settings icon
share icon
سوال

کیا مسیحیوں کو جتھوں /منڈلیوں/گروہوں/ٹولیوں کا حصہ ہونا چاہیے ؟

جواب


ویبسٹر ایک گروہ/جتھے/ٹولی/منڈلی کی تعریف کچھ یوں کرتی ہے"لوگوں کا ایک چھوٹا سا گروہ جو ایک ساتھ وقت گزارے، لیکن دوسرے لوگوں کے ساتھ دوستانہ رویہ نہ رکھے۔"اِس تعریف کا پہلا نصف حصہ بالکل عام اور قابلِ قبول طرزِ عمل کو بیان کرتا ہے، لیکن دوسرا حصہ اتنا نہیں۔ لوگ فطری طور پراپنے جیسے لوگوں کی طرف راغب ہوتے ہیں اور بعض اوقات گروہ بندی کا احساس کئے بغیر گروہ بناتے ہیں۔ جب ہم اپنے جیسی پسند کے حامل، اپنے جیسی حِس مزاح، اپنے جیسے نظریہ حیات کے ساتھ کسی کو پاتے ہیں تو ہم اُس شخص کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ جو لوگ ہمارے اپنے نقطہ نظر اور شخصیت کی توثیق کرتے ہیں ہم اُن کے آس پاس رہنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن بائبل ہمیں ہر ایک سے ویسی محبت کرنے کو کہتی ہے جیسی ہم اپنے آپ سے کرتے ہیں (گلتیوں 5باب14 آیت) بشمول وہ سبھی لوگ جو ہم سے مختلف ہیں۔

گروہ/جتھے/منڈلی/ٹولی کو اکثر اسکول کے بچّوں کے نا پختہ طرزِ عمل سے جوڑا جاتا ہے، لیکن کچھ گرجا گھر بھی "گروہ " بندھی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ بعض فرقوں میں اِس طرح کے رویے کا دیگر فرقوں سے زیادہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہےاور اُس کے بعد کلیسیا کے اراکین کے رویے اپنے قائدین کے رویوں کے عکاس ہوتے ہیں۔ ایک پاسٹر جوسب کو قبول کرنے والا، حلیم اور ہر کسی سے جڑنے کا خواہشمند ہوتا ہے وہ اکثر اِسی رویے کے حامل لوگوں سے بھرےہوئے چرچ کی قیادت کرتا ہے۔ تاہم جو پاسٹر خود کو عام عبادت گزار سے زیادہ بالاتر سمجھتے ہیں یا جو اپنے آپ کو چند چُنیدہ لوگوں کے دائرے میں الگ تھلک کر لتے ہیں وہ نا دانستہ طو پر اپنے ساتھیوں کو بھی ایسا ہی کرنے کی ترغیب دے رہے ہوتے ہیں۔ 1 پطرس 5باب5 آیت ہمیں اِس طرح کے رویوں کے بار ےمیں تنبیہ کرتی ہے "تُم ۔۔۔ سب کے سب ایک دُوسرے کی خِدمت کے لئے فروتنی سے کمربستہ رہو اِس لئے کہ خُدا مغرُوروں کا مُقابلہ کرتا ہے مگر فروتنوں کو تَوفیق بخشتا ہے۔ "

ہم اُن لوگوں کی طرف اپنی توجہ مرکوز کئے بغیر نہیں رہ سکتے جو ہمیں آرام دہ محسوس کرواتے اور قبول کرتے ہیں۔ سی ۔ایس ۔ لوئیس نے ایک بہت مشہور بات کی ہے کہ "دوستی کا جذبہ اُس وقت جنم لیتا ہے جب ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے :'کیا تم بھی؟' مَیں نے سوچا تھا کہ مَیں اکیلا ہی ہوں۔"جب ہمیں کئی ایسے لوگ ملتے ہیں جن کے ساتھ ہمارا ایسا تجربہ ہوتا ہے تو ہم عام طور پر اُن کی صحبت کو ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے پر زیادہ ترجیج دیتے ہیں جنہیں ہم اچھی طرح نہیں جانتے یا خاص طور پر جن کے آس پاس ہونے کی کوئی زیادہ پرواہ نہیں کرتے۔ نئے دوست بنانے کے لیے خود کو دوسرے کے سامنے پیش کرناعجیب اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ پس ہم فطری طور پر اُن لوگوں کو تلاش کرتے ہیں جن کو ہم پہلے سے جانتے ہیں، اور یہ نمونہ ایک گروہ /جتھے/منڈلی/ٹولی کی تخلیق کا باعث بنتا ہے۔ پھر ایسی صورتحال بن سکتی ہے جس میں اکثر کہا جا سکتا ہے کہ "صرف ہم چار اور دوسرا کوئی اور نہیں ۔"دوستوں کا ایک حلقہ اُس وقت ایک گروہ بن جاتا ہے جب وہ مزید نئے لوگوں کیساتھ ملنے میں دلچسپی کھو دیتا ہے ، اور جب کوئی نیا شخص اُن کے گروہ میں شامل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اُسے خوش آمدید نہیں کہتے۔

کلیسیا کے اندر ایسے گروہوں کی موجودگی نئے اراکین اور خاص طور پر کمزور ایمان داروں کے لیے رُوحانی طو ر پر تباہ کن ہو سکتی ہے۔ یعقوب 2باب1 آیت بیان کرتی ہے کہ "اَے میرے بھائیو! ہمارے خُداوند ذُوالجلال یسُو ع مسیح کا اِیمان تم میں طرف داری کے ساتھ نہ ہو۔ " یہ طرفداری یا پسندیدگی مالی حیثیت، مقبولیت، ظاہری شکل و صورت، طرزِ زندگی یا زندگی میں ماضی کی وابستگی کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ ایمانداروں کو جانبداری کے رجحان سے آگاہ ہونا چاہے اور جب بھی ہم اِسے اپنے اندر دیکھتے ہیں اِسے اپنے اندر سے باہر نکال دیں۔ جب ہم خُدا کے سامنے اپنے تعصبات کا اعتراف کرتے ہیں تو ہم اُن پر قابو پانے کی طرف ایک قدم اٹھاتے ہیں۔ جس بات یا چیز کو ہم تسلیم نہیں کرتے ہم اُسے بدل بھی نہیں سکتے۔

کہا جاتا ہے کہ یسوع بھی ایک گروہ کا حصہ تھا ، کیونکہ اُس نے اپنا زیادہ تر وقت پطرس، یعقوب اور یوحنا (مرقس 5باب37 آیت) کے ساتھ گزارا۔ خُداوند یسوع کے بہت سارے شاگرد تھے (یوحنا 6باب60 آیت)لیکن اُس نے صرف 12 کو ہی رسولوں کے طور پر چُنا تھا (متی 10باب1 آیت)۔ یہ سچ ہے کہ اُس نے کچھ عظیم ترین رُوحانی سچائیوں کو کچھ خاص چُنے ہوئے لوگوں کے ساتھ ہی بانٹا تھا، لیکن کیا یہ چیزیسوع کے حوالے سے ایک گروہ/ جتھے/ٹولی/منڈلی کو جنم دیتی ہے؟

صحت مند لوگ اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ تعلقات کے کئی ایک درجے ہوتے ہیں اور تمام لوگ ایک ہی درجے کے اعتماد کے مستحق نہیں ہیں۔ خُداوند یسوع کی زندگی نے رشتوں میں کامل توازن کا مظاہر ہ کیا۔ اُس کے پاس معتبر دوستوں کا ایک چھوٹا سا اندرونی حلقہ تھا، لیکن اُس نے اپنا سارا فارغ وقت اکیلے اُن کے ساتھ نہیں گزارا تھا۔ اُس کی زندگی اپنے پاس آنے والے ہر شخص کے ساتھ بات چیت کرنے، برکت ، تعلیم دینے اور اُن کی خدمت کرنے میں صرف ہوئی اور اُس نے اپنے شاگردوں کو بھی ایسا ہی کرنے کی تلقین کی(متی 4باب23 آیت؛ 12باب 15 آیت؛ لوقا 20باب1 آیت)۔ یسوع نے ہر کسی کو جو کچھ دیا بے لوث دیا ، لیکن اُس نے دوسروں کو اِس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ اُس سے وہ سب بھی لے جائیں جو وہ اُنہیں دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ حتیٰ کہ اُس کی اپنی زندگی کو زبردستی اُس سے نہیں لیا گیا تھا بلکہ اُس نے خود اُسے اپنی خوشی سے دیا تھا (یوحنا 10باب18 آیت)۔ لیکن ہم اپنی زندگی کا سارا وقت دوسروں کو دینے میں نہیں گزار سکتے۔ صحت مند لوگ جن کی خدمت کرتے ہیں اُن کے درمیان اور ایسے لوگوں کے درمیان فرق کرنا جانتے ہیں جو خدمت کا بوجھ اُٹھانے میں اُن کی مدد کرتے ہیں اور وہ ہر ایک گروہ کے ساتھ مناسب وقت اور توانائی خرچ کرتے ہیں۔

ضروری نہیں کہ قریبی دوستوں کے ایک حلقے کو گروہ /جتھا/ٹولی/منڈلی کہا جائے۔ وہ ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جنہوں نے اپنی خدمت کے اندر بوجھ اُٹھانے میں مدد کے لیے ساتھی تلاش کر لیے ہوں۔ اگر وہ دوسروں کی خدمت کرنے میں مصروف ہیں ،اور ایسے لوگوں کو بے لوث طور پر دے رہے ہیں جو اُن کو کچھ بھی واپس نہیں لوٹا سکتے ، جیسے کہ یسوع نے کیا تھا تواُنہیں مسلسل طور پر لوگوں کو دینے کے دباؤ سے راحت پانے کے لیے ایک اندرونی دائرے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ کل وقتی خدمت میں رہنے والوں کو خاص طور پر ایسے اہم لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جن پر وہ بھروسہ کرتے ہیں ، جن کے ساتھ وہ مسلسل مطالبات اور خدمت کے دباؤ کے ساتھ بے فکر طور پر رہ سکتے ہیں۔ لیکن جو لوگ ایسے دوستوں کے حلقے میں شامل نہیں ہوتے وہ اِسے حسد کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں اور اِسے ایک گروہ/جتھا/ٹولی/منڈلی کہہ سکتے ہیں۔ اُنہیں اِس بات کا احساس نہیں ہے کہ خدمت کی قیادت کرنے والوں سمیت ہر کسی کو چند معتبر دوستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگرچہ ہر ایک مسیحی کا یہ مقصد ہونا چاہیے کہ وہ مسیح کو اپنی زندگی میں نمونہ بنائے اور ہر ایک کے لیے بے لوث ہمدردی پیدا کرے، لیکن دوسروں کے ساتھ قریبی دوستی پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ بہرحال اگر دوستوں کا کوئی حلقہ بند گروہ بن جاتا ہے، اور جان بوجھ کر دیگر لوگوں کو ممکنہ طور پر خارج کرتا ہے تو یہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اگر کلیسیا کے کسی ایک گروہ کی کوئی خصوصیت مسیح کے بدن میں تکلیف دینے یا جرم پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے تو اِس حلقے کو اپنی تشکیلِ نو پر غور کرنا چاہے تاوہ ایک گروہ/جتھے/ٹولی/منڈلی قرار دئیے جانے کے خطرے سے بچ سکے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا مسیحیوں کو جتھوں /منڈلیوں/گروہوں/ٹولیوں کا حصہ ہونا چاہیے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries