settings icon
share icon
سوال

بائبل حمل کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

جواب


حمل کی شروعات اُس وقت ہوتی ہے جب مرد کے نطفے کا خلیہ مادہ کے جسم میں موجود انڈے کو بارور کرتا ہے ۔ اُس موقع پر ایک جنین تشکیل پاتا ہے۔ چند دنوں کے اند ر وہ جنین بچّہ دانی میں نصب ہو جاتا اور وہاں بڑھنا اور نشوونما پانا شروع کر دیتا ہے۔ انسانوں کے لیے حمل کا دورانیہ اوسطاً 280 دن یا 36 ہفتے ہوتا ہے۔ چونکہ انسانی نسل پیدایش 1باب 28آیت میں خُدا کی برکت اور حکم کے موافق حمل کے ذریعے افزایش پاتی ہے لہذا ہمیں بائبل سے حمل کے بارے میں کچھ بیان کرنے کی توقع رکھنی چاہیے - اور یہ اُس بارے میں بیان بھی کرتی ہے۔

بائبل میں مندرج پہلے انسانی حمل کا ذکر اُس وقت ہوا جب حوّا حاملہ ہوئی اور اُس نے قائن کو جنم دیا تھا (پیدایش4باب 1آیت )۔ زمین پر انسانوں کی تعداد بڑھنے کے بعد بہت سے لوگوں کی پیدایش ہوئی لیکن بائبل ہمارے سامنے حمل کے اِن واقعات میں سے کسی بھی حمل کی تفصیل تب تک پیش نہیں کرتی جب تک وہ پیدایش 11باب 30آیت میں ابرام (ابرہام) اور ساری (سارہ) کے بارے میں ذکر نہیں کرتی : " اور سارَؔی بانجھ تھی۔ اُس کے کوئی بال بچّہ نہ تھا" ۔ خدا اس بات کو واضح کرنے کے لیے کہ وہ کچھ خاص کرنے والا ہے ساری کے بانجھ پن کے ساتھ ساتھ اُن کے بڑھاپے (پیدایش 11باب 18 آیت ) کو نمایاں کرتا ہے ۔ خدا نے ابرہام اور سارہ کو ایک بیٹا، اضحاق بخشا جو واقعی ایک معجزہ تھا۔

ہم حمل کے بارے میں کلام پاک سے جو بات سیکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ خدا زندگی کا تخلیق کرنے والا ہے۔ وہ ہر انسان کے حمل کے دوران نشوونما کے عمل میں گہرے طور پر شامل ہے۔ 139زبور 13-16آیات اُس کی براہِ راست شمولیت کے بارے میں بیان کرتی ہیں : " کیونکہ میرے دِل کو تُو ہی نے بنایا۔ میری ماں کے پیٹ میں تُو ہی نے مجھے صورت بخشی۔ مَیں تیرا شکر کرُوں گا کیونکہ مَیں عجیب و غرِیب طَور سے بنا ہُوں تیرے کام حیرت انگیز ہیں۔ میرا دِل اِسے خُوب جانتا ہے۔ جب مَیں پوشیدگی میں بن رہا تھا اور زمین کے اَسفل میں عجیب طَور سے مُرتّب ہو رہا تھا تو میرا قالِب تجھ سےچھپا نہ تھا۔ تیری آنکھوں نے میرے بے ترتِیب مادّے کو دیکھا اور جو ایّام میرے لئے مقرّر تھے وہ سب تیری کِتاب میں لکھے تھے۔ جب کہ ایک بھی وجُود میں نہ آیا تھا"۔

یہ حوالہ اس بارے میں ہر طرح کے شک کو دُور کر دیتا ہے کہ خدا ہی ہر بچّے کو تخلیق کرنے والا ہے۔ خُدا اپنے بارے میں یسعیاہ 44باب 24آیت میں فرماتا ہے: " خُداوند تیرا فِدیہ دینے والا جس نے رَحِم ہی سے تجھے بنایا یُوں فرماتا ہے کہ مَیں خُداوند سب کا خالق ہُوں۔ مَیں ہی اکیلا آسمان کو تاننے اور زمِین کو بچھانے والا ہُوں کَون میرا شرِیک ہے؟"

بائبل کچھ ایسی خاص مثالیں پیش کرتی ہے جو مخصوص مقاصد کے لیے خاص لوگوں کو تخلیق کرنے میں خدا کے قبل از وقوع علم کو عیاں کرتی ہیں ۔ یرمیاہ 1باب 5آیت میں خُدا فرماتا ہے کہ"اِس سے پیشتر کہ مَیں نے تجھے بطن میں خلق کِیا۔ مَیں تجھے جانتا تھا اور تیری وِلادت سے پہلے مَیں نے تجھے مخصُوص کِیا اور قوموں کے لئے تجھے نبی ٹھہرایا۔" یسعیاہ 49باب 1آیت عیاں کرتی ہے کہ خُدا قبل از پیدا یش حمل کے دوران ہی بچوں کو اپنی خدمت کے لیے بُلا سکتا ہے۔ ہم الیشبع کے حاملہ ہونے سے پہلے یعنی یوحنا بپتسمہ دینے والے کے حمل میں پڑنے سے بھی پہلے ایسا پھر سے رونما ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں (لوقا 1باب 13-17آیات)۔

حمل نئے انسانوں کو دنیا میں لانے کا خدا کا طریقہ ہے۔ ہر شخص خُدا کی صورت و شبیہ کا حامل ہوتا ہے (پیدایش 1باب 27آیت)۔ چونکہ زندگی کا خالق خدا ہے اور چونکہ کسی عورت کا حاملہ ہونا خدا کے ساتھ ایک مقدس عہد کی نمائندگی ہے لہذا کسی عورت کو خدا کے شروع کردہ کام کو ختم کرنے کا کوئی "حق" نہیں ہے۔ اسقاط حمل اُس انسانی زندگی کا پُرتشدد خاتمہ ہے جسے خدا نے تخلیق کیا ہے۔ یہ خدا کی صورت وشبیہ کے حامل معصوم انسان کا قتل ہے۔ ایسی سر گرمیاں خداوند کی شبیہ کی بے حرمتی ہیں۔ خُدا نے شیر خوار بچّوں کو بُتوں کے آگے پیش کرنے کے بُت پرستانہ عمل کی نہ صرف سختی سے مذمت کی (یرمیاہ 32باب 35آیت ؛ احبار 20باب 2آیت ؛ استثنا 12باب 31آیت )بلکہ اُس نے اُن قوموں کی عدالت بھی کی تھی جنہوں نے ایسے کام کیے تھے۔ خُدا حمل کو اپنی کار گاہ سمجھتا ہےاور جب کوئی عورت اُپنے پیٹ میں موجود زندگی کو حفاظت اور پرورش فراہم کرنے میں اُس کے ساتھ تعاون کرتی ہے تو وہ اُس خُدا کی تعظیم کرتی ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل حمل کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries