settings icon
share icon
سوال

بائبل شکرگزاری کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

جواب


شکر گزاری بائبل کے اندر ایک بہت ہی نمایاں موضوع ہے۔ 1 تھسلنیکیوں 5باب16-18 آیات میں کہا گیا ہے کہ "ہر وقت خُوش رہو۔ بِلاناغہ دُعا کرو۔ہر ایک بات میں شکر گُذاری کرو کیونکہ مسیح یِسُوع میں تمہاری بابت خُدا کی یہی مرضی ہے۔ "شکرگزاری ہماری زندگی کا طررِ عمل ہونا چاہیے اور فطرتی طور پر اِسے ہمارے دِلوں اور منہ سے جاری ہونا چاہیے۔

جب ہم کلام کا تھوڑی گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں تو ہم سمجھ پاتے ہیں کہ ہمیں کیوں شکرگزار ہونا چاہیے اور مختلف حال میں شکر گزاری کیسے کرنی چاہیے۔

136 زبور 1 آیت بیان کرتی ہے کہ "خُداوند کا شکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔ " یہاں ہمارے پاس شکر گزار ہونے کی دو وجوہات ہیں: خُدا کی مستقل بھلائی اور اُس کی ابدی شفقت۔ جب ہم اپنی بد عنوانی کی نوعیت کو پہچانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ خُدا سے دوری موت ہے (یوحنا 10باب 10 آیت؛ رومیوں 7باب 5 آیت)، تو ہمارا فطری رِدعمل خُدا کا اِس زندگی کے لیے شکر گزار ہونا ہوتا ہے۔

زبور 30 رہائی اور نجات کے لیے خُدا کی تعریف کرتا ہے۔ داؤد لکھتا ہے کہ "اَے خُداوند!مَیں تیری تمجید کرُوں گا کیونکہ تُونے مُجھے سرفراز کِیا ہے اور میرے دُشمنوں کو مجھ پر خُوش ہونے نہ دِیا۔اَے خُداوند میرے خُدا! مَیں نے تجھ سے فریاد کی اور تُو نے مجھے شِفا بخشی ۔اَے خُداوند! تُو میری جان کو پاتال سے نِکال لایاہے ۔ تُو نے مُجھے زِندہ رکھّا ہے کہ گور میں نہ جاؤُں۔۔۔تُو نے میرے ماتم کو ناچ سے بدل دِیا۔ تُو نے میرا ٹاٹ اُتار ڈالا اور مجھے خُوشی سے کمربستہ کِیاتاکہ میری رُوح تیری مدح سرائی کرے اور چُپ نہ رہے۔ اَے خُداوند میرے خُدا! مَیں ہمیشہ تیرا شُکر کرتا رہُوں گا۔ " (30 زبور 1-12 آیات)۔ یہاں پر داؤد واضح طور پر مشکل حالات کے بعد خُدا کا شکر ادا کرتا ہے۔ شکر گزاری کا یہ زبور نہ صرف اِس لمحے خُدا کی تعریف کرتا ہے بلکہ خُدا کی ماضی کی وفا داری کو بھی یاد کرتا ہے۔ یہ خُدا کے اُس کردار کا بیان ہے جو اتنا حیرت انگیز ہے کہ اُس پر نظر کرنے کے بعد مناسب رَد عمل تعریف ہی بنتا ہے۔

‏ ہمارے پاس مشکل حالات کے درمیان شکر گزار ہونے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔مثال کے طور پر 28 زبور میں داؤد کی پریشانی کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ خُدا کے حضور رحم، تحفظ اور انصاف کے لیے پکار ہے۔ خُدا کے سامنے فریاد کرنے کے بعد داؤد لکھتا ہے کہ ، "خُداوند مُبارک ہو۔ اِس لئے کہ اُس نے میری مِنّت کی آواز سُن لی ۔خُداوند میری قُوّت اور میری سِپر ہے ۔ میرے دِل نے اُس پر توکُّل کِیا ہے اور مجھے مدد مِلی ہے اِسی لئے میرا دِل نہایت شادمان ہے اور مَیں گیت گا کر اُس کی ستایش کرُوں گا "(28 زبور 6-7 آیات)۔ اپنی مصیبتوں کے درمیان میں داؤد کو یاد آتا ہے کہ خُدا کون ہے اور خُدا کو جاننےا ور اُس پر بھروسہ کرنے کے نتیجے میں وہ خُدا کا شکر ادا کرتا ہے۔ ایوب بھی اِسی طرح موت جیسی مصیبت کا سامنا کرتے ہوئے بھی خُدا کی حمدو ستائش اور شکر گزاری کا رویہ اپناتا ہے : "خُداوند نے دِیا اور خُداوند نے لے لِیا ۔ خُداوند کا نام مُبارک ہو " (ایوب 1باب21 آیت) ۔

نئے عہد نامے میں بھی ایمانداروں کی طر ف سے شکرگزاری کی مثالیں موجود ہیں۔ پولس پر بہت زیادہ ظلم کیا گیا پھر بھی اُس نے لکھا،"مگر خُدا کاشکر ہے جو مسیح میں ہم کو ہمیشہ اسِیروں کی طرح گشت کراتا ہے اور اپنے عِلم کی خُوشبُو ہمارے وسیلہ سے ہر جگہ پَھیلاتا ہے" (2 کرنتھیوں 2باب14 آیت)۔ عبرانیوں کا مصنف کہتا ہے کہ "پس ہم وہ بادشاہی پا کر جو ہلنے کی نہیں اُس فضل کو ہاتھ سے نہ دیں جس کے سبب سے پسندِیدہ طَور پر خُدا کی عبادت خُدا ترسی اور خَوف کے ساتھ کریں" (عبرانیوں 12باب28 آیت) ۔ پطرس یہ کہتے ہوئے "غم اور ہر طرح کی آزمائشوں " کے لیے شکر گزاری کرنے کی ایک وجہ بیان کرتا ہے: "اِس کے سبب سے تُم خُوشی مناتے ہو ۔ اگرچہ اب چند روز کے لئے ضرُورت کی وجہ سے طرح طرح کی آزمایشوں کے سبب سے غم زدہ ہو۔اور یہ اِس لئے ہے کہ تمہارا آزمایا ہُوا اِیمان جو آگ سے آزمائے ہُوئے فانی سونے سے بھی بُہت ہی بیش قیمت ہے یِسُو ع مسیح کے ظہور کے وقت تعرِیف اور جلال اور عِزت کا باعِث ٹھہرے"(1 پطرس 1باب6-7 آیات)۔

خُدا کے لوگ شکر گزاری کرنے والے لوگ ہیں کیونکہ اُنہیں احساس ہے کہ اُنہیں خُدا کی طرف سے کس قدر دیا گیا ہے۔ 2 تیمتھیس 3باب2 کے مطابق اخیر زمانے کی خصوصیات میں سے ایک شکرگزاری کی کمی بھی ہوگی۔ شریر لوگ "ناشکر" ہونگے۔

ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ خُدا ہماری شکر گزاری کے لائق ہے۔ اُسے "ہر ایک اچھی بخشش اور کامل انعام"کے جواب میں شکر گزاری کی نذر چڑھانا ہی درست ہے(یعقوب 1باب17 آیت)۔ جب ہم شکر گزار ہوتے ہیں تو ہماری توجہ خود غرضانہ خواہشات اور موجودہ حالات کے درد سے ہٹ جاتی ہے۔ شکر گزاری کا اظہار یہ یادر رکھنے میں ہماری مدد کرتا ہے کہ ہر ایک چیز پر خُدا کا اختیار ہے۔ ایسے میں شکر گزاری محض مناسب نہیں بلکہ شکرگزاری ہی صحت مند اور مفید رویہ ہے۔ شکر گزاری ہماری اُس بڑی تصویر کو یاد کرنے میں مدد کرتی ہے کہ ہم خُدا کے ہیں اور ہمیں ہر ایک رُوحانی نعمت سے نوازہ گیا ہے (افسیوں 1باب3 آیت۔ سچ ہے کہ ہمارے پاس کثرت کی زندگی ہے (یوحنا 10باب 10 آیت)اور اِس کے لیے شکرگزاری کرنا بہت مناسب بات ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل شکرگزاری کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries