settings icon
share icon
سوال

مسیحی شاگردیت کیا ہے ؟

جواب


تعریف کے اعتبار سے شاگرد ایک پیروکار ہوتا ہے، ایک ایسا شخص جو کسی دوسرے شخص کی تعلیمات کو قبول کرتا اور پھر اُنہیں پھیلانے کے لیے مدد کرتا ہے۔ ایک مسیحی شاگرد وہ ہے جو خُداوند یسوع مسیح کی خوشخبری کو قبول کرتا اور پھر اُسے پھیلانے کے لیے مدد کرتا ہے۔ مسیحی شاگردیت وہ عمل ہے جس کے ذریعے شاگرد خُداوند یسوع مسیح میں بڑھتے ہیں ، اپنے دِلوں میں بسنے والے رُوح القدس سے لیس ہوتے ہیں تاکہ اِس موجودہ زندگی کے دباؤ اور آزمائشوں پر قابو پایا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ مسیح کے مشابہ ہوا جا ئے۔ یہ عمل تقاضا کرتا ہے کہ ایماندار رُوح القدس کی تحریک کو قبول کریں، اُس کی رہنمائی میں اپنے خیالات ، الفاظ اور اعمال کا جائزہ لیں اور اُن کا موازنہ خُدا کے کلامِ مُقدس کے ساتھ کریں۔ اِس لیے ضروری ہے کہ ہم روزانہ کلام کا مطالعہ کرنے میں کچھ وقت گزاریں،کلامِ کے مطابق دُعا کریں اور کلام کی تابعداری کریں۔ اِس کے علاوہ ہمیں ہمیشہ ہی اُس اُمید کی وجہ بیان کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے جو ہمارے اندر ہے (1 پطرس 3باب15 آیت)، اور دوسروں کو مسیح کی راہ پر چلنے کے لیے شاگرد بنانا چاہیے۔ کلامِ مُقدس کے مطابق مسیحی شاگرد ہونے میں مندرجہ ذیل خصوصیات کے تحت ذاتی نشوونما ضروری ہے:

1. ہر ایک چیز میں مسیح یسوع کو اوّلیت دینا (مرقس 8باب34-38آیات)۔ مسیح کے شاگرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ دُنیا سے علیحدہ ہو، یعنی اُس نے اپنی زندگی کو صرف یسوع کے لیے وقف کیا ہو۔ ہماری ساری توجہ اپنے خُداوند پر اور زندگی کے ہر شعبے میں اُس کی خوشنودی پر ہونی چاہیے۔ ہمیں اپنی زندگیوں سے خود مرکزیت کو ختم کرنا چاہیے اور اپنی زندگیوں کو مسیح مرکوز بنانا چاہیے۔

2. یسوع مسیح کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا (یوحنا 8باب31-32 آیات)۔ ہمیں خُدا کے تابعدار فرزند اور اُس کے کلام پر عمل کرنے والے بننا چاہیے۔ خُدا پر ایمان رکھنے کی سب سے بڑی پرکھ تابعداری ہے (1 سموئیل 28باب18 آیت)، اور خُداوند یسوع تابعداری کی کامل مثال ہے کیونکہ اُس نے اِس زمین پر اپنی زندگی خُدا باپ کی مکمل تابعداری میں گزار ی اور اِس تابعداری کی بدولت اُس نے حتیٰ کہ موت تک کو بھی قبول کیا (فلپیوں 2باب6-8 آیات)۔

3. پھلدار ہونا (یوحنا 15باب5-8 آیات)۔ مسیحی شاگرد ہوتے ہوئے ہمارا کام پھل پیدا کرنا نہیں بلکہ مسیح میں قائم رہنا ہے۔ اور اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو پھر رُوح القدس ہمارے اندر پھل پیدا کرے گا اور یہ پھل ہماری تابعداری کا نتیجہ ہے۔ جیسے جیسے ہم خُداوند کے زیادہ سے زیادہ تابعدار ہوتے جائیں گے اور ا ُس کی راہوں میں چلنا سیکھیں گے ہماری زندگیاں بدل جائیں گی۔ سب سے بڑی تبدیلی ہمارے دِلوں میں آئے گی اور وہ نئے طرزِ عمل سے لبریز ہوگا، اور یہ نیا طرزِ عمل (خیالات ، الفاظ اور اعمال)ہمارے اندر اُس تبدیلی کی نمائندگی کرے گا۔ جس تبدیلی کے ہم خواہشمند ہیں وہ تبدیلی رُوح القدس کی قدرت کے وسیلے ہمارے اندر سے باہر کی طرف جاتی ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے ہم شعبدہ بازی کے ذریعے سے خود کر سکیں۔

4. دوسرے شاگردوں کے لیے محبت (یوحنا 15باب5-8 آیات)۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ دوسرے ایمانداروں کے ساتھ محبت اِس بات کا ثبوت ہے کہ ہم خُدا کے خاندان کے افراد ہیں (1 یوحنا 3باب10 آیت)۔ محبت کی تعریف اور تفصیل 1 کرنتھیوں 13باب1-13 آیات کے اندر بیان کی گئی ہے۔ یہ آیات ہم پر ظاہر کرتی ہیں کہ محبت محض جذبات نہیں ہیں بلکہ یہ ایک عمل ہے۔ محبت کے اظہار کے لیے ہمیں کچھ کرتے ہوئے اِس عمل میں شامل ہونا چاہیے۔ مزید برآں ہمیں کہا گیا ہے کہ ہم اپنے سے زیادہ دوسروں کے مفادات کے بارے میں سوچھیں اور اُن کے مفادات کے لیے کوشش کریں (فلپیوں 2باب3-4 آیات)۔ فلپیوں کے اِس باب میں آگے (5آیت) کے اندر بیان کیا گیا ہے کہ ہمیں ہر ایک چیز کے تعلق سے اپنی زندگی میں کیا کرنا چاہیے : "ہمارا مزاج ویسا ہی ہونا چاہیے جیسا کہ مسیح کا تھا۔" کیسی کامل مثال ہے، ہم نے اپنی زندگیوں میں جو کچھ بھی کرنا ہے اُس میں مسیح ہی ہمارے لیے سب کچھ ہے۔

5. بشارت –دوسروں کو شاگرد بنانا (متی 28باب18-20 آیات)۔ ہمیں اپنے ایمان اور اُن سب حیرت انگیز تبدیلیوں کو غیر ایمانداروں کے ساتھ بانٹنے کی ضرورت ہے۔ مسیحی زندگی میں ہماری پختگی کی سطح چاہے کچھ بھی ہو، ہمارے پاس دوسروں کے سامنے اپنے ایمان کے تعلق سے پیش کرنے کے لیے ہمیشہ ہی کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔ اکثر ہم شیطان کے اِس جھوٹ پر یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ شاید ہم مسیحیت کے بارے میں بہت کچھ نہیں جانتے یا شاید ہمیں مسیحیت میں آئے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا جس کی وجہ سے ہماری کسی کوشش یا عمل سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ سچ نہیں ہے! مسیحی زندگی کے کچھ انتہائی پُر جوش نمائندے نئے ایماندا ہی ہیں جنہوں نے خُدا کی حیرت انگیز محبت کا نیا نیا تجربہ کیا ہوتا ہے۔ شایدوہ بائبل کی بہت زیادہ آیات کو نہ جانتے ہوں، یا اُنہیں چیزوں کو مناسب طور پر پیش کرنا نہ آتا ہو، لیکن اُنہوں نے خُدا کی محبت کا تجربہ کیا ہے اور یہی وہ چیز ہے جسے ہم نے دوسروں کے ساتھ بانٹنا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیحی شاگردیت کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries