settings icon
share icon
سوال

مسیحی تصوف کیا ہے ؟

جواب


مسیحی تصوف/علمِ باطنیت جیسی اصطلاح کی وضاحت کرنا ایک مشکل کام ہے۔ اِسے اکثر خُدا کی ذات کے تجرباتی علم کی مشق خیال کیا جاتا ہے۔ اِس اصطلاح کا اطلاق رومن کیتھولک ازم میں پاک یوخرست کے بھید کے ساتھ کلام کے نام نہاد پوشیدہ مفہوم پر بھی ہو سکتا ہےجیسے کہ غناسطیت۔ بائبل کے کوئی بھی پوشیدہ معنی نہیں ہیں، اور نہ ہی پاک شراکت کے اندر استعمال ہونے والی اشیاء یسوع مسیح کا حقیقی بدن اور خون بن جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ مسیحی خُدا کا تجربہ کرتے ہیں، مسیحی تصوف/علمِ باطنیت تجرباتی علم کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتا، پُر اسراریت سے لطف اندوز ہونے کا رجحان رکھتا اور رُوحانی نشوونما کے لیے تصوف پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ بائبلی مسیحیت خُدا کے بارے میں جاننے کے لیے اُس کلام پر اور اُس کے ساتھ رفاقت کے لیے رُوح القدس پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ تصوف/علمِ باطنیت ایک انفرادی/شخصی عمل کی طرف مائل ہوتا ہے جبکہ بائبلی مسیحیت خُدا کے ساتھ انفرادی تعلق بھی ہے اور اِس کے ساتھ کلیسیائی لحاظ سے اجتماعی تعلق بھی ہے۔ ایک تنہا مسیحی جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ ہر ایک وہ چیز جسے "مسیحی تصوف/علمِ باطنیت" خیا ل کیا جاتا ہے غلط نہیں ہے، لیکن اِس کا زیادہ تر حصہ غلط ہے، اور کسی بھی شخص کی طرف سے تصوف/علمِ باطنیت پر ہی توجہ اُس کی غلطی کی طرف رہنمائی کر سکتی ہے۔

تصوف/علمِ باطنیت کو بہت سارے مذاہب کے اندر دیکھا جا سکتا ہے۔ اکثر اِس میں کسی نہ کسی قسم کا سنیاسی پن شامل ہوتا ہے جس کے ذریعے خُدا کے ساتھ اتحاد کی کوشش کی جاتی ہے۔ خُدا کے قریب آنے کی خواہش رکھنا یقینی طور پر ایک درست بات ہے، لیکن خُدا کے ساتھ کسی قسم کا پُر اسرارتعلق اُس قربت سے فرق ہے جس کے لیے مسیحیوں کو بلایا جاتا ہے۔ تصوف/علمِ باطنیت اِس تجربے کو تلاش کرنے کا رجحان رکھتا ہے اوربعض اوقات ایسا تجربہ رکھنے والوں کو خفیہ یا اشرافیہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مسیحی رُوحانی حقائق سے واقف بھی ہیں اور اُن میں مصروفِ عمل بھی ہیں (افسیوں 1باب 3 آیت؛ 6باب10-19 آیات)، بائبلی مسیحیت میں بھی رُوحانی تجربہ شامل ہے لیکن خُدا کے ساتھ قربت حاصل کرنے کا ارادہ تمام مسیحیوں کا ہوتا ہے اور اِس قربت کو کسی بھی خفیہ مشق کے ذریعے سے چھپایا نہیں جاتا۔ خُدا کے قریب ہوناکسی طرح سے کوئی پُراسرار عمل نہیں ہے اور نہ ہی ایسا تجربہ رکھنے والے اشرافیہ ہوتے ہیں۔ بلکہ اِس میں بلاناغہ دُعاکرنا، خُدا کے کلام کا مطالعہ کرنا، اُسکی پرستش کرنا اور دوسرے ایمانداروں کے ساتھ رفاقت رکھنا شامل ہے۔ جو کام خُدا خود ہمارے لیے کرتا ہے اُس کے مقابلے میں ہماری اپنی کوششیں پیلی پڑ جاتی ہیں۔ درحقیقت ہماری تمام طرح کی کوشش دراصل اُس سب کا رَدعمل ہے جو خُدا نے ہم سب کی زندگیوں میں پہلے سے کر دیا ہے۔

مسیحیوں کے بھی ایسے کچھ تجربات ہیں جنہیں پُر اسرار تجربات سمجھا جا سکتا ہے۔ جب ہم خُداوند یسوع کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتے ہیں تو رُوح القدس ہمارے اندر آ کر بس جاتا ہے۔ رُوح القدس ہماری ذات کو تبدیل کرتا اور ہمیں خُدا کی طرف سے بلاہٹ کے مطابق جینے کے قابل بناتا ہے۔ رُوح القدس سے معمور شخص اکثر بڑی حکمت، ایمان یا رُوحانی تفہیم کا مظاہرہ کرے گا۔ رُوح القدس سے معمور ایک مسیحی مُحبّت ۔ خُوشی ۔ اِطمِینان۔ تحمل ۔ مہربانی ۔ نیکی ۔ اِیمان داری۔حلم ۔ پرہیزگاری جیسی چیزوں کا مظاہرہ کرے گا (گلتیوں 5باب22-23 آیت)۔ رُوح القدس ایمانداروں کو سچائی کو سمجھنے اور اُسے زندہ رکھنے میں مدد دیتا ہے (1 کرنتھیوں 2باب13-16 آیات)۔ یہ سب کچھ کسی طرح کی پُر اسرار مشقوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ کسی بھی شخص میں رُوح القدس کی موجودگی کی علامت ہے۔ 2 کرنتھیوں 3باب18 آیت ہماری زندگیوں میں رُوح القدس کے کام کے بارے میں بات کرتی ہے:" مگر جب ہم سب کے بے نقاب چہروں سے خُداوند کا جلال اِس طرح مُنعکِس ہوتا ہے جس طرح آئینہ میں تو اُس خُداوند کے وسیلہ سے جو رُوح ہے ہم اُسی جلالی صُورت میں دَرجہ بَدرجہ بدلتے جاتے ہیں۔ "

مسیحیت کے اندر کرشماتی تحریک خوابوں اور رویاؤں، احساسات اور تجربات اور نئے مکاشفہ جات پر زور دینے کی وجہ سے مسیحی تصوف/علمِ باطنیت کی ایک شکل ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس خُدا کا مکمل کلام ہے، اِس لیے ہم خوابوں اور تصورات یا خُدا کی طرف سے اضافی مکاشفہ کو تلاش کرنے والے نہیں ہیں۔ اگرچہ آج خُدا کے لیے خود کو خوابوں اور تصورات میں ظاہر کرنا ممکن ہے، ہمیں احساسات اور رُوحانی تاثرات کی شخصی نوعیت سے خبردار رہنا چاہیے۔

اِس بات کو یا رکھنا بہت ہی زیادہ ضروری ہے کہ ایک مسیحی جو کوئی بھی تجربہ کرتا ہے اُسے بائبل مُقدس کی سچائی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ خُدا خود اپنی ذات سے متصادم نہیں ہوگا۔ وہ ابتری کا خُدا نہیں ہے (1 کرنتھیوں 14باب33 آیت)۔ بلاشبہ خُدا کی ذات ہمارے فہم و عقل سے بالا ہے اور اُس کی ذات کے بارے میں ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جو ہم سے چھپی ہوئی ہیں۔ لیکن اُس نے خود کو ہم پر ظاہر کر دیا ہے۔ پُر اسرار تجربات کے پیچھے بھاگنے کی بجائے ہمیں اپنے آپ کو ایسی چیزوں میں مصروف کرنا چاہیے جو خُدا نے ہم پر ظاہر کی ہیں (اِستثنا 29باب29 آیت)۔ افسیوں 1باب3-14 آیات مسیح یسوع کی ذات میں رُوحانی برکات کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ ایک حصے میں یہ حوالہ کہتا ہے کہ ، " چُنانچہ اُس نے اپنی مرضی کے بھید کو اپنے اُس نیک اِرادہ کے مُوافق ہم پر ظاہِر کِیا ۔ جسے اپنے آپ میں ٹھہرا لِیا تھا۔تاکہ زمانوں کے پُورے ہونے کا اَیسا اِنتِظام ہو کہ مسیح میں سب چیزوں کا مجمُوعہ ہو جائے ۔ خواہ وہ آسمان کی ہوں خواہ زمین کی " (9-10 آیات)۔خُدا نے ہم پر بھیدوں کو ظاہر کیا ہے اور وہ اپنےمنصوبے کی تکمیل کے لیے ہمیں اپنے حضور وفاداری کے ساتھ چلنے کے لیے بلاتا ہے (یوحنا 15باب1-17 آیات؛ فلپیوں 3باب20-21 آیات؛ 2 کرنتھیوں 5باب 16-21 آیات)۔

2 پطرس 1باب3-8 آیات اِس ساری بات کا بڑی خوبصورتی کے ساتھ خلاصہ کرتی ہیں:" کیونکہ اُس کی اِلٰہی قُدرت نے وہ سب چیزیں جو زِندگی اور دِین داری سے مُتعلق ہیں ہمیں اُس کی پہچان کے وسیلہ سے عنایت کیں جسں نے ہم کو اپنے خاص جلال اور نیکی کے ذرِیعہ سے بُلایا۔جن کے باعث اُس نے ہم سے قیمتی اور نہایت بڑے وعدے کئے تاکہ اُن کے وسیلہ سے تُم اُس خرابی سے چُھوٹ کر جو دُنیا میں بُری خواہش کے سبب سے ہے ذاتِ اِلٰہی میں شرِیک ہو جاؤ۔پس اِسی باعث تُم اپنی طرف سے کمال کوشِش کر کے اپنے اِیمان پر نیکی اور نیکی پر معرفت۔اور معرفت پر پرہیزگاری اور پرہیزگاری پر صبر اور صبر پر دِین داری۔اور دِین داری پر برادرانہ اُلفت اور برادرانہ اُلفت پر مُحبّت بڑھاؤ۔کیونکہ اگر یہ باتیں تم میں مَوجُود ہوں اور زِیادہ بھی ہوتی جائیں تو تم کو ہمارے خُداوند یسُو ع مسیح کے پہچاننے میں بے کار اور بے پھل نہ ہونے دیں گی۔ " اِس میں بھید کی بات تو ہے، لیکن پھر بھی جس طرح سے ہمیں جینے کے لیے بلایا گیا ہے اُس میں کچھ بھی پُر اسرار نہیں ہے۔ خُدا کے کلام کا مطالعہ کریں، خُدا کی تعظیم کریں اور اُس کے رُوح القدس کو اپنی ذات میں کام کرنے دیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیحی تصوف کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries