settings icon
share icon
سوال

مسیحی عقائد اِس قدر باعثِ تقسیم کیوں ہیں ؟

جواب


کچھ مسیحی لفظ "عقیدہ" کو تقریباً لعنتی لفظ سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے نزدیک سوچنے کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ "عقائد سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ عقائد مسیحیوں کے درمیان پھوٹ ڈالتے ہیں اور خُدا چاہتا ہے کہ مسیحی متحد رہیں جیسا کہ یوحنا 17باب21 آیت بیان کرتی ہے۔" اب جبکہ یہ سچ ہے کہ عقیدہ یا عقائد تقسیم کا سبب بنتے ہیں، خاص طور پر اُس وقت جب وہ تقسیم بائبل کی کسی اہم تعلیم پر اختلافِ رائے کی وجہ سے ہوتی ہے تو اُس صورت میں ضروری نہیں کہ تقسیم کوئی بُری چیز ہے۔ پولس رسول بیان کرتا ہے کہ "کیونکہ اَیسا وقت آئے گاکہ لوگ صحِیح تعلیم کی برداشت نہ کریں گے بلکہ کانوں کی کُھجلی کے باعث اپنی اپنی خواہشوں کے مُوافق بہت سے اُستاد بنا لیں گے" (2 تیمتھیس 4باب3 آیت)۔ ططس 1باب9 آیت تا 2باب1 آیت کے اندر بیان کیا گیا ہے "ایمان کے کلام پر قائم ہوتاکہ صحیح تعلیم کے ساتھ نصیحت بھی کر سکے اور مخالفوں کو قائِل بھی کر سکے۔۔۔ لیکن تُو وہ باتیں بیان کر جو صحیح تعلیم کے مناسب ہیں۔ "

مسیحی ایمان کی بنیاد کسی بھی دوسری چیز سے بڑھ کر عقائد پر ہے۔ مسیح کی الوہیت ( یوحنا 1 باب 1 ، 14 آیت)، مسیح یسوع کی کفارہ بخش قربانی (2 کرنتھیوں 5باب 21 آیت)، مسیح یسوع کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا (1 کرنتھیوں 15باب17 آیت)، نجات بالفضل بذریعہ ایمان (افسیوں 2باب8-9 آیات) جیسے عقائد اہم ترین ہیں اور اُن پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اِن میں سے کسی بھی عقیدے کو ختم کر دیا جائے تو مسیحی ایمان خالی اور بے معنی ہو جاتا ہے۔ مسیحی ایمان کے اندر کچھ دیگر عقائد بھی ہیں جو بہت ہی زیادہ اہم ہیں جیسے کہ پاک تثلیث، کلامِ مُقدس کا الہام اور ابدی حالت کی حقیقت۔ اگر اِن عقائد کی وجہ سے کلیسیا کے اندر اختلاف اور تقسیم پیدا ہوتی ہے تو پھر ہوتی رہے کیونکہ اِن عقائد سے انکار کرنے والوں کو علیحدہ ہی کیا جانا چاہیے۔

بہرحال مسیح کے بدن میں اُن عقائد کی وجہ سے بھی بہت ہی زبردست قسم کی تقسیم ہو چکی ہے جو انتہائی اہم "حیثیت" نہیں رکھتے یا جنہیں انتہائی اہم خیال کر کے اُن کے بارے میں کٹر پن کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ اِس کی مثالوں میں کلیسیا کے اُٹھائے جانے کا وقت، زمین کی کم عمری بمقابلہ زمین کا قدیم ہونا ، کرشماتی بمقابلہ غیر کرشماتی، پری ملینیل ازم بمقابلہ آ ملینیل ازم وغیرہ شامل ہیں۔ یہ مسیحی عقائد اہم ہیں۔ ہر ایک مسیحی عقیدے کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ لیکن یہ عقائد اِس قدر اہم نہیں ہیں کہ اِن کی بناء پر کلیسیا کے اندر اختلاف اور تقسیم پیدا کی جائے، کم از کم اِن عقائد کی بنیاد پر دوسرے شخص کے عقیدے کے جائز ہونے پر سوال نہیں اُٹھا یا جانا چاہیے۔

تاہم ثانوی اہمیت کے حامل مسیحی عقائد کے حوالے سے بھی تقسیم کے کچھ ایسے درجات ہیں جو کہ جائز اور مناسب ہیں۔ ایک کلیسیا کو اپنی توجہ، ترجیحات اور خدمت کے لحاظ سے متحد اور ہم خیال ہونا چاہیے۔ اگر کوئی عقائدی مسئلہ متحدہ خدمت پر توجہ مرکوز کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے تو بہتر ہے کہ ایسا شخص کلیسیا کے اندر تنازعے اور تقسیم کا باعث بننے کی بجائے کسی اور کلیسیا کی تلاش کرے۔ اِس طرح کی تقسیم مسیحی ایمان کے اندر بہت زیادہ طرح کے فرقوں کے وجود میں آنے کا باعث رہی ہے۔ کچھ لوگ تو اِس بات کو مذاقاً یوں کہتے ہیں کہ نئی کلیسیا کی بنیاد رکھنے کے لیے کلیسیا کے اندر نفاق اور تقسیم سب سے زیادہ آسان طریقہ ہے۔ لیکن اگر عدم اتفاق اور تصادم کو روکنے کے لئے ثانوی درجے کی اہمیت کے حامل عقائد کی وجہ سے ہونے والی تقسیم بھی ضروری ہے تو ایسی صورت میں ہمیں تقسیم کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر ہر کوئی اپنے پہلے سے قائم کردہ تصورات، تعصبات اور مفروضات کو ایک طرف پھینک دے گا اور بائبل کے اندر سکھائے جانے والے عقائد کو قبول کر لے گا تو اُس صورت میں تقسیم کا مسئلہ درپیش نہیں ہوگا۔ لیکن ہم سب گناہ میں گرے ہوئے اور گناہ کے اثر میں رہنے والی مخلوق ہیں (واعظ 7باب20 آیت؛ رومیوں 3باب23 آیت)۔ گناہ ہمیں خُدا کے کلام کو پوری طرح سمجھے اور اُس کا اپنی زندگیوں پر اطلاق کرنے سے روکتا ہے۔ مسیحی عقائد تقسیم اور اختلاف کا باعث نہیں بنتے بلکہ مسیحی عقائد کو نہ سمجھنا اور اُن کے تابع نہ ہونا تقسیم کا باعث بنتا ہے۔ ہمیں یقینی طو رپر بنیادی اور اہم ترین مسیحی عقائد پر اختلافِ رائے کی بدولت تقسیم ہونا چاہیے ۔ بعض دفعہ ثانوی درجے کے عقائد پر بھی تقسیم ضروری ہوتی ہے (اگرچہ وہ تقسیم بہت کم درجے کی ہونی چاہیے)۔ لیکن کلیسیا کے اندر تقسیم کا الزام کبھی بھی مسیحی عقائد پر نہیں لگایا جانا چاہیے۔ حقیقت میں مسیحی عقیدہ ہی مسیح کے بدن میں سچے، مکمل اور بائبلی اتحاد کا واحد راستہ ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیحی عقائد اِس قدر باعثِ تقسیم کیوں ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries