settings icon
share icon
سوال

مسیحی علم الانسان/ عقیدہِ بشریات کیا ہے ؟

جواب


علم الانسان /بشریات انسانیت کا مطالعہ ہے۔ مسیحی علم الانسان مسیحیت کے نقطہ نظر سے انسانیت کا مطالعہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر انسان کی ذات کی نوعیت پر مرکوز ہے –یعنی انسان کے غیر مادی اور مادی پہلو ایک دوسرے سے کس طرح تعلق رکھتے ہیں۔ مسیحی بشریات میں کچھ عام سوالات یہ ہیں:

اِ س سے کیا مرادہے کہ بنی نوع انسان کو خدا کی صورت پر اور اُس کی شبیہ کی مانند بنایا گیا ہے (پیدایش 1باب 26-27آیات)؟انسان میں خُدا کی شبیہ سے مُراد انسان کا غیر مادی حصہ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو انسان کو تمام حیوانوں سے علیحدہ کرتی ہے اور انسان کے لیے سب چیزوں پر جو "اختیار" خُدا کو مقصود ہے اُس کے لیے یہ بالکل موزوں ہے (پیدایش 1باب28آیت)، اِس کے ساتھ ساتھ یہ ہمیں اِس قابل بناتی ہے کہ ہم اپنے خالق کے ساتھ رابطہ اور بات چیت کر سکیں۔ یہ مماثلت ذہنی، اخلاقی اور سماجی نوعیت کی ہے۔

کیا ہماری ذات کے دو پہلو ہیں یا پھر تین پہلو ہیں ؟ کیا ہم بدن ، جان اور رُوح ہیں یاپھر بدن اور جان/رُوح ہیں ؟ خُدا چاہتا تھا کہ انسان اُس کے ساتھ تعلق میں رہے اِس لیے اُس نے ہمیں مادی اور غیر مادی دونوں پہلوؤں میں پیدا کیا۔ مادی پہلو ظاہر ہے وہ ہیں جو ٹھوس ہیں اور یہ صرف اُسی وقت تک موجود ہیں جب تک انسان زندہ ہے۔ غیر مادی پہلو وہ ہیں جنہیں ہم اپنے حواس کے ذریعے سے نہیں جان سکتے:جان، رُوح، حکمت، مرضی، شعور وغیرہ۔ یہ خصوصیات کسی بھی انسان کی اِس زمین پر جسمانی زندگی کے بعد بھی موجود رہتی ہیں۔

انسان کی جان اور رُوح کے درمیان کیا فرق ہے ؟یہاں پر اِس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ اِن دونوں سے مُراد انسان کا غیر مادی حصہ /پہلو ہے، لیکن صرف رُوح ہی وہ چیز ہے جو اُس کے خُدا کے ساتھ چلنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ "رُوح" انسان کے اِس دُنیا کے اندر مادی اور رُوحانی دونوں طرح سے چلنے سے تعلق رکھتی ہے۔

مختلف انسانی نسلوں کی ابتدا کب ہوئی؟بائبل ہمیں واضح طور پر انسان کی "مختلف نسلوں " یا اُن کی جلد کے رنگوں کی ابتدا کے بارے میں کوئی خاص تعلیم نہیں دیتی۔ حقیقت میں صرف ایک ہی نسل ہے – یعنی انسانی نسل۔ نسلِ انسانی کے اندر جلد کی رنگت اور جسمانی خصوصیات میں وسیع تنوع موجود ہے۔

مسیحی علم الانسان اِس حوالے سے تعلیم اور معلومات مہیا کرتا ہے کہ ہم کون ہیں اور ہمارا خُدا کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ خُدا کے ساتھ تعلقات کو قائم یا بحال کرنے کے لیے اِس بات کا تعین کرنا ضروری ہے کہ آیا لوگ فطری طور پر اچھے ہیں یا فطری طور پر گناہگار ہیں۔ کیا انسانی رُوح ہماری موت کے بعد بھی اپنا وجود رکھتی ہے یا نہیں، یہ چیز بہت بڑے پیمانے پر اِس بات کا تعین کرتی ہے کہ اِس دُنیا کے اندر ہمارا مقصد کیا ہے۔ مسیحی علم الانسان ہماری مدد کرتا ہے کہ ہم خُدا کے نقطہ نظر سے اپنی ذات کو سمجھیں جب ہم اِس موضوع پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اپنی گناہ میں گری ہوئی فطرت کا واضح ادراک ہوتا ہےاور یہ بات ہمارے نجات دہندہ کی ہمارے لیے محبت کا ہمارے اندر حیرت انگیز احساس پیدا کرتی ہے جس نے ہماری بے بس حالت کو دیکھا اور ہمیں نجات دینے کے لیے صلیب پر جان دینے چلا گیا۔ جب ہم اُس قربانی کو تسلیم کرتے ہیں اور اپنے لیے اُسے قبول کرتے ہیں تو ہماری فطرت خُدا کی مدد سے تبدیل ہو جاتی ہے جوہمارے اندر ایک بالکل نیا انسان پیدا کرتا ہے (2 کرنتھیوں 5باب17آیت)۔ یہ نیا شخص/نیا مخلوق ہی ہے جو خُدا سے اُس طرح سے تعلق رکھ سکتا ہے جیسا کہ ہمیں اُس کے پیارے فرزندوں کے طور پر رکھنا چاہیے ۔

مسیحی علم الانسان کے حوالے سے ایک کلیدی آیت 139 زبور 14 آیت ہے، " مَیں تیرا شکر کروں گا کیونکہ مَیں عجیب و غریب طَور سے بنا ہوں تیرے کام حیرت انگیز ہیں۔ میرا دِل اِسے خُوب جانتا ہے۔ "

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیحی علم الانسان/ عقیدہِ بشریات کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries