settings icon
share icon
سوال

کیا مسیحیوں کو نائٹ کلب جانا چاہیے؟

جواب


اگر دو ٹوک الفاظ میں کہا جائے تو نائٹ کلب دنیا کا وہ حصہ ہیں جس پر شیطان کا اختیار اور راج ہے۔اُنہیں اِس مقصد کے تحت تیار کیا گیا ہے کہ وہاں پر جانے والا کوئی بھی شخص اپنے آپ کو گناہ آلود خواہشات کے تابع کر دے۔ نائٹ کلب بنیادی طور پر دو مقاصد کے لئے پائے جاتے ہیں: شراب نوشی اور مخالف جنس کے افراد سےملاقاتیں، اور وہ بھی اکثر جنسی سرگرمی/عمل کو ذہن میں رکھتے ہوئے۔ جی ہاں، وہاں پر موسیقی اور رقص ہوتا ہے، لیکن بنیادی طور پر غیر شادی شُدہ اور تنہا زندگی گزارنے والے خاص طور پر شراب پینے اور کسی سے ملاقات کرنے کے لیے کلب میں جاتے ہیں۔ نائٹ کلب اِس دنیا کا حصہ ہیں، اور مسیحی اگرچہ اِس دُنیا میں رہتے ہیں لیکن وہ اِس دُنیا کے نہیں ہیں۔ دنیا کا ہونے سے مُراد اُن چیزوں میں دلچسپی لینا اور ایسی چیزوں یا کاموں کی خواہش کرنا ہےجو گناہ گار فطرت کی پسندیدہ ہیں۔

پولس رسول افسیوں 4باب17-24آیات کے اندر مسیحیوں سے دُنیاوی کاموں کے تعلق سے تعلیم دیتے ہوئے بات کرتا ہے، "اِس لئے مَیں یہ کہتا ہوں اور خُداوند میں جتائے دیتا ہوں کہ جس طرح غیر قومیں اپنے بیہودہ خیالات کے موافق چلتی ہیں تُم آیندہ کو اُس طرح نہ چلنا۔کیونکہ اُن کی عقل تارِیک ہو گئی ہے اور وہ اُس نادانی کے سبب سے جو اُن میں ہے اور اپنے دِلوں کی سختی کے باعث خُدا کی زِندگی سے خارِج ہیں۔اُنہوں نے سُن ہو کر شہوت پرستی کو اِختیار کِیا تاکہ ہر طرح کے گندے کام حِرص سے کریں۔مگر تُم نے مسیح کی اَیسی تعلیم نہیں پائی۔بلکہ تُم نے اُس سچّائی کے مُطابق جو یسو ع میں ہے اُسی کی سُنی اور اُس میں یہ تعلیم پائی ہو گی۔کہ تُم اپنے اگلے چال چلن کی اُس پُرانی اِنسانِیّت کو اُتار ڈالو جو فریب کی شہوَتوں کے سبب سے خراب ہوتی جاتی ہے۔اور اپنی عقل کی رُوحانی حالت میں نئے بنتے جاؤ۔اور نئی اِنسانِیّت کو پہنو جو خُدا کے مُطابق سچّائی کی راست بازی اور پاکیزگی میں پَیدا کی گئی ہے۔ " یہاں پر پولس رسول اُن لوگوں کے بارے میں وضاحت سے بات کرتا ہے جو اپنی زندگیوں سے خُدا کو خارج کر دیتے ہیں اور اپنے آپ کو شہوت پرستی کے کاموں کے لیے دے دیتے ہیں تاکہ ہر طرح کے گندے کام حرض سے کریں۔

یقینی طور پر خُدا نہیں چاہتا کہ ہم ایسی آسانی اور اپنی ہی رضا مندی کے ساتھ خود کو گناہ کے تابع کردیں۔ دیکھئے کہ خُدا یہاں پر کیا کہتا ہے۔" تُم اپنے اگلے چال چلن کی اُس پُرانی اِنسانِیّت کو اُتار ڈالو جو فریب کی شہوَتوں کے سبب سے خراب ہوتی جاتی ہے۔"یہاں اِس بات پر غور کرنا بہت دلچسپ ہے کہ خُدا کہتا ہے کہ جب ہم خود کو اپنی گناہ آلود فطرت کے تابع کر دیتے ہیں تو اُس وقت ہم اپنی ہی خواہشات سے دھوکا کھاتے ہیں۔ شیطان نقالی کا ماہر ہے۔ دوسرے الفاظ میں شیطان ہمارے سامنے ایسی چیزیں رکھتا ہے جو بظاہر اچھی اور دلکش لگتی ہیں۔ کلب جانے کا لالچ اور جھانسہ یہ ہے کہ اِس جگہ پر بہت زیادہ لطف آتا ہے، بہت زیادہ شغل میلہ لگتا ہے اور یہ سب بہت زیادہ دلچسپ ہے۔ اور جو کچھ ہم نہیں دیکھ پاتے وہ اِس سب کے نتائج ہیں، کیونکہ شیطان ہمارے ذہنوں میں سب سے آگے شہوت پرستی کی دلکشی کو رکھتا ہے۔ جنسی سرگرمیاں، شراب نوشی اور منشیات –یہ سب زیادہ تر نائٹ کلبوں کے اندر ملنے والی چیزیں جسمانی اور رُوحانی طور پر بہت ہی زیادہ تباہ کن ہوتی ہیں۔ جنسی سرگرمی یا مباشرت کے لیے خُدا کا خاص منصوبہ ہے جہاں پر یہ سب سے زیادہ لطف دینے والا کام ہے – اور وہ ہےایک جیون ساتھی کے ساتھ شادی کا رشتہ، جہاں پر جنسی عمل کی بدولت بیماریوں اور ایڈز کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا، جہاں پر اِس عمل کے بعد نہ تو ملامت کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی تنہائی کا – اور وہ سب لوگ جو اِس معاملے میں خُدا کی ذات پر یقین نہیں رکھتے وہ خود کو ڈنگ مار رہے ہیں یا پھر اپنی ذات کو آہستہ آہستہ مختلف حصوں میں کاٹ رہے ہیں۔

خُدا کی یہ خواہش ہے کہ ہم راستباز اور پاک ہوں کیونکہ اُس نے ہمیں ایسا ہی ہونے کے لیے تخلیق کیا ہے۔ ایک ایسی زندگی گزارنے کے فوائد جو خُدا چاہتا ہے کہ ہم گزاریں بہت ہی مختصر جسمانی خوشیوں اور لذتوں سے بہت زیادہ ہیں۔ بہت سارے ایسے لوگ جو نائٹ کلبوں میں جاتے ہیں یا ماضی میں اُن کا حصہ رہے ہیں وہ کچھ ایسی ہی باتیں بیان کرتے ہیں کہ –وہاں پر کوئی خوشی نہیں ہے، وہاں پر اندرونی بھرپوری نہیں ہے، وہاں پر صرف خالی پن ہی ہے۔ صرف خُدا ہی ہماری ضروریات کو پورا کر سکتا اور ہمیں وہ خوشیاں اور اطمینان دے سکتا ہے جس کی ہم سبھی لوگ تلاش کرتے ہیں۔ کلب اُن خوشیوں اور اطمینان کی بہت ہی ناقص نقل کے علاوہ کسی اور چیز کی پیشکش نہیں کرتے۔ نائٹ کلبوں کے اندر کبھی بھی ایسا سکون میسر نہیں جو قائم رہ سکے، وہاں پر صرف آزمائشیں اور گناہ ہی ہے۔

ایسی جگہیں خصوصی طور پر مسیحیوں کے لیے نہیں ہیں۔ اِس بہت ہی واضح آزمائش کے علاوہ یہاں پر ہماری مسیحی گواہی کا بھی معاملہ ہے۔ جب غیر ایماندار لوگ کسی ایسے شخص کو گناہ آلود طرزِ زندگی کے ساتھ دیکھتے ہیں جو مسیحی ہونے کا دعویدار ہو تو ایسے میں خُداوند یسوع مسیح کی بدنامی ہوتی ہے اور ہم اُس کے نام کی تحقیر کا سبب بنتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی روشنی دُنیا کے لوگوں کے سامنے چمکنے دیں تاکہ ہمارے نیک کاموں کو دیکھ کر لوگ ہمارے آسمانی باپ کے نام کو جلال دیں (متی 5باب16آیت)۔ یہ دیکھنا یا جاننا بہت مشکل ہے کہ مسیح میں ہماری زندگی کی روشنی کسی نائٹ کلب کے اندر کس طرح چمک سکتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی مسیحی وہاں پر کسی بھی گناہ آلود کام میں ملوث نہیں ہوتا ، لیکن صرف وہاں پر موجود ہونے کی بدولت جو گواہی وہ وہاں پر جانے والے دُنیاوی لوگوں کو دے رہا/رہی ہے وہی تباہ کن ہے ، اِس لیے ہمیں ایسی کسی بھی سرگرمی سے اجتناب کرنا چاہیے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا مسیحیوں کو نائٹ کلب جانا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries