settings icon
share icon
سوال

ایک مسیحی جوڑے کو ازدواجی زندگی کے حوالے سے کب مشورت/صلاح کاری حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ؟

جواب


اپنی ازدواجی زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنے والے کسی بھی جوڑے کو اس حوالے سے جلد سے جلد مشورت حاصل کرنی چاہیے۔ ہر شادی میں ایسےپیچ و خم آتے ہیں جن سے اگر صحیح طریقے سے نمٹنا نہ جائے تو وہ ایسی وسیع خلیج کا باعث ہو سکتے ہیں جن پر کوئی پُل باندھنا نا ممکن ہوتا ہے ۔ اپنے ازدواجی رشتے کو پہلے پہل بچانے کے لیے اکثر کوئی جوڑا یا تو اپنے تکبر یا شرمندگی کی وجہ سے مسائل کے حوالے سے مدد کی تلاش نہیں کرتا۔ وہ اُس وقت تک انتظار کرتے ہیں جب تک شادی کو اس حد تک نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے کہ وہ ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ جاتی ہے اور صلاح کار اس بارے میں بہت کم مدد کر پاتا ہے ۔ امثال 11باب 14آیت فرماتی ہے کہ "نیک صلاح کے بغیر لوگ تباہ ہوتے ہیں لیکن صلاح کاروں کی کثرت میں سلامتی ہے"۔ جب اکیلے لڑنے کے لئے ہمیں بہت بڑی لڑائیوں کا سامنا ہو تو عقلمند لوگ دانشمندانہ صلاح حاصل کرنے کی تلاش کرتے ہیں۔

ازد واجی زندگی میں بار بار رونما ہونے والے مسائل سڑک کے کنارے پر لگے سائن بورڈ کی مانند ہیں جو آنے والے خطرے کے بارے میں خبردار کرتی ہیں۔ اُن میں سے کچھ علامات درج ذیل ہیں:

• کشمکش کو صحت مند انہ طریقے سے حل کرنے کی ناقابلیت۔
• کسی ایک شریکِ حیات کا تعلقات پر اس قدر غالب ہونا کہ دوسرے کی ضروریات پوری نہ ہوں۔
• مفاہمتی رویہ اختیار کرنے میں ناکامی۔
• مسائل کے "حل "کے لیے کسی ایک شریکِ حیات کا شادی کے عہد سے باہر نکل جانا۔
• باہمی رابطے کا منقطع ہونا۔
• ازدواجی رشتے میں ہر شریک حیات کے کردار کے بارے میں الجھن۔
• فحش نگاری۔
• دھوکا بازی ۔
• والدین کے طرز عمل کے بارے میں اختلاف۔
• نشہ بازیاں۔
جب کوئی جوڑا اِن انتباہی علامات میں سے کسی ایک کی بھی نشاندہی کرتا ہے تو خدا ترس مشورت کی تلاش کرنا عقلمندی کی بات ہوتی ہے۔ تاہم تمام صلاح کاری جو "مسیحی" معلوم ہوتی ہے خدا کے کلام کی سچائی پر مبنی نہیں ہوتی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ دوست اور خاندان کے لوگ بھی صلاح کاری کا اچھا ذریعہ ثابت ہوں لیکن وہ ایسے غیر بائبلی حل پیش کر سکتے ہیں جو فقط الجھن کا باعث بن سکتے اور مسئلے کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ کسی صلاح کار کا انتخاب کسی مرد یا عورت کے فلسفے اور جذباتی صحت مندی کی بنیاد کے برعکس ، کلام مقدس سے لگاؤ کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے ۔ بہت سی ناخوشگوار کہانیاں ایسے لوگوں کی ہیں جنہوں نے اُن لوگوں سے صلاح حاصل کرنے کی کوشش کی جن پر وہ بھروسہ کرتے تھے اورجو محض "بھیڑوں کے بھیس میں ۔۔۔۔پھاڑنے والے بھیڑیے "ثابت ہوئے (متی 7باب 15آیت) اور جنہوں نے گناہ کے لیے عذر پیش کیا اور غلط شریک حیات کو اُس کی طرف "مائل" ہونے کی نصیحت کی ہے ۔

اس سے پہلے کہ اِن پر وقت اور پیسہ ضائع کیا جائے، ابتدائی انٹرویو میں کئے گئے چند سوالات ان میں سے کچھ "بھیڑیوں" کو خارج کر سکتے ہیں ۔ صلاح کاروں کے حوالے سے کھوج کرنے والے جوڑوں کو درج ذیل باتوں پر غور کرنا چاہیے:

کیا یہ صلا ح کار مسیحی صلاح کاروں کی قومی تنظیموں جیسے کہ AACC (American Association of Christian Counselors)، NCCA (National Christian Counselors Association) یا NANC (National Association of Nouthetic Counselors) میں سے کسی ایک سے وابستہ ہے؟

صلاح کار نے اپنی تربیت یا سند کہاں سے حاصل کی؟ اگر صلاح کار نے کسی بے دین تنظیم یا یونیورسٹی کی بجائے مسیحی صلاح کاری نظام کے ذریعے تربیت حاصل کر رکھی ہے تو اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ آپ کو بائبل پر مبنی صلاح حاصل ہو گی ۔ ریاست کی طرف سے ملنے والی سند اِس بات کی یقین دہانی نہیں کرواتی کہ آپ کو بہتر مشاورت ملے گی ۔ مقامی پادریوں، کلیسیا کے عام صلاح کاروں اور معاون گروہوں کی طرف سے بہترین بائبلی مشورت مل سکتی ہے۔

کیا اِس صلاح کارکو مخصوص مسائل سے نمٹنے کا تجربہ حاصل ہے؟ "فحش نگاری کی لت کے حوالے سے آپ کا نقطہ نظر کیا ہے؟" اس طرح کے چند اہم سوالات آپ کی یہ فیصلہ کرنے میں مدد کریں گے کہ آیا آپ اِس صلاح کار کے نقطہ نظر سے متفق ہیں یا نہیں۔

کیا آپ اس صلاح کار کے فلسفے اور/یا مذہبی وابستگی سے متفق ہیں؟ ایسے گروہ اور فرقے موجود ہیں جو "مسیحی " صلا ح کاری مہیا کرنے کے دعویدار ہیں لیکن وہ جوڑے کے اقرارِ الایمان سے اس قدر ہٹ کر ہو سکتے ہیں کہ اُن سے مشورت حاصل کرنا فائدہ مند نہیں ہوتا ۔ کسی صلاح کار کا جوڑے کی طرف سے اپنے مذہبی ڈھانچے کے مطابق انتخاب کرنا مشورت کو زیادہ موثر بنا سکتا ہے۔

ایسا کوئی اصول نہیں جو بہترین نتیجے کا وعدہ کر سکے، لیکن اِن سوالات پر غور کرنے سے معاملات کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ خدا شادی کے حق میں ہے؛ وہ طلاق سے بیزار ہے (ملاکی 2باب 16آیت )۔ کسی جوڑے کا پہلا قدم خدا سے یہ التجا کرنا ہونا چاہیے کہ وہ کسی صحیح صلاح کار تک پہنچنے میں اُن کی رہنمائی کرے ۔ اس عمل میں تھوڑی بہت جد و جہد کرنی پڑ سکتی لیکن کسی ایسے صلاح کارکی تلاش کرنا جو پریشان کن ازدواجی زندگی کے لیے خدا ترس حکمت مہیا کر سکتا ہو، کسی بھی جد و جہد کے لائق ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ایک مسیحی جوڑے کو ازدواجی زندگی کے حوالے سے کب مشورت/صلاح کاری حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries