کیا بائبل آج کے لئے مناسب ہے؟



سوال: کیا بائبل آج کے لئے مناسب ہے؟

جواب:
عبرانیوں 4:12 کہتا ہے "کیونکہ خدا کا کلام زندہ اور مؤثر اور ہر ایک دھ دھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جان اور روح اور بند بند اورو گودے گودے کو جدا کرکے گزر جاتا ہے اور دل کے خیالوں اور ارادوں کو جانچتاہے۔" جبکہ بائبل کی تصنیف کا کام 1900 سال پہلے پورا ہو چکا تھا۔ اس کی درستی اور مناسبت آج تک غیر تبدیلی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ بائبل ان تمام مکاشفوں کے ذرائع کی ایک زندہ مثال ہے جسے خدا نے اپنی بابت اور انسانیت کے لئے کے پاک منصوبہ کی بابت ہم کو عطا ہوئی ہے۔

بائبل میں قدرتی دنیا کی بابت ایک بڑے معقول مقدار میں اطلاعات پائی جاتی ہیں جو کہ مطابق سائنس کے معائنوں اور تحقیقات کے ذریعہ تصدیق کی گئی ہیں۔ ان میں سے کچھ عبارتیں ہیں: احبار 17:11؛ واعظ 7 -6 :؛ 1 ایوب 29-27 :36؛ زبور شریف 27-25 :102 اور کلیسیوں 17-16 :1۔ جیسے ہی انسانیت کے لئے خدا کے چھٹکارے کا منصوبہ ظاہر ہو تا ہے تو کئی ایک شخصیتوں کے بارے میں ان کی بابت آپ بیتی کھل کر بیان کی گئی ہے۔ ان بیانات میں بائبل انسانی سلوک اور خصلتوں کی بابت اطلاعات کی ایک بڑی مقدار فراہم کرتی ہے۔ ہمارے خود کے روز مرہ کے تجربات ہمیں بتاتےہیں کہ یہ اطلاعات بالکل صحیح ہیں اور انسانی حالت کو بیان کرنے کے لائق ہے جو کسی عضویات کے درسی کتاب سے بھی بڑھ کر ہے۔ کئی ایک تاریخی حقیقتیں بائبل میں قلمبند کئے گئے ہیں جو متضاد بائبل کے زاویوں سے تصدیق کی گئی ہیں۔ تاریخی تحقیقات اکثر بتاتے ہیں کہ بائبل کے جائزے اور متضاد بائبل کے جائزوں کے بیچ ایک ہی واقعات سے متفق ہیں۔

کسی طرح بائبل ایک تاریخی کتاب، علم النفسیات کی درسی کتاب، یا پھر ایک سائنس سے متعلق روزنامہ نہیں ہے۔ بائبل ایک ایسا بیان ہے جس میں خدا نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ خود کون ہے اور انسانیت کے لئے اس کی پاک مرضی اور منصوبے کیاہیں۔ اس مکاشفہ کا سب سے زیادہ معنی خیز حصہ خدا سے ہماری جدائی کی کہانی کا ہے جو گناہ کے سبب سے ہے۔ اس کہانی کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ خدا اپنے بیٹے یسوع مسیح کی قربانی صلیب پر دیتا ہے جس کے ذریعہ سے وہ ہم سے رفاقت رکھتا اور بحالی فراہم کرتاہے۔ ہمارے چھٹکارے کی ضرورت کو لے کر کوئی بدلاؤ نہیں ہے نہ ہی خدا خود ہو کو ہم سے میل ملاپ کی خواہش رکھتا ہے۔

بائبل میں منا سب اور ٹھیک ٹھیک اطلاعات کی ایک بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ بائبل کا سب سے اہم پیغام چھٹکارے کا پیغام ہے جو انسانیت کے لئے عالم گیر طور پر اور متواتر قابل استعمال ہے۔ خدا کا کلام کبھی بھی پرانا نہیں ہوتا۔ وہ نہ منسوخ ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ تہذیب بدلتے، قانون بدلتے، ایک پیڑھی جاتی اور دوسری آتی ہے مگر خدا کا کلام جس طرح کل مناسب تھا اسی طرح آج بھی مناسب ہے اور جس طرح سب سے پہلے لکھا گیا تھا اسی حالت میں آج بھی موجود ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ آج کی تاریخ میں کلام کے تمام حصے ہم پر واضح کئے جائیں مگر پورے کلام میں سچائی پائی جاتی ہے جس کو آج ہم اپنی زندگیوں میں استعمال کر سکتےہیں اور ضرور کرنی چاہئے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا بائبل آج کے لئے مناسب ہے؟