settings icon
share icon
سوال

ہم یہ کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ بائبلی نبوّت مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی کر سکتی ہے ؟

جواب


وہ اہم وجہ جس کی بناء پر ہم بائبلی نبوّت پر بھروسہ کر سکتے ہیں یہ ہے کہ یہ بھی باقی کے سارے کلام کی طرح حقیقت میں اِس کائنات کے خالق ہمارے خُداکا "الہام" ہے۔ اور یہ کیونکہ کلام ہے اِ س لیے یہ لاخطا، کامل اور سچا ہے۔ اِس سے پہلے کہ ہم بائبلی نبوّت کے کردار کو سمجھیں ہمارے لیے اِس بات کو سمجھنا ضروری ہے۔ (برائے مہربانی دیکھئے: بائبلی خطا نا پذیری پر ایمان رکھنا اِس قدر اہم کیوں ہے؟)

بائبلی نبوّت دو کردار ادا کرتی ہے۔ یہ مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی کرتی ہے اور یہ اِس بات کی بھی وضاحت کرتی ہے کہ مستقبل کے واقعات کے کیا منفی یا مثبت اثرات ہونگے۔ نبوّت کچھ ایسے واقعات کا اعلان کر سکتی ہے جو خوشی اور مسرت یا پھر خوف اور اندیشہ لاتی ہے۔ جب نبوّت کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو اِس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ سننے والوں کو وہ کسی نہ کسی وجہ سے پسند نہیں آتی ۔ بائبل نبوّت اپنی فطرت اور نوعیت کے لحاظ سے عام نہیں ہوتی، بلکہ یہ اِس لحاظ سے بہت زیادہ مخصوص ہوتی ہے کہ یہ کسی شخص کو یا کسی چیز کو کس طرح سے متاثر کرے گی۔ لیکن یہ ہمیشہ ہی قابلِ اعتبار اور ہمارے بھروسے کے لائق ہوتی ہے۔ہم نبوّت کو اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ خُداوند کی خدمت کے دوران ہماری رہنمائی کرتے ہوئے ہماری زندگی کو ایک نئی شکل دے۔ اِسے ہمارے لیے قوت اور ہدایت کا ایک ذریعہ ہونا چاہیے۔ آج کل کلیسیا کے اندر اور باہر جس چیز کو "نبوّت" کہا جاتا ہے اُس کے برعکس بائبلی نبوّت بالکل درست اور مخصوص ہوتی ہے۔ خُدا جس بھی چیز کی پیشین گوئی کرتا ہے وہ لازمی طو ر پر پوری ہوتی ہے۔

پیدایش 6 باب کے اندر طوفان کی نبوّت اِس کی ایک مثال ہے۔ خُدا طوفان کو لانے کے لیے اپنی وجوہات کو بیان کرتا ہے ، نوح کو زندگیاں بچانے کے لیے ایک خاص کشتی بنانے کی ہدایت کرتا ہے اور پھر دُنیا کی سب سے پہلی عظیم ترین تباہی کو پیدا کرتا ہے۔ پیدایش 9باب12-16آیات کے اندر خُدا نے اِس بات کی بھی نبوّت کی تھی کہ وہ اُس وقت کے بعد پوری زمین پر دوبارہ کبھی ایسا طوفان نہیں لائے گا۔ پیدایش 37باب5-10آیات کے اندر یوسف کے خوابوں میں بھی کئی ایک نبوّتیں پائی جاتی ہیں جو 39 باب سے لیکر کتاب کے آخر تک پوری ہوتی رہیں۔ اِستثنا 18باب18آیت بیان کرتی ہے کہ "مَیں اُن کے لئے اُن ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اُس کے مُنہ میں ڈالُوں گا اور جو کچھ مَیں اُسے حکم دُوں گا وُہی وہ اُن سے کہے گا۔ " موسیٰ کے سامنے کی جانے والی یہ نبوّت یہودی مسیحا ہمارے خُداوند یسوع کے عکس کو پیش کرتی ہے ۔ ۔ اِسی باب کے اندر ہمیں بتایا گیا ہے (اِستثنا 18باب 20 آیت) کہ موسیٰ کے دِنوں میں ‏جھوٹے نبیوں کے ساتھ کیا کِیا جاتا تھا۔ اگر اُن کی نبوّت جھوٹی ہوتی تھی تو اُنہیں سزا دی جاتی تھی۔ یسعیاہ 53 باب کے اندر یسوع مسیح کے بارے میں ایک بہت زبردست پیشین گوئی پائی جاتی ہے جس میں اُسکی جوانی، اُس کی خدمت، اُس کی طرف سے گناہوں کو اُٹھا لینے اور اپنے آپ کو ہمارے گناہوں کی خاطر قربان کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ 22 زبور ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے دُکھوں کے بارے میں ایک اور نبوّت ہے، جسے داؤد کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے جو کہ مسیح کی ذات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

متی 24 باب میں ہمارے خُداوند کی طرف سے پیش کی جانے والی نبوّتوں میں اُس نے جنگوں، قحط، زلزلوں ، ایذا رسانی ، برگشتگی ، دھوکے و بے وفائی اور پھر اپنی اُس غیر متوقع اور آجکل کے دور میں بڑے پیمانے پر رَد کی جانے والی اپنی آمد ِ ثانی کی پیشین گوئی کی ہے ۔ یہ اور دیگر اخیر زمانے کے بارے میں پائی جانے والی نبوّتیں اُتنی ہی قابلِ اعتبار ہیں جتنی کہ طوفان کے بارے میں نوح کو انتباہ کے طور پر دی جانے والی نبوّت۔ اِسی طرح مستقبل میں آنے والے تباہی کے واقعات کے بارے میں پیشین گوئیاں 2 پطرس 2-3 ابواب میں کی گئی ہیں جن کے ساتھ ہی(2 پطرس 3باب7آیت) خُدا کی مداخلت کی بھی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ اور 1 تھسلنیکیوں 4باب13-18آیات میں مسیحیوں کے ساتھ مخلصی یا زندہ کئے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے، اُس دِن ہم زندہ ہوں یامُردہ خُدا ہیں اِس گنا ہ آلود دُنیا میں سے باہر نکال لے گا۔ بائبلی نبوّتیں ہمیں مستقبل کے بارے میں ایک نقشہ مہیا کرتی ہیں۔ کلیسیا کے اُٹھائے جانے کے بارے میں نبوّت کو سمجھنے میں ناکام رہنے کا مطلب خُدا کے ایک بہت بڑے تحفے کو حاصل نہ کر پانا ہے۔

آخر میں چونکہ ہم یوحنا 3 باب 16 آیت پر یقین کر سکتے ہیں کہ خُدا نے ہم سے محبت کی ہے اور ہمارے لیے اپنا بیٹا بخش دیا ہے، تو پھر ہم یقینی طور پر اُس پر اِن ساری نبوّتوں کے سرچشمے کے طور پر بھروسہ کر سکتے ہیں کہ وہ ہمارے مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی کرے ہمارے مستقبل میں ہماری جسمانی اور رُوحانی ضروریات مہیا کرے۔ ہمارے خُداوند یسوع نے یوحنا 14باب2آیت میں کہا ہے کہ "میرے باپ کے گھر میں بہت سے مکان ہیں ۔ اگر نہ ہوتے تو مَیں تم سے کہہ دیتا کیونکہ مَیں جاتا ہوں تاکہ تمہارے لئے جگہ تیّار کروں۔ " اور اِس بات کو سبھی مسیحیوں کے لیے یقین اور حوصلہ افزائی کی نبوّت ہونا چاہیے۔ پس جس طرح آپ اپنا اعتقاد خُدا کے بیٹے خُداوند یسوع مسیح پر رکھتے ہیں اُسی طرح اپنا اعتقاد خُدا کی نبوّتوں پر بھی رکھیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ہم یہ کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ بائبلی نبوّت مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی کر سکتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries