settings icon
share icon
سوال

بائبل ذہنی تناؤ کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب


لغت میں تناؤ کی تعریف "جسمانی، ذہنی یا جذباتی دباؤ یا کشیدگی " کے طور پر کی جاتی ہے۔ کچھ طرح کے تناؤ ضروری اور اچھے بھی ہیں - جیسے کہ ہم اپنے پٹھوں کو مضبوط بنانے کے لیے اِن پر طبعی دباؤ ڈالتے ہیں۔ لیکن جب ہم "تناؤ" کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم عام طور پر ضرورت سے زیادہ یا منفی ذہنی /جذباتی دباؤ یا کشیدگی کا حوالہ دے رہے ہوتے ہیں۔ گوکہ بائبل میں "تناؤ" کا خاص طور پر تذکرہ نہیں کیا جاتا لیکن کلام مقدس اضطراب، فکر مندی اور پریشانی – یعنی اُن چیزوں کا ذکر کرتا ہے جنہیں ہم اکثر تناؤ سے منسلک کرتے ہیں –اور بائبل ہمیں اِس بات کے واضح جوابات بھی دیتی ہے کہ ہمیں اُن سے کیسے نمٹنا چاہیے۔

ہر کوئی کسی نہ کسی وقت تناؤ کا تجربہ کرتاہے۔ ہم قدرتی طور پر اس سے کیسے نمٹتے ہیں اِس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم کون ہیں۔ کچھ لوگوں کے لیے جذباتی تناؤ جسمانی بیماری کا سبب بنتا ہے۔ اور لوگ معمول سے زیادہ کام کرنے والے بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ لوگ دباؤ یا تناؤ میں ذہنی اور جذباتی لحاظ سے کام کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ اور یقیناً مختلف طرح کے دیگر اور بھی ردعمل موجود ہیں۔ تناؤ ایک عام انسانی تجربہ ہے، بالخصوص ایک ایسی دنیا میں جہاں وقت اور توجہ سے متعلق ہمارے تقاضے نہ ختم ہونے والے دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے پیشے ، صحت، خاندان، دوست احباب اور یہاں تک کہ خدمتی سرگرمیاں ہمیں مغلوب کر سکتی ہیں۔ تناؤ کا حتمی حل یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو خدا کے سپرد کریں اور ترجیحات کے بارے میں اُس کی حکمت کے ساتھ ساتھ اُن کاموں کو کرنے کے لیے اُس کی قوت کی تلاش کریں جن کے لیے وہ ہمیں بلاتا ہے۔چونکہ وہ ہمیشہ ہمیں بکثرت عطا کرتا ہے لہذا ہمیں دباؤ سے مغلوب ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

مالی معاملات تناؤ کی ایک عام وجہ ہیں ۔ ہم پیسے کے حوالے سے دباؤ محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہمیں ہمیشہ ایسا لگتا کہ ہمارے پاس کافی پیسہ نہیں ہے۔ ہم اپنے تمام بلوں ، آمدنی سے زیادہ واجباب ادا کرنے کے قابل ہونے کی فکر کرتے ہیں ۔ یا پھر ہم مادیت پرستی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اُس کے نتیجے میں اپنے طرز زندگی کو برقرار رکھنے کے بارے میں دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اس سبب سے مالی معاملات کے حوالے سے دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ وہ زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے لیے خدا پر بھروسہ نہیں رکھتے۔

لیکن خداوند یسوع نے فرمایا ہے کہ " اِس لئے مَیں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فِکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے؟ اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے؟ کیا جان خُوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟ تم میں اَیسا کَون ہے جو فِکر کر کے اپنی عُمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟"(متی 6 باب 25، 27آیات)۔ یہ سچ ہے کہ ہمیں پیسے کے اچھے منتظمین بننے اور اپنے خاندانوں کا بندوبست کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے (1 تیمتھیس 5باب 8 آیت ) لیکن ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارا بندوبست کرنے والا بنیادی طور پر خداہی ہے۔ اگر ہم اُس کے ہیں تو ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ وہ ہمیں چھوڑ دے گا۔ دوسری جانب ایسے لوگ ہیں جن کا مالی معاملات سے متعلق تناؤ حقیقی ضرورت سے زیادہ مادی حرص کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مادیت پسندی ناگزیر طور پر تناؤ کا باعث بنتی ہے کیونکہ جب ہم دنیا کی چیزوں کی تلاش کرتے ہیں تو ہم "دولت کے فریب" (مرقس 4باب 19آیت ) کا شکار ہو جاتے ہیں -یہ جھوٹ ہے کہ ایسی چیزیں تناؤ کو دور کرتی اور خوشی، اطمینان اور شادمانی کا باعث بنتی ہیں- مگر حقیقت میں وہ ایسا نہیں کرتیں۔

کسی مشکل یا آزمایش کا سامنا کرنے پر بھی ہم خود کو تناؤ کی حالت میں پا سکتے ہیں۔ یعقوب رسول 1باب 2-4آیات میں نصیحت کرتا ہے"اَے میرے بھائیو! جب تم طرح طرح کی آزمایشوں میں پڑو۔ تو اِس کو یہ جان کر کمال خُوشی کی بات سمجھنا کہ تمہارے اِیمان کی آزمایش صبر پیدا کرتی ہے۔ اور صبر کو اپنا پُورا کام کرنے دو تاکہ تم پُورے اور کامِل ہو جاؤ اور تُم میں کسی بات کی کمی نہ رہے"۔ جب ہم مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو ہم تناؤ سے مغلوب ہو سکتےہیں یا ہم اُسے ایک ایسے وسیلے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس کے ذریعے خُدا ہمارے ایمان کو مضبوط کر سکتا اور ہمارے کردار کو تشکیل دے سکتا ہے (رومیوں 5باب 3-5آیات؛ 8باب 28-29آیات)۔ جب ہم اپنی توجہ خدا پر مرکوز کرتے ہیں تو ہم اپنے دکھوں میں تسلی اور اِنہیں برداشت کرنے کی قوت پاتے ہیں (2 کرنتھیوں 1باب3-4آیات؛ 12باب 9-10آیات)۔

ہماری زندگیوں میں تناؤ کی نوعیت سے قطع ِ نظر اِس سے نمٹنے کا نقطہ آغاز یسوع مسیح ہے۔خداوند یسوع یوحنا 14باب 1آیت میں ہماری بڑی حوصلہ افزائی کرتا ہے: " تمہارا دِل نہ گھبرائے۔ تم خُدا پر اِیمان رکھتے ہو مجھ پر بھی اِیمان رکھّو"۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں اُس کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے کیونکہ صرف وہی ہے جو ہماری زندگیوں میں آنے والی پریشانیوں سے نمٹنے کی ہمیں قوت دے سکتا ہے۔ اُس پر ایمان رکھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم پریشانی سے پاک زندگی گزاریں گے یا یہ کہ ہم خود کو اپنی زندگیوں میں تناؤ سے مغلوب نہیں پائیں گے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسی زندگی جو یسوع مسیح کے بغیر ہے وہ تناؤ سے نمٹنے کے عمل کو ایک ناممکن اور اکثر کمزور کرنے والا کام بنا دیتی ہے۔

ایمان لانا اعتقاد کا باعث بنتا ہے۔ امثال 3باب 5-6آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ "سارے دِل سے خُداوند پر توکُّل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔ اپنی سب راہوں میں اُس کو پہچان اور وہ تیری راہنُمائی کرے گا"۔ "اپنے فہم پر تکیہ " کرنے کا اکثر مطلب تناؤ کو دور کرنے کے دنیا کے طریقوں - شراب یا منشیات یا بے ہودہ تفریح جیسی چیزوں- کو اپنانا ہے ۔ اِس کی بجائےہمیں اُس کے کلام پر بھروسہ کرنا ہے جو کہ کم تناؤ والی زندگی کے لیے ہماری حتمی رہنمائی ہے۔ داؤد نبی کہتا ہے" مَیں خُداوند کا طالِب ہُوا۔ اُس نے مجھے جواب دِیا اور میری ساری دہشت سے مجھے رہائی بخشی"(34زبور 4آیت )۔ داؤد نبی جانتا تھا کہ خُداوند کی تلاش کرنے اور اپنی مشکلات کواُس کے ساتھ بانٹنے سے اُسے ممکنہ طور پر خُدا کی خوشنودی حاصل ہوگی۔ خُداوند نے اُسے جواب دیا اور اُسے تسلی بخشی دیا۔

کلامِ مقدس میں شاید کوئی بھی حوالہ فلپیوں 4باب 6-7آیات سے زیادہ بہتر طور پر اس بات کا احاطہ نہیں کرتا ہے کہ دباؤ سے کیسے نمٹا جائے : "کسی بات کی فِکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دُعا اور مِنّت کےوسیلہ سے شُکرگُذاری کے ساتھ خُدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ تو خُدا کا اِطمِینان جو سمجھ سے بِالکُل باہر ہے تمہارے دِلوں اور خیالوں کو مسیح یِسُوع میں محفُوظ رکھّے گا"۔ خُداوند ہمیں کسی بھی بات کے لیے فکر مند نہ ہونےکی بجائے دُعا میں سب کچھ اُس کےحضور لانے کو کہتا ہے ۔ اپنے بوجھ اور خدشات کو ہر روز ایک مقدس اور راستباز خُدا کے پاس لانا ہماری زندگی میں تناؤ کو کم یا ختم کر دے گا۔ 55زبور 22آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہم اپنی تمام فکریں اُسی پر ڈال دیں کیونکہ وہ ہمیں سنبھالے رکھے گا اور ہمیں کبھی مایوس نہ ہونے دے گا (1 پطرس 5باب 6-7آیات بھی دیکھیں)۔ اگر ہم اپنی پریشانیوں اور خدشات کے ساتھ یسوع مسیح کے پاس آتے ہیں تو وہ ہمیں اطمینان بخشتا ہے ۔ " مَیں تمہیں اِطمِینان دِئیے جاتا ہُوں۔ اپنا اِطمِینان تمہیں دیتا ہُوں۔ جس طرح دُنیا دیتی ہے مَیں تمہیں اُس طرح نہیں دیتا۔ تمہارا دِل نہ گھبرائے اور نہ ڈرے"(یوحنا 14باب 27آیت)۔

ہر قسم کا تناؤ زندگی کا ایک فطری حصہ ہے (ایوب 5باب 7آیت ؛ 14باب 1آیت؛1پطرس 4باب 12آیت؛ 1کرنتھیوں 10باب 13آیت)۔ لیکن ہم اس سے کیسے نمٹتے ہیں یہ ہم پر منحصر ہے۔ اگر ہم اپنے طور پر ایسا کرنے کی کوشش کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہم دیرپا آرام نہیں پائیں گے۔ تناؤ سے مستقل اور کامیابی کیساتھ نمٹنے کا واحد راستہ ہم صرف یسوع مسیح میں پاسکتے ہیں ۔ سب سے پہلے، ہمیں اُس پر ایمان لانا چاہیے ۔ دوسرا، ہمیں اُس پر بھروسہ اور اُس کی فرمانبرداری کرنے کی ضرورت ہے۔ جو کچھ صحیح ہے اُسے کرنے کے لیےہمیں اُس پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ اُس کے راستے ہمارے لیے ہمیشہ بہترین ہوتے ہیں۔ نافرمانی اور گناہ تناؤ کو جنم دے سکتے اور ہمیں اطمینان اور خوشی کے واحد وسیلے سے جُدا کر سکتے ہیں۔ اُس کے احکام پر عمل کرنے سے ہم ایک محبت کرنے والے خُدا کی طرف سے حقیقی اطمینان کی برکات حاصل کرتے ہیں۔ آخر میں، ہمیں اپنے ذہنوں کو ہر روز اس کے کلام سے بھر نے ، تمام باتوں کو دعا میں اُس کے پاس لانے اور خوف اور تعظیم کے ساتھ اُس سے سیکھنے کے وسیلہ سے اُس کا اطمینان حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری زندگی میں موجود تناؤ کیساتھ صرف اور صرف اُس کے فضل، رحم اور محبت کے وسیلہ سے نمٹا جا سکتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل ذہنی تناؤ کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries