settings icon
share icon
سوال

بائبل وقت کی تنظیم / مینجمنٹ کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

جواب


ہماری زندگی کے مختصر ہونے کے باعث وقت کی تنظیم بہت ضروری ہے۔ ہمارا زمینی قیام ہماری سوچ کے مقابلے میں نمایاں طور پر مختصر ہے۔ جیسا کہ داؤد نبی بڑے مناسب انداز میں واضح کرتا ہے "دیکھ! تُو نے میری عُمر بالِشت بھر کی رکھّی ہے اور میری زِندگی تیرے حضُور بے حقِیقت ہے۔ یقیناً ہر اِنسان بہترین حالت میں بھی بِالکُل بے ثبات ہے "(39زبور 4-5آیات)۔ یعقوب رسول اِنہی الفاظ کو دہراتا ہے :" تمہاری زِندگی چیز ہی کیا ہے؟ بُخارات کا سا حال ہے۔ ابھی نظر آئے۔ ابھی غائب ہو گئے"(یعقوب 4باب 14آیت)۔ بلاشبہ، زمین پر ہماراقیام عارضی ہے-درحقیقت، یہ ابدیت کے مقابلہ میں لامحدود طور پر تھوڑا ہے۔ جیسے خدا چاہتا ہے کہ ہم جئیں اُس طرح سے جینے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اُس وقت کا بہترین استعمال کریں جو ہمیں عطا کیا گیا ہے ۔

موسیٰ نبی دعا کرتا ہے"ہم کو اپنے دِن گننا سکھا۔ اَیسا کہ ہم دانا دِل حاصل کریں"(90زبور 12آیت)۔ ہر دن کو ابدیت کے نقطہ نظر کے ساتھ جینا سیکھنا دانابننے کا ایک بہترین طریقہ ہے ۔ ہمارے خالق نے ہمارے دِلوں میں ابدیت کے تصور کو قائم کیا ہے (واعظ 3باب 11آیت)۔ یہ جاننا ہمارے لیے وقت کو اچھے طور پر استعمال کرنے کی ترغیب کا باعث ہونا چاہیے کہ اِس وقت کا ہمیں اُسے حساب دینا پڑے گا جس نے ہمیں یہ عطا کیا ہے ۔ سی ایس لوئیس/ C. S. Lewisاس بات کو سمجھتا تھا: "اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ جن مسیحیوں نے موجودہ دنیا کے لیے سب سے زیادہ کام کیا صرف وہی تھے جنہوں نے آنے والے وقت کے بارے میں سب سے زیادہ سوچا تھا۔"

افسس کی کلیسیا کے نام اپنے خط میں پولس نے مقدسین کو خبردار کیا کہ"پس غور سے دیکھو کہ کس طرح چلتے ہو۔ نادانوں کی طرح نہیں بلکہ داناؤں کی مانِند چلو۔ اور وقت کو غنیمت جانو کیونکہ دِن بُرے ہیں" (افسیوں 5باب 15-16آیات )۔ اپنے وقت کواحتیاط سے استعمال کرنا دانائی سے زندگی بسر کرنے میں شامل ہے۔ یہ جاننا کہ فصل بہت زیادہ اور مزدور کم ہیں (لوقا 10باب 2آیت) اور یہ بھی کہ وقت تیزی سے گھٹتاجا رہا ہےہمیں اپنے الفاظ اور اپنے کردار کے ذریعے گواہی دینے کے لیے اپنے وقت کا بہتر استعمال کرنا چاہیے۔ ہمیں عملاً اور سچائی کے ساتھ دوسروں سے محبت کرنے میں وقت گزارنا چاہیے (1 یوحنا 3باب 17-18آیات )۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دنیا کی ذمہ داریاں اور دباؤ ہماری توجہ کو اصل چیز سے ہٹادیتے ہیں۔ بے شمار چیزیں ہمیں مختلف سمتوں میں کھینچتی ہیں اور یہ بات ہمارے وقت کا دنیاوی اور کم اہم معاملات میں استعمال ہونے کو آسان بناتی ہے ۔ یوں وہ کوششیں جن کی ابدی قدر ہوتی ہےاکثر ایک طرف دھکیل دی جاتی ہے۔ توجہ کے منتشر ہونے سے بچنے کے لیےہمیں ترجیحات اور اہداف طے کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں جس حد تک بھی ممکن ہو ہمیں کئی ذمہ داریوں کو دوسروں کو سونپنے کی ضرورت ہے۔ یاد کریں کہ موسیٰ کے خُسریترو نے کیسے سمجھداری سے اُسے اُس کی ذمہ داریوں کے کچھ بوجھ کو دوسر وں کو سونپناسکھایا تھا(خروج 18باب 13-22آیات)۔

اپنے کام کے اُصول و ضوابط کے حوالے سے ہمیں یاد ہے کہ خدا نے تخلیق کا اپنا تمام کام چھ دنوں میں مکمل کیا اور ساتویں دن آرام کیا تھا ۔ کام اور آرام کے درمیان یہ تناسب ہمارے کام کے اُصول و ضوابط کے حوالے سے ہمارے خالق کی توقعات پر روشنی ڈالتا ہے۔ درحقیقت، امثال 6باب 10-11 آیات کاہلی بھرے رویے کے بارے میں خُداوند کی نفرت کو ظاہر کرتی ہیں: "تھوڑی سی نِیند۔ ایک اَور جھپکی۔ ذرا پڑے رہنے کو ہاتھ پر ہاتھ۔ اِسی طرح تیری مُفلسی راہزن کی طرح اور تیری تنگ دستی مسلّح آدمی کی طرح آ پڑے گی" (امثال 12باب 24آیت؛ 13باب 4آیت؛ 18باب 9 آیت؛ 20 باب 4آیت؛ 21باب 25آیت؛ 26باب 14آیت بھی دیکھیں)۔ مزید برآں، توڑوں کی تمثیل (متی 25باب 14-30آیات) ضائع کردہ موقع کے المیے کے ساتھ ساتھ خداوند کے آنے تک وفاداری سے محنت کرنے کی اہمیت کو بھی واضح کرتی ہے۔

ہمیں اپنی زمینی ملازمت میں مستقل مزاجی سے کام کرنا چاہیے مگر ہمارا "کام" فقط اُن سرگرمیوں تک محدود نہیں ہے جو ہم مالی فائدے کے لیے سرانجام دیتے ہیں۔ درحقیقت ہم جو کچھ کرتے ہیں اُس میں ہماری بنیادی توجہ خدا کے نام کو جلال دینے پر مرکوز ہونی چاہیے (کلسیوں 3باب 17 آیت)۔ کلسیوں 3باب 23-24آیات بیان کرتی ہیں کہ " جو کام کرو جی سے کرو۔ یہ جان کر کہ خُداوند کے لئے کرتے ہو نہ کہ آدمیوں کے لئے۔ کیونکہ تم جانتے ہو کہ خُداوند کی طرف سے اِس کے بدلہ میں تم کو میراث مِلے گی۔ تم خُداوند مسیح کی خِدمت کرتے ہو"۔ خداوند یسوع نے آسمان پر مال جمع کرنے کی بات کی ہے (متی 6باب 19-21آیات)۔ ہمیں دنیاوی دولت کے حصول میں خود کو نڈھال نہیں کرنا چاہیے (یوحنا 6باب 27آیت )۔ بلکہ ہمیں ہر اُس چیز کے لیے اپنی پوری کوشش کرنی ہے جس کے لیے خدا نے ہمیں بلایا ہے۔ ہماری تمام کوششوں- ہمارے تعلقات، ہماری محنت، ہماری تعلیم، دوسروں کی خدمت، ہماری زندگی کی انتظامی تفصیلات، اپنے بدنوں کی دیکھ بھال، تفریح وغیرہ - میں ہماری بنیادی توجہ خدا ہے۔ یہ خدا ہی ہے جس نے زمین پر ہمیں یہ وقت دیا ہے اور وہی ہمیں ہدایت کرتا ہے کہ ہم نے اُسے کیسے خرچ کرنا ہے ۔

واضح رہے کہ آرام کرنا وقت کا جائز اور ضروری استعمال ہے۔ ہم خُدا کے ساتھ دونوں شخصی اور اجتماعی طور پر وقت گزارنے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ہمیں یقیناً دوسروں کے ساتھ تعلقات میں وقت خرچ کرنے اور زندگی کے معاملات میں سخت محنت کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے۔ لیکن ہم اس تازگی کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے جو وہ ہمیں آرام کے اوقات میں بخشتا ہے۔ آرام کرنا وقت کا ضیاع نہیں بلکہ یہ تازگی ہی ہے جو ہمیں وقت کا بہتر استعمال کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ یہ ہمیں اس بات کی بھی یاد دلاتی ہے کہ بنیاد ی طور پر خدا ہی اختیار کا حامل ہے جو ہماری ہر ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ جب ہم اپنے وقت کا اچھی طرح سے انتظام کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم آرام کے باقاعدہ اوقات کو مقرر کرنے میں دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

سب سے اہم بات، ہمیں خُدا کے ساتھ باقاعدگی کیساتھ –روزانہ کی بنیاد پر -وقت گزارنے کی ضرورت ہے۔وہی تو ہے جو ہمیں اُن کاموں کو انجام دینے کے لئے تیار کرتا ہے جو اُس نے ہمیں سونپے ہیں۔ وہی ہے جو ہمارے دنوں کو ترتیب دیتا ہے۔ سب سے بُرا کام ہم یہ کر سکتے ہیں کہ ہم اپنے وقت کی تنظیم اس طرح سے کریں کہ گویا یہ ہمارا ہے۔ چونکہ یہ وقت خُدا کا ہے اس لیے اُس سے حکمت کی درخواست کریں کہ اِس کا بہترین استعمال کیسے کیا جائے پھر اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں، اس تنظیم میں اُس کی اصلاح کاری کے لیے حساس ہوں اور اُس سب میں خدا کی مقرر کردہ مداخلت کے لیے تیار رہیں۔

اگر آپ وقت کے استعمال کے حوالے سے تبدیلی کرنا چاہتے ہیں تو پہلا قدم غور و خوص کرنا ہے۔ اپنے وقت کی تنظیم پر غور کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔ یہ مضمون وہ چند باتیں بیان کرتا ہے جو خدا وقت کے بارے میں فرماتا ہے۔ کلام مقدس میں سے اس موضوع کا مزید مطالعہ کرنا دانشمندی ہوگی۔ غور کریں کہ خدا کن چیزوں کو قابلِ قدر سمجھتا ہے۔ غور کریں کہ اُس نے آپ کو بالخصوص کس کام کے لیے بلایا ہے۔ غور کریں کہ آپ اپنا کتنا وقت اُن کاموں میں لگا رہے ہیں۔ غور کریں کہ آپ کا باقی وقت کن کن کاموں میں خرچ ہو رہا ہے۔ ترجیحات اور ذمہ داریوں کی فہرست بنائیں اور خدا سے درخواست کریں کہ وہ آپ کو اس حوالے سے کسی بھی طرح کی ضروری تبدیلی کو سرانجام دینے کے لیے ہدایت کرے۔ اپنی ترجیحات اور وقت کے استعمال پر غور کرنا باقاعدگی سے مشغول ہونے کی اچھی مشق ہے۔ کچھ لوگوں نے پایا ہے کہ اُن کے وقت کی تنظیم / مینجمنٹ کا دانستہ طور پر سالانہ جائزہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔

بائبل وقت کے حوالے سے نصیحت کرتی ہے کہ ہمیں اپنی توجہ اُس چیز پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جو اِس وقتی دنیا کی عارضی لذتوں کے برخلاف ابدی ہے۔ اس کے مطابق جیسے جیسے ہماری زندگیوں کے راستے خدا کے حتمی مقصد کی طرف بڑھتے جاتے ہیں ویسے ویسے ہمیں مستعدی اور نیک ارادوں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے ۔ خُدا کے ساتھ گزارا گیا وقت اور کلامِ مقدس کو پڑھنا اور دُعا کے ذریعے اُسے جاننا کبھی ضائع نہیں جاتا۔ مسیح کے بدن کی تعمیر اور خدا کی محبت کے ساتھ دوسروں سے محبت کرنے میں خرچ کیا گیا وقت (عبرانیوں 10باب 24-25آیات؛ یوحنا 13باب 34-35 آیات ؛ 1یوحنا 3باب 17-18آیات) سب سے اچھی طرح گزرا گیا وقت ہے ۔ انجیل کو بانٹنے میں لگایا گیا وقت تاکہ دوسرےلوگ مسیح یسوع میں نجات سے واقف ہوں ابدی پھل پیدا کرتا ہے (متی 28باب 18-20آیات )۔ ہمیں اس طرح جینا چاہیے جیسے ہر لمحہ اہمیت رکھتاہے - کیونکہ یہ واقعی اہمیت رکھتاہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل وقت کی تنظیم / مینجمنٹ کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries