کیا مسیحیوں کو ڈاکٹروں کے پاس جانا چاہئے؟



سوال: کیا مسیحیوں کو ڈاکٹروں کے پاس جانا چاہئے؟

جواب:
کچھ مسیحی ہیں جن کا یہ اعتقاد ہے کہ بیماری میں طبی علاج کا دھیان دینا یہ دا پر ایمان کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایمان لفظ کی تحریک میں کسی ڈاکٹر سے صلاح مشورہ کرنا اکثر ایمان کی کمی بطور قیاس کیا جاتا ہے جو حقیقت میں خدا و شفا دینے سے روکےگا۔ جماعتوں میں جیسے مسیحی سائنس، ڈاکٹروں کی مدد کی تلاش کو کبھی کبھی روحانی طاقت کے لئے ایک رکاوٹ بطور دیکھا جاتا ہے جو خدا نے ہم کو خود سے شفا پانے کے لئے بخشا ہے۔ ان نظریوں کے اصول میں بری طرح سے یا ناگوار طریقہ سے کمی پایا گیا ہے۔۔ اگر آپ کی گاڑی خراب ہو جاتی ہے تو کیا آپ اسے میکانک کے پاس لے جاتے ہیں یا پھر خدا کے معجزہ کا آسرا دیکھتے ہیں کہ آپ کی گاڑی ٹھیک ہو جائے؟ اگر آپ کے مکان میں نلکا ٹپک رہا ہے تو کیا آپ خداکا انتظار کرتےہیں کہ نلکا ٹھیک ہو جائے یا پھر ایک نل ساز کو بلاتے ہیں؟ خدا جس طرح ہمارے جسم کو شفا دینے کی طاقت رکھتا ہے ویسے ہی گاڑی کو ٹھیک کرنے یا نل کے ٹپکے کو ٹھیک کرنے کے قابل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کا شفا کے معجزہ کو انجام دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم شخصی مدد کا سہارا لینے کے بدلے ہم ایک معجزہ کی امید کیاکریں جس کو ہمارے مقابلہ میں زیادہ علم اور مہارت حاصل ہے۔

کلام پاک میں ایک درجن کے قریب ویدوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے ایک آیت جو اس سیاق عبارت سےباہر ہے اس بات کو سکھانے کے لئے کہ ایک شخص کو ویدوں کے پاس نہیں جانا چاہئے یا پھر ویدوں پر منحصر نہیں ہونا چاہئے وہ آیت ہے دوسرا تواریخ 16:12 جس میں اس طرح لکھا ہے کہ "اور آسا کی سلطنت کے انتالیسویں برس اس کے پاؤں میں ایک روگ گیا اور وہ روگ بہت بڑھ گیا تو بھی اپنی بیماری میں وہ خداوند کا طالب نہیں بلکہ طبیبوں کا خواہاں ہوا۔ اس عبارت کے مطابق معاملہ یہ نہیں تھا کہ آسانے طبیوں سے مشورہ لیا یا طبیوں کی طرف متوجہ ہوا مگر یہ کہ "اس نے مدد کے لئے خداوند کو طلب نہیں کیا" ہم جب کسی طبیب یا ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو ہماری آخری امید یا آخری ایمان خدا پر ہونا چاہئے نہ کہ ڈاکٹر پر۔ اور تمام مشکلات کی گھڑی کے فیصلوں میں خدا کو طلب کرنے کی ضرورت ہے جس نے ہم کو حکمت عطا کرنے کا وعدہ کیا ہے جب ہم اس سے مانگتے ہیں

کلام پاک کی کئی ایک آیتیں ہیں جو "دوائیوں کے ذریعہ علاج" کے استعمال کی بابت پیش کی گئی ہیں: جیسے مرہم پٹی کا استعمال جس سے زخم دبائے جاتے ہیں (یسعیاہ 1:6)؛ تیل کا استعمال (یعقوب 5:14)؛ تیل اور مے کا استعمال (لوقا 10:34)؛ پتوں کا استعمال (حزقی 47:12)؛ شراب کا استعمال (1 تموتھیس 5:23) اور مرہم یا روغن کا استعمال خاص طور سے "جلعاد کا مرہم" (یرمیاہ 8:22) وغیرہ۔ لوقا جو اعمال کی کتاب اور لوقا کی انجیل کا مصنف ہے وہ خود ہی ایک طبیب ہے جس کا حوالہ پولس رسول (کلیسیوں 4:14) میں "پیارا طبیب لوقا" بطور دیتا ہے

مرقس 30-25 :5 ایک عورت کی کہانی کو جوڑ تا ہے جس کو بارہ برس سے خون جاری تھا اس کی پریشانی کو کوئی بھی طبیب دور نہیں کر سکتا تھا جبکہ اس نے کئی ایک طبیوں سے اپنا علاج کروا یا تھا۔ علاج میں کافی پیسے خرچ کر دیئے تھے۔ آخر کار اس نے فیصلہ کیا کہ اگر میں یسوع مسیح کے کپڑے کا کنارہ ہی چھو لوں گی تو مجھے شفا نصیب ہو جائے گی۔۔ سو اس نے بھیڑ میں اس کے کرتہ کا کنارہ چھوا اور وہ شفا پاگئی تھی ایک اور واقعہ میں یسوع نے فریسیوں کو جوابب دیتے ہوئے کہا کہ وہ کیوں گنہ گاروں کے ساتھ وقت گزار تاہے۔ "اس نے کہا کہ تندرستوں کو طیب کی ضرورت نہیں مگر بیماروں کو ہے" (متی 9:12)۔ ان آیت کے ذریعہ ایک شخص مندرجہ ذیل اصولوں کی چھان بین یا جانچ پڑتال کر سکتا ہے:

1) ڈاکٹر لوگ خدا نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں اس نظر سے دیکھنا چاہئے۔ وہ صرف کبھی کبھی علاج کرنے میں، صلاح مشورہ میں یا آپریشن وغیرہ میں مدد کر سکتے ہیں۔ مگر کسی مریض کی جان بچانا یا جان لینا صرف اور صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔ دیگر اوقات میں ڈاکٹر مریضوں سے صرف پیسے اینٹھتے ہیں۔

2) ڈاکٹر کی تلاش کرنا اور انہیں زمینی زندگی میں تلافی کے لئے استعمال کرنا کلام پاک کے مطابق کوئی جرم نہیں ہے۔ در اصل دوائیوں کا استعمال اور ان کےذریعہ علاج کو مفید مانا جاتاہے۔

3) کسی بھی جسمانی تکلیف میں خدا کی دخل اندازی کا ڈھونڈا جانا ضروری ہے (یعقوب 4:2؛ 5:13)۔ خدا یہ وعدہ نہیں کرتا کہ جس طرح ہم ہمیشہ چاہتے ہیں اس طرح جواب دے گا (یسعیاہ 9-8 :55)۔ مگر ہم کو یقین ہے کہ وہ جو کچھ کرے گا اس کے اپنے پیار میں ہو کر ہی کرے گا۔ اور اس طرح اس کی بہترین دلچسپی ہمارے حق میں پوری ہو گی۔ (زبور 9-8 :145)۔

سو اب سوال یہ اٹھتاہے کہ کیا مسیحیوں کو ڈاکٹروں کے پاس جانا چاہئے؟ خدا نے ہم کو اشرف المخلوقات بنایا اور ہم کو اس قابل کیا بیماریوں کے علاج کے لئے بہتر سے بہتر دوائیوں کی تلاش کرکے انہیں بنائیں اور تیار کریں اور سیکھیں کہ اپنے بدن کو کس طرح ٹھیک رکھ سکتے ہیں تو اس حکمت کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس قابلیت کو اپنا کر جسمانی شفا حاصل کرنا کوئی غلط نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کو خدا کاانعام بطور تصور کیا جا سکتا ہے، ایک وسیلہ بطور جن سے ہم شفا پاتے ہیں اور نصیحت یابی حاصل کرتے ہیں۔اسی وقت ہمارا آخری ایمان اور بھروسہ خدا پر ہوناچاہئے نہ کہ ڈاکٹر یا دوائيوں پر۔ (یعقوب 1:5)



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا مسیحیوں کو ڈاکٹروں کے پاس جانا چاہئے؟