settings icon
share icon
سوال

بائبل مسیحی باپ کے کردار کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب


کلامِ مقدس کا سب سے بڑا حکم یہ ہے " تُو اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خُداوند اپنے خُدا سے مُحبّت رکھ"(استثنا6باب 5آیت)۔ اگر ہم اِسی باب کی آیت 2 کو دیکھیں تو وہاں لکھا ہے " اور تُو اپنے بیٹوں اور پوتوں سمیت خداوند اپنے خدا کا خوف مان کر اُس کے تمام آئین اور احکام پر جو مَیں تجھ کو بتاتا ہوں زندگی بھر عمل کرنا تاکہ تیری عمر دراز ہو " ۔مزید برآں اِسی باب کی 6-7آیات بیان کرتی ہیں " یہ باتیں جن کا حکم آج مَیں تجھے دیتا ہُوں تیرے دِل پر نقش رہیں۔ اور تُو اِن کو اپنی اَولاد کے ذِہن نشین کرنا اور گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے وقت اِن کا ذِکر کیا کرنا"( 6-7آیات)۔

اسرائیل کی تاریخ واضح کرتی ہے اپنے بچّوں کی رُوحانی نشوونما اور بہتری کےلیے با پ کو اُنہیں خداوند کے راستوں اور احکام کی تعلیم دینے میں سرگرم اور مستعد ہونا ہوتا تھا ۔ وہ باپ جو خداوند کے احکام کی فرمانبرداری کرتا وہ اپنے بچّوں کو بھی ایسی ہی تعلیم دیتا ۔ یہ بات امثال 22باب 6آیت کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے " لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کرجس پر اُسے جانا ہے۔و ہ بُوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مُڑے گا"۔ " تربیت" کرنے سے مراد بچّے کی وہ پہلی تعلیم وتدریس ہے جو ایک بچّے کو اُس کے باپ اور ماں کی طرف سے دی جاتی ہے ہے یعنی کہ اُس کی ابتدائی تعلیم ۔ تعلیم و تربیت کا مقصد بچّوں کو زندگی کے ایسے طور طریقے سیکھانا ہوتا ہے جن کے مطابق چلنے کی اُن سے توقع کی جاتی ہے ۔پس یوں والد کی طرف سےبچّے کی ابتدائی تعلیم و تربیت کا آغا ز کرنا نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔

افسیوں 6باب 4آیت باپ کےلیے ہدایات کا ایک ایسا خلاصہ پیش کرتی ہے جس میں منفی اور مثبت دونوں پہلو بیان کیے گئے ہیں ۔ " اور اَے اَولاد والو! تُم اپنے فرزندوں کو غُصّہ نہ دِلاؤ بلکہ خُداوندکی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر اُن کی پرورش کرو "۔ اِس آیت کا منفی پہلو نشاندہی کرتا ہے کہ باپ کو چاہیے کہ وہ سختی ، ناانصافی ، طرفداری یا اختیار کے ناجائز استعمال کی وجہ سے بچّوں میں منفی رویے کو فروغ نہ دے ۔ لفظ " غصہ " سے مراد ہے " مشتعل کرنا، خفا کرنا،غلط طور پر اکسانایا بھڑکانا" ۔ ایسا غلط طریقوں اور بُرے جذبے یعنی سختی ، نارواسلوک، بے رحم رویے ، شدت پسندی، ظالمانہ مطالبات ، غیر ضروری پابندیوں اور حاکمانہ اختیار کو قائم رکھنے کےلیے خود غرضانہ رویے پر زور دینے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ اور اِس قسم کا غصہ منفی ردعمل کو جنم دیتا ، بچّوں کے دلوں میں والدین کےلیے محبت کو ختم کرتا ، اُن کی احترام کرنے کی چاہت کو کم کرتا اور اُن کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ ممکناً طور پر اپنے والدین کو خوش نہیں کر سکتے ۔ عقل مند والد کوشش کرتا ہے کہ محبت اور نرمی کے ذریعے بچّوں کی طرف سے فرمانبرداری کو ممکن اور قابلِ حصول بنائے ۔

افسیوں 6باب 4آیت کا مثبت حصہ ایک قابل فہم نصیحت کی صور ت میں پیش کیا گیا ہے کہ اُن کو تعلیم دیں، اُن کو سیکھائیں اور خدا وند کے کلام کے مطا بق تربیت اور نصیحت دے دے کر زندگی بھر اُن کی اصلاح کریں ۔ یہ تعلیم و تربیت اور نظم و ضبط سیکھا نے کا ایک مکمل طریقہ ہے ۔ لفظ " تربیت" میں بچّے کو غلطیوں کے بارے میں (اصلاحی انداز میں ) اور فرائض (ذمہ داریوں )کے بارے میں یاد دلانے کا تصور بھی شامل ہے ۔

مسیحی باپ واقعی خدا کا ایک آلہ کار ہے ۔ تعلیم و تربیت کا تمام عمل بالکل ویسا ہی ہونا چاہیے جیسا خدا حکم دیتا اور انتظام کرتا ہے تاکہ اُس کے اختیار کو بچّوں کے دل ، ذہن اور ضمیر میں فوراً اور مستقل طور پر قائم کیا جا سکے ۔ ایک انسانی باپ کو سچائی اور ذمہ داری کے تعین کےلیے خود کو کبھی بھی حتمی اختیار کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے ۔ صرف خدا کو ہی اُستاد اور حکمران ماننے کےذریعے تعلیم و تربیت کے مقاصد کو بہتر طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے کیونکہ سب کچھ اُسی کے اختیار سے ہوتا ہے ۔

مارٹِن لوٹھر نے کہا تھا " چھڑی کے ساتھ ساتھ اپنے پاس ایک سیب بھی رکھیں تاکہ جب بچہ اچھا کام کر ے تو آپ اُس کی حوصلہ افزائی بھی کر سکیں " ۔ نظم و ضبط کی مشق بہت زیادہ احتیاط اور لگاتار تربیت اور دُعا کے ساتھ ہونی چاہیے ۔ خداوند کے کلام کے ذریعے تنبیہ ، تعلیم و تربیت اور اصلاح کرنا " نصیحت "کے عمل کا مرکز ی حصہ ہے کیونکہ یہ بچّوں کی سرزنش کے ساتھ ساتھ اُن کی حوصلہ افزائی کا باعث بھی بنتا ہے ۔ اس تعلیم و تربیت کے عمل کی ابتدا خدا کی طرف سے ہوتی ہے جو مسیحی زندگی کے تجربات سے سیکھی جاتی ہے ۔ اور اِس عمل کا انتظام والدین – خاص طور پر باپ کی طرف سے اور اُس کی رہنمائی میں ماں کی طرف سے بھی ہوتا ہے ۔ مسیحی تعلیم و تربیت بچّوں کو خدا کی تعظیم میں ترقی کرنے کے قابل بننے ، والدین کے اختیار کا احترام کرنا سیکھنے ، مسیحی زندگی کے معیار کے علم اور ضبطِ نفس کی عادات کےحصول کےلیے انتہائی ضروری ہے ۔

"ہر ایک صحیفہ جو خُدا کے اِلہام سے ہے تعلِیم اور اِلزام اور اِصلاح اور راست بازی میں تربِیّت کرنے کے لئے فائِدہ مند بھی ہے۔ تاکہ مردِ خُدا کامِل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لئے بِالکل تیار ہو جائے"(2تیمتھیس 3باب 16-17آیات)۔ ایک باپ کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچّوں کو کلام مقدس سے واقف کرے ۔ کلام کی سچائی کی تعلیم دینے کےلیے والد حضرات کی طرف سے استعمال کیے جانے والے ذرائع اور طریقہ کار میں فرق ہو سکتا ہے ۔ جب باپ اچھا نمونہ پیش کرنے میں وفادار ہوتا ہے تو بچّے خدا کے بارے میں جو کچھ سیکھیں گے وہ اُن کی تمام زمینی زندگی میں اُن کو اچھی بنیاد مہیا کرے گا پھر اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ وہ کیا کرتے ہیں اور کہاں جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی زندگیاں خُدا کی مرضی کے مطابق گزارنا سیکھ لیں گے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل مسیحی باپ کے کردار کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries