settings icon
share icon
سوال

کیا تدفین ہی واحد پہلوہے جس کے بارے میں ایک مسیحی سوچ سکتا ہے ؟

جواب


صدیوں سے زیادہ تر مسیحیوں نے یہی خواہش کی ہے کہ اُنکی موت کے بعد ایک ایسی تقریب کا انعقاد کیا جائے جس میں قیامت کے بارے میں اعلان پر مبنی پیغام سنایا جائے اور پھر اُنہیں دفن کر دیا جائے؛ مختلف رسومات اور روایات پر مشتمل اِس تقریب کو "مسیحی تدفین" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مسیحیوں کے پاس تدفین کے علاوہ اور بھی انتخابات ہیں جن پر غور کیا جا سکتا ہے ؛ جیسے کہ کریمیشن(مُردہ بدن کو جلانا)، اگرچہ اِسے تدفین کی طرح روایتی خیال نہیں کیا جاتا لیکن یہ اِن دِنوں بہت زیادہ مقبول ہوتی چلی جا رہی ہے۔

مسیحی تدفین واضح طور پر ایک بائبلی اصطلاح نہیں ہے۔ بائبل میں اِس بارے میں بہت واضح ہدایات نہیں دی گئیں کہ کسی کی موت کے بعد اُس کے جسم کے ساتھ کیا کِیا جانا چاہیے۔ بائبل کے دَور کی ثقافتوں میں کسی کی موت کے بعد اُس کے جسم کو کسی مقبرے، غار یا زمین کے اندر دفن کردینے ہی کا عام رواج تھا ( پیدایش 23باب19 آیت؛ 35 باب 4 آیت؛ 2 تواریخ 16باب14 آیت؛ متی 27باب60-66 آیات)۔ بائبل میں تدفین کا سب سے عام طریقہ مُردوں کو زمین سے اوپر خاص مقبرہ نما قبروں میں رکھا جاتا تھا اور یہ صرف اُنہی لوگوں کے لیے تھا جو اِس کے متحمل ہو سکتے تھے۔ جو لوگ اِس کی استطاعت نہیں رکھتے تھے وہ اپنے مُردوں کی لاشوں کو زمین میں دفن کر دیتے تھے۔ بائبل کے دور میں زمین سے باہر غاروں، پہاڑوں میں کھودی گئی قبریں دولت مندوں کے لیے تدفین کے مقامات کےطور پر مختص تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ خُداوند یسوع کوجس کے پاس زمینی دولت بالکل نہیں تھی ایک مستعار لی ہوئی قبر میں دفن کیا گیا (متی 27باب57-60 آیات)۔

آجکل کے دور میں اپنے پیاروں کے مُردہ جسموں کے بارے میں فیصلہ لیتے ہوئے اپنے ملک اور علاقے کے قانون کو مدِ نظر رکھنا زیادہ اہم ہے۔ قوانین ہر ایک ملک اور امریکہ میں تو ہر ایک ریاست میں مختلف ہوتے ہیں۔ کیونکہ مسیحیوں سے سرکاری حکام (اعلیٰ عہدیداروں) کے تابع رہنے کا تقاضا کیا جاتا ہے اِس لیے اپنے پیاروں کے مُردہ جسموں کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے اُنہیں سرکاری قوانین کی پاسداری کرنی چاہیے۔ پھر ایک سوال مسیحی تدفین بمقابلہ کریمیشن کا سامنے آتا ہے۔ بائبل میں اِن دونوں میں سے کسی ایک کا بھی خصوصیت کے ساتھ حکم نہیں دیا گیا اور نہ ہی اِن میں سے کسی سے منع کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت کہ یہودی اور ابتدائی مسیحی خصوصی طور پر اپنے مُردوں کی تدفین کرتے تھے بہت سارے لوگوں کو تدفین پر قائل کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور اِس کے ساتھ ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ بائبل میں مرنے کے بعد کچھ لوگوں کے آگ میں ڈالے جانے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ شریروں اور ناراستوں کی جہنم میں سزا کے تناظر میں بات کی گئی ہے (احبار 20باب14 آیت؛ یشوع 7باب25 آیت)، اور یہ چیز بہت سارے لوگوں کی طرف سے کریمیشن کے عمل کو رَد کرنے کا باعث بنتی ہے۔ لیکن ایک بار پھر مسیحیوں کو بائبل میں کریمیشن کے حق میں یا اِس کے خلاف واضح طور پر کوئی بھی حکم نہیں دیا گیا۔ آخر میں بہتر ہے کہ اِس فیصلے کو مقتول کے اہلِ خانہ پر چھوڑ دیا جائے۔

مُردہ جسم کو ٹھکانے لگانےکا طریقہ اِس قدر اہم نہیں جس قدر مسیحی تدفین کے پسِ پردہ سچائی اہم ہے: یعنی یہ کہ جو شخص مر گیا ہے یہ جسم ابھی اُس کا مسکن نہیں رہا۔ پولس ہمارے بدنوں کو خیموں کے طور پر بیان کرتا ہے جوکہ عارضی سکونت گاہ ہوتے ہیں "کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب ہمارا خیمہ کا گھر جو زمین پر ہے گِرایا جائے گا تو ہم کو خُدا کی طرف سے آسمان پر ایک اَیسی عِمارت مِلے گی جو ہاتھ کا بنا ہُوا گھر نہیں بلکہ ابدی ہے" (2 کرنتھیوں 5باب1 آیت)۔ جب یسوع دوبارہ آئے گا تو مسیحی اپنے بدنوں کے ساتھ جی اُٹھیں گے اور ہمارے بدن جلالی بدنوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ "مُردوں کی قیامت بھی اَیسی ہی ہے ۔ جسم فنا کی حالت میں بویا جاتا ہے اور بقاء کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔بے حُرمتی کی حالت میں بویا جاتا ہے اور جلال کی حالت میں جی اُٹھتا ہے ۔ کمزوری کی حالت میں بویا جاتا ہے اور قُوت کی حالت میں جی اُٹھتا ہے " (1 کرنتھیوں 15باب42-43 آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا تدفین ہی واحد پہلوہے جس کے بارے میں ایک مسیحی سوچ سکتا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries