی تو یہ ٹھیک ہے۔ لیکن بائبل خُدا پر اور اُس کے کلام پر ایمان کو ایک مضبوط حقیقت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ہم اُس پر ایمان رکھتے ہیں جو حقیقی ہے؛ اور ہمارے ایمان کی بنیاد ایسے غیر معمولی حقائق کے عینی شاہدین کے ذریعے ریکارڈ کئے گئے تاریخی واقعات پر رکھی گئی ہے۔ لوقا خُداوند یسوع مسیح کے جی اٹھنے کے بارے میں بہت ہی قائل کرنے والے ثبوتوں کے متعلق لکھتا ہے (لوقا 1باب3آیت)۔ خُداوند یسوع مسیح کی خدمت "کسی کونے میں نہیں ہوئی تھی" جیسا کہ پولس ایک متشکک بادشاہ کے سامنے یہ بات بیان کرتا ہے (اعمال 26باب26 آیت)۔

اِس تصور کی جڑیں قدیم دور میں پیوست ہیں جو بیان کرتا ہے کہ ایمان اور عقل باہمی طور پر متصادم ہیں۔ یونانی ثقافت ، فلسفے کی جائے پیدایش مسیحی پیغام کو نہیں سمجھ سکتی تھی اور اُنہیں یہ پیغام بالکل غیر منطقی لگتا ہے۔ جیسا کہ پولس نے کہا ہے کہ "مگر ہم اُس مسیحِ مصلُوب کی مُنادی کرتے ہیں جو یہُودیوں کے نزدِیک ٹھوکر اور غَیر قَوموں کے نزدِیک بیوُقُوفی ہے " (1 کرنتھیوں 1باب23آیت) – یہ فلسفے کی حدود کے بارے میں ایک انتباہ ہے۔ انسان کا بنایا ہوا فلسفہ اگرچہ اپنے آپ میں ایک تعلیمی میدان ہے، لیکن یہ کبھی بھی اپنے طور پر انجیل کی خوشخبری کی سچائی تک نہیں پہنچ سکتا۔ پولس نے "جس عِلم کو عِلم کہنا ہی غلط ہے " (1 تیمتھیس 6باب20 آیت) یا "نام نہاد علم" پر غور کرنے کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے۔ لادین فلسفے کا ایک زیادہ ترک حصہ اِسی زُمرے میں آتا ہے۔ ہمیں سچائی کو دیکھنے کے لیے خُدا کے مکاشفے کی ضرورت ہے۔ "اِیمان ہی سے ہم معلوم کرتے ہیں " (عبرانیوں 1باب3آیت)۔

بائبل کی صورت میں خُدا کے مکاشفے کی مدد کے بغیر انسان اپنی فطری حالت میں خُدا کے رُوح کی چیزوں کو نہیں سمجھ سکتا (1 کرنتھیوں 2باب14-16 آیات)۔ حکمت انسان کے فطری ذہن سے نہیں آتی کیونکہ انسان کا ذہن اور اُس کی عقل و حکمت گناہ میں گری ہوئی ہے اور اِس لیے وہ اصل حکمت سے دور ہے۔ مطلب یہ کہ انسان گناہ سے متاثر ہو چکا ہے۔ حکمت خُدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے (یعقوب 1باب5 آیت)۔ کسی انسان کے لیے صحیح معنوں میں عقل و شعور کے ساتھ سوچنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ حکمت کے حتمی ماخذ اور سرچشمے سے متعارف ہو جو کہ خود خُدا کی ذات ہے۔ ہمیں مسیح کی "عقل" کی ضرورت ہے (1 کرنتھیوں 2باب 16 آیت) ہمیں اپنے فہم پر تکیہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ خُداوند پر توکل کرنے کی ضرورت ہے (امثال 3باب 5-6 آیات)۔

مسیحی فلسفے کا مطالعہ کر سکتے ہیں اور اُنہیں ایسا کرنا بھی چاہیے۔ لیکن زندگی کی باقی ساری چیزوں کی طرح اُن کی طرف سے یہ مطالعہ بھی خُدا کی تابعداری میں رہتے ہوئے کیا جا نا چاہیے۔ فلسفے کو خُد اکی طرف سے ظاہر کردہ باتوں کی سچائی کی بنیاد پر کسی کو قائل کرنے کے لیے خوبصورت اور روشن دلائل دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، یا پھر اِسے گناہ میں گرے ہوئے ایسے ذہن کو جو اپنے خالق کی بجائے خود پر بھروسہ کرتا ہے تباہ کرنے اور مزید الجھانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم صدیوں سے مسیحی فلسفیوں جیسے کہ اگسٹن، ایکوائنس، کیلون ، کیرکیگارڈ اور دیگر کے لیے خُداوند کا شکر ادا کرتے ہیں جنہوں نے فلسفے کی دُنیا پر بہت مثبت اثر ڈالا اور لوگوں کی سچائی کی طرف رہنمائی کی۔ ہم سی۔ ایس۔ لوئیس، ایلون پلانٹنگا، نارمن گائزلر، فرانسس شیفر اور ولیم لین کریگ جیسے زیادہ جدید مفکرین کے بھی بہت زیادہ مقروض ہیں جنہوں نے فلسفے کے مطالعے کے ذریعے سے مسیحی الٰہیات کو بہت بڑی حیثیت میں ثابت کرنا جاری رکھا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا ایک مسیحی کو فلسفے کا مطالعہ کرنا چاہیے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries