settings icon
share icon
سوال

مسیحی قیادت کیا ہے ؟

جواب


مسیحی قیادت کیا ہے؟ ایک مسیحی قائد /لیڈر کیسا ہونا چاہیے؟ مسیحی قیادت کے لیے ہمارے خُداوند یسوع سے بہتر کوئی مثال نہیں ہے۔ اُس نے اعلان کیا تھا کہ "اچھا چرواہا مَیں ہوں۔ اچھا چرواہا بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتا ہے " (یوحنا 10باب11آیت)۔ اِسی آیت کے اندر ہم ایک مسیحی قائد کی شخصیت کی کامل تعریف پاتے ہیں۔ وہی ایسی ذات ہے جو اُن بھیڑوں کے لیے ایک چرواہے کا کردار ادا کرتا ہے جو اُس کی حفاظت میں دی گئی ہیں۔

جس وقت یسوع نے ہماری طرف بطورِ "بھیڑ" اشارہ کیا تو وہ یہ بات پیار بھرے الفاظ میں نہیں کر رہا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ بھیڑوں کا شمار کم عقل ترین جانوروں کے درمیان میں ہوتا ہے۔ ایک بھٹکی ہوئی بھیڑ جو اپنے ریوڑسے آواز کی پہنچ کی دور پر ہو وہ اِس قدر گمراہ، الجھن کا شکار اور خوفزدہ ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے ریوڑ کے پاس پہنچنے کا راستہ تلاش کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ بھوکے شکاریوں سے بچنے سے قاصر، بھٹکی ہوئی یہ بھیڑ شاید تمام مخلوقات سے زیادہ بے بس ہوتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ بھیڑوں کے پورے ریوڑ ایسی صورت میں بھی سیلاب میں ڈوب کر مر گئے تھے حالانکہ اُن کے بچنے کے لیے کچھ اونچے مقام اُن کے نظروں کے سامنے بھی اور قابلِ رسائی بھی تھے۔ ابھی آپ اِس بات کو پسند کریں یا نہ کریں، حقیقت یہی ہے۔ جب یسوع نے ہمیں اپنی بھیڑ قرار دیا تو وہ دراصل کہہ رہا تھا کہ چرواہے کے بغیر ہم بے بس ہیں۔

چرواہا وہ ہے جس کے اپنی بھیڑوں کے تعلق سے کئی ایک کردار ہوتے ہیں۔ وہ اُن کی رہنمائی کرتا، اُنہیں چراتا، اُنکی پرورش کرتا، اُنہیں آرام کرواتا، اُنکی اصلاح کرتا اور اُنکی حفاظت کرتا ہے۔ خُداوند کی بھیڑوں کا چرواہاایک قابلِ نمونہ خُدا پرستی اور راستبازی کو اپنی زندگی میں اپنا کر قیادت کرتے ہوئے دوسروں کی اِس بات میں حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اُسکی پیروی کریں۔ یقینی طو رپر ہماری حتمی مثال جس کی ہمیں پیروی کرنی چاہیے خود یسوع مسیح کی ذات ہے۔ پولس رسول نے یہ بات اِس بات کو سمجھ لیا اِس لیے وہ کہتا ہے کہ "تم میری مانِند بنو جیسا مَیں مسیح کی مانِند بنتا ہوں " (1 کرنتھیوں 11 باب1 آیت)۔ مسیحی قائد /لیڈر وہ ہے جو مسیح کی پیروی کرتا ہےا ور دوسروں کو بھی مسیح کی پیروی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

مسیحی قائدبھیڑوں کو چرانے والا اور اُن کی پرورش کرنے والا ہوتا ہے۔ اور بھیڑوں کی حتمی خوراک "خُدا کا کلام ہے۔"جس طرح ایک چرواہا اپنے ریوڑ کو سب سے زیادہ سرسبز و شاداب چراگاہ کی طرف لے جاتا ہے تاکہ اُس کی بھیڑیں بڑھتی اور پھلتی پھولتی رہیں، اُسی طرح ایک مسیحی رہنما/قائداپنے ریوڑ کی پرورش صرف ایک ہی خوراک پر کرتا ہے جو مضبوط اور متحرک مسیحیوں کو پیدا کرتی ہے۔ بائبل –نفسیات یا اِس دُنیا کی حکمت نہیں ہے – اور یہی وہ واحد غذا ہے جو صحت مند مسیحی پیدا کر سکتی ہے۔ "اِنسان صرف روٹی ہی سے جیتا نہیں رہتا بلکہ ہر بات سے جوخُداوند کے مُنہ سے نکلتی ہے وہ جیتا رہتا ہے " (اِستثنا 8باب3 آیت)۔

مسیحی قائد اپنی بھیڑوں کو تسلی دیتا ہے، اُن کے زخموں کو باندھتا ہےاور اُن پر ہمدردی اور محبت کا مرہم لگاتا ہے۔ اسرائیل کے عظیم چرواہے کے طور پر خُداوند نے خود وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ (مَیں) " شکستہ کو باندُھوں گا اوربیماروں کو تقوِیّت دُوں گا " (حزقی ایل 14باب16 آیت)۔ آج کی دُنیا کے اندر بطورِ مسیحی ہماری رُوحوں نے بہت ساری چوٹیں کھائی ہوئی ہیں اور ہمیں درد مند قائدین کی ضرورت ہے جو ہمارے ساتھ ہمارا بوجھ اُٹھائیں، ہمارے حالات سے ہمدردی کریں، ہماری طرف صبر کا مظاہرہ کریں، کلام کے وسیلے سے ہماری حوصلہ افزائی کریں اور ہمارے خدشات و تحفظات کو باپ کے تخت کے سامنے لائیں۔

جس طرح چرواہے نے اپنے کھونٹے نما عصا کو اپھی بھٹکی ہوئی بھیر کو واپس اپنی جھولی میں کھینچنے کے لیے استعمال کیا تھا، اُسی طرح ایک مسیحی قائد گمراہی کا شکار ہونے پر اپنی دیکھ بھال میں رہنے والے لوگوں کی اصلاح کرتا اور اُنہیں نظم و ضبط میں لاتا ہے۔تلخی کے بغیر یاکڑواہٹ کے ساتھ نہیں بلکہ" حلم مزاجی" کے ساتھ (گلتیوں 6باب1آیت)۔ وہ جو قیادت کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں اُنہیں چاہیے کہ وہ دوسروں کی اصلاح رُوحانی اصولوں کے مطابق کریں۔ اصلاح یا نظم و ضبط کے ماتحت لایا جانا کبھی بھی کسی بھی فریق کے لیے خوشگوار تجربہ نہیں ہوتا۔ لیکن اِس معاملے میں ناکام ہونے والا مسیحی قائد اپنی دیکھ بھال میں دئیے گئے لوگوں کے لیے حقیقی محبت کا مظاہرہ نہیں کر سکتا۔ "کیونکہ خُداوند اُسی کو ملامت کرتا ہے جس سے اُسے مُحبّت ہے۔جیسے باپ اُس بیٹے کو جس سے وہ خُوش ہے " (امثال 3باب12آیت)۔ اور ایک مسیحی قائد کو خُدا کے نمونے کو اپنانا چاہیے۔

مسیحی قائد کا آخری کردار ایک محافظ کا ہے۔ وہ چرواہا جو اِس معاملے میں ڈھیلا ہو اُسے جلد ہی پتا چل جاتا ہے کہ وہ باقاعدگی اُن شکاریوں کی وجہ سے اپنی بھیڑیوں کھو رہا ہے جو اُس کے ریوڑ کے اردگرد گھومتے پھرتے ہیں اور بعض اوقات اُس کے ریوڑ کے درمیان بھی ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں شکاری وہ ہیں جو بھیڑوں کو جھوٹے نظریوں کی بدولت اصل مسیحی تعلیمات سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ بائبل کو عجیب و غریب، دقیانوسی و متروک ، ناکافی، غیر واضح اور ناقابلِ عمل قراد دیتے ہیں۔ یہ جھوٹ اُنہی لوگوں نے پھیلایا ہے جن کے حوالے سے خُداوند یسوع نے ہمیں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو جو تمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑئے ہیں۔ " (متی 7باب15آیت)۔ ہمارے قائدین کو چاہیے کہ و ہ ہمیں اُن لوگوں کی جھوٹی تعلیمات سے بچائیں جو ہمیں کلامِ مُقدس کی سچائی سے گمراہ کرتے اور اِس حقیقت سے دور لے کر جانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسیح خُداوند ہی نجات کا واحد راستہ ہے "راہ اور حق اور زندگی مَیں ہوں، کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا" (یوحنا 14باب6آیت)۔

مسیحی قیادت کے حوالے سے آخری بات جان میکارتھر کے ایک مضمون "ضرورت برائے: چند اچھے چرواہے (اُنہیں معلوم ہو کہ پاؤں کیسے دھوئے جاتے ہیں)۔

"خُدا نے کلیسیا کے لیے جو منصوبہ مقرر کیا ہے اُس کے تحت قیادت عاجزانہ، محبت بھری خدمت کا مقام ہے۔ کلیسیائی قیادت ایک خدمت ہے، انتظام نہیں۔ جن کو خُدا نے قائد قرار دیا ہے اُنہیں بادشاہوں کی طرح حکمرانی کرنے والا نہیں بلکہ ایک بہت ہی حلیم خادم کہا گیا ہے۔ کو مقبول و معروف چالاک شخصیت نہیں بلکہ ایک محنت کش نوکر۔ جو لوگ خُدا کے لوگوں کی قیادت کریں گے اُنہیں سب سے بڑھ کر قربانی ، عقیدت، تابعداری اور عاجزی کی مثال بننا چاہیے۔ خُداوند یسوع نے کود ہمیں اِس بات کی مثال اُس وقت دی جب اُس نے جھک کر اپنے شاگردوں کے پاؤں دھوئے۔ یہ ایک ایسا کام تھا جو اُس دور کے اندر روایتی طور پر سب سے کمتر غلاموں کے کرنے کا تھا (یوحنا 13باب)۔ اگر کائنات کا خالق ایسا کرتا ہے تو کلیسیا کے کسی بھی قائد کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی بڑی شخصیت کے طور پر سوچ سکے۔"

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیحی قیادت کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries