settings icon
share icon
سوال

مسیحیوں کو بھکاریوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے؟

جواب


اس سوال پر بہت سی آراء ہیں کہ بھکاریوں اور کاسہ بردار فقیروں کے بھیک مانگنے پر کیسا رَد عمل ظاہر کیا جائے، اور اِس سوال کا جواب واقعی ہی مشکل ہے۔ کچھ لوگ بھکاریوں اور فقیروں کو پیسے دینے کے حق میں ہوتے ہیں کیونکہ اِس کےبعد یہ اُس بھکاری پر منحصر ہے کہ وہ اُس پیسے کو کیسے استعمال کرے، وہ اب چاہے اُس سے کھانا خریدے، شراب خریدے یا پھر منشیات خریدے۔ دیگر لوگ بھکاریوں کو پیسے دینے کی بجائے اُنہیں کھانا اور پانی خرید کر دینے کو درست مانتے ہیں کیونکہ اُن کا ماننا ہے کہ جس مقصد کے لیے وہ بھکاری کو روپیہ پیسہ دے رہے ہیں بھکاری شاید اُس مقصد کے مطابق اُس کا استعمال نہیں کرے گا۔ کونسا کام کرنا بہتر ہے؟ بائبلی رُو سے بات کی جائے تو ہمیں غریبوں کی مدد کرنی چاہیے۔ لیکن کیا کسی کو پیسے دینے کے بعد ہماری ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے، یا کیا ہمیں کسی کو مالی مدد فراہم کرنے کے بعد اِس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہماری مدد کو بالکل درست مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے؟

بہت سارے معاملات میں ایسے لوگوں کو پیسے یا کھانے پینے کی چیزیں لے کر دینے کی بجائے کچھ لوگ اُنہیں ایسے اداروں تک لے کر جانے کی پیشکش کرتے ہیں جہاں پر غریب لوگوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ اور لوگ پھر اُن امدادی اداروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ وہاں پر اُن غریبوں اور دیگر بہت سارے غریبوں کی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ جب ہم مشن کے امدادی اداروں کی مالی معاونت کرتے ہیں تو اُس صورت میں ہم ایسے بہت سارے غریبوں کی مدد کر رہے ہوتے ہیں جو اپنی ضروریات کے پورا نہ ہونے کی صورت میں سڑکوں پر بھیک مانگ رہے ہوتے۔ اگر کسی مقامی کلیسیا کے اندر لنگر خانہ ہے تو بہتر ہے کہ اُس میں اپنی مالی معاونت سے حصے دار بنیں اور ضرورت مند لوگوں کی رہنمائی کریں کہ وہ کھانے کے لیے کلیسیا کے لنگر خانے سے رابطہ کریں۔ یہ اُن کی ضرورت کو پورا کرنے کا بہترین طریقہ ہوگا اور آپ کے ذہن میں اِس معاملے کو لیکر کسی طرح کے گناہ میں گرنے کا خدشہ بھی نہیں رہے گا۔ کلیسیائی طور پر بنائے گئے لنگر خانے بہت سارے لوگوں کو یہ خوبصورت موقع بھی فراہم کرتے ہیں کہ وہ وہاں مدد حاصل کرنے کے لیے آنے والے بے گھر اور ضرورت مند لوگوں کے ساتھ کلامِ مقدس کی تعلیمات بانٹ سکیں۔

‏ مدد کرنے کے دیگر طریقوں میں مقامی ریستوران کو(ضرورت مند لوگوں کے لیے) کھانا یا گفٹ کارڈدینا، سڑک کے کنارے بیٹھے یا بھیک مانگنے والے لوگوں کو کوئی توانائی بخش کھانے کی چیز یا کوئی ایسی خوراک دینا جو موسمی اثرات سے جلد خراب نہیں ہوتی، یا پھر اگر آپکی صورتحال اجازت دیتی ہے تو ضرورت مند کو کسی سٹور یا سبزیوں/ پھلوں کی دُکان پر لے جا کر اُسے اُس کی ضرورت کا راشن خرید کر دینا شامل ہیں۔ خُدا چاہتا ہے کہ ہم غریبوں کی مدد کریں اور جب ہم ایسا کرتے ہیں تو وہ ہمیں برکت دیتا ہے۔زبور نویس داؤد بادشاہ کے الفاظ میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ، "مُبارک ہے وہ جو غریب کا خیال رکھتا ہے۔ خُداوندمصیبت کے دِن اُسے چُھڑائے گا۔خُداوند اُسے محفوظ اورجیتا رکھّے گا اور وہ زمین پر مُبارک ہو گا۔ تُو اُسے اُس کے دُشمنوں کی مرضی پر نہ چھوڑ" (41 زبور 1-2آیات)۔ غریبوں اور ہماری اپنی گلیوں کے اندر بھیک مانگنے والوں کی مدد کرنا حقیقت میں ایک بہت اچھا مقصد ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو بھکاریوں اور فقیروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسا سلوک کرنے کی رہنمائی ہمیں خُداوند کی طرف سے ملتی ہے، اور ہمیں کبھی بھی ایسے لوگوں کے لیے دُعا کرنا نہیں بھولنا چاہیے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیحیوں کو بھکاریوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries