settings icon
share icon
سوال

بائبل تشدد کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

جواب


تشدد کی تعریف کچھ یوں کی جاتی ہے "خلاف ورزی ، نقصان پہنچانے یا بد سلوکی کرنے کے ارادہ سے جسمانی طاقت کا استعمال کرنا "۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تشدد ہماری روزمرّہ کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ یہ ہماری فلموں اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں ہے اور ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں اختیار اور اثرو رسوخ اکثر و بیشتر تشدد کے وسیلہ سے قائم ہوتا ہے ۔ لیکن مسیحیوں کے لیے دنیا کی راہ ہمیشہ کلام کی سچائی سے متاثر ہوتی ہے۔ پس بائبل تشدد کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ تشدد پر مبنی سوچ بھی اُتنی ہی نقصان دہ ہے جتنا ہاتھوں سے تشدد کرنا ۔ احبار 19باب 17آیت بیان کرتی ہے کہ "تُو اپنے دِل میں اپنے بھائی سے بغض نہ رکھنا اور اپنے ہمسایہ کو ضرور ڈانٹتے بھی رہنا تاکہ اُس کے سبب سے تیرے سر گُناہ نہ لگے" ۔ جب ہم جانتے ہیں کہ کوئی شخص گناہ میں جی رہا ہے تو کیا اُس کے بارے میں خاموش رہنا اور اُس کے خلاف دل میں نفرت اور ناراضگی پیدا کر لینا زیادہ محبت بھرا عمل ہے؟ خدا فرماتا ہے کہ ہمیں سچائی سے بات کرنی چاہیے اور یسوع متی 5باب 21-22آیات میں ہمیں بتاتا ہے کہ طیش میں مبتلا شخص کا غصہ اُس پر خدا کی عدالت اُتنی ہی جلدی لانے کا باعث ہو سکتا ہے جتنا اُس کا کسی پر جسمانی طور پر حملہ کرنا ۔ جس تشدد کا وہ شخص کسی اور کے خلاف اظہار کرتا ہے اُسے خدا واپس اُسی پر لا سکتا ہے ۔

جنگ میں تشدد کے بارے میں کیا خیال ہے؟ خروج 20باب 13 آیت کا غلط طور پر "قتل نہ کرنا" ترجمہ کیا گیا تھا لیکن اس کا اصلی مطلب ہے "خون نہ کرنا" ۔تمام تاریخ میں خدا نے اپنے لوگوں کوصرف جنگوں کی اجازت دی ہے۔ ابرہام سے دبورہ اور دبورہ سے داؤد تک خدا کے لوگوں نے ایک پاک اور مقدس خدا کی طرف سے عدالت کے آلہ کار کے طور پر جنگ کی ہے ۔ رومیوں 13باب 1-4آیات ہمیں اعلیٰ حکومتوں کے تابع رہنے کو کہتی ہیں اور یہ بھی کہ حکومتوں کو غیر ملکی اور ملکی بدکاروں کے خلاف تلوار اُٹھانے کا حق حاصل ہے ۔

تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن ہمیں گناہ کے خلاف مقدس عدالت اور اپنے نا پسندیدہ لوگوں کے خلاف اپنے اُس ذاتی انتقام کے درمیان فرق سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے جو ہمارے غرور کا حتمی نتیجہ ہے ( 73زبور 6آیت)۔ گوکہ مرد تشدد ( خصوصاً اِس وجہ سے بھی کہ ثقافتیں حقیقی مردوں کی تصویر کشی اس طرح سے کرتی ہیں جو کبھی نہ روئیں ، جن کے پاس ہمیشہ ایک منصوبہ اور ہاتھ میں بندوق ہو )کو قبول کرنے کا زیادہ رجحان رکھتے ہیں، تاریخ کے سب سے زیادہ ذہین ترین آدمی نے لکھا ہے کہ " تُند خُو آدمی پر حسد نہ کرنا اور اُس کی کسی روِش کو اِختیار نہ کرنا"(امثال 3باب 31آیت)۔ دعا اور صبر تشدد اور غصے کوکسی بھی دن شکست دے سکتے ہیں ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل تشدد کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries