settings icon
share icon
سوال

بائبل استقامت کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب


بائبل مختلف سیاق و سباق میں استقامت کے بارے میں بہت کچھ کہتی ہے۔ بڑے واضح طور پر کلامِ مُقدس یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ جو "غالب آئیں گے" اور اپنے ایمان پر قائم رہیں گے وہ ابدی زندگی کے وارث ہونگے (مکاشفہ 2باب7 آیت)۔ اِس سچائی کا اظہار کلسیوں 1باب 23 آیت میں بھی کیا گیا ہے جہاں پر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ سے کہا گیا ہے کہ تم کو مُقدس، بے عیب اور بے الزام بنایا جائے گا"بشرطیکہ تم اِیمان کی بنیاد پر قائم اور پختہ رہو اور اُس خُوشخبری کی اُمّید کو جسے تم نے سنا نہ چھوڑو ۔ " پس مسیحیوں کو اِس بات پر متفق ہونا چاہیے کہ وہ لوگ جو نجات پا چکے ہیں ، وہ اپنی نجات کو کبھی بھی کھوئیں گے نہیں اور اپنے مسیحی ایمان پر قائم رہیں گے۔

مسیحیت کے اندر مقدسوں کی استقامت کے حوالے سے دو مختلف تصورات پائے جاتے ہیں۔ پہلا آرمینی نظریہ ہے کہ سچے مسیحی خُدا پر ایمان رکھنے سے برگشتہ ہو سکتے ہیں ۔ یہ نظریہ نجات کےاُس تصور کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے جس کے مرکز میں انسان کے پاس "آزاد مرضی" ہے۔ یہ منطقی طور پر بالکل درست ہے کہ اگر نجات کے چناؤ کے تعلق سے مرکزی عنصر انسان کی "آزاد مرضی" ہے تو پرپھر اُس شخص کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بعد میں خُدا کو مسترد کرنے کا انتخاب کرے اور اِس طرح اپنی نجات کو کھو دے۔

تاہم بائبل واضح طور پر تعلیم دیتی ہے کہ ہم رُوح القدس کے وسیلے سے "نئے سرے سے " پیدا ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں ہم مسیح پر ایمان لائے ہیں۔ جو لوگ نئے سرے سے پیدا ہوئے ہیں اُن کے پاس ابدی تحفظ موجود ہے اوروہ قائم رہیں گے۔ مقدسوں کی استقامت کا عقیدہ اِس وعدے کی بنیاد پر قائم ہے جو کہتا ہے کہ "جس نے تم میں نیک کام شروع کِیا ہے وہ اُسے یِسُوؔع مسیح کے دِن تک پُورا کر دے گا " (فلپیوں 1باب 6 آیت)۔ اور خُداوند یسوع کا اعلان ہے کہ " جو کچھ باپ مجھے دیتا ہے میرے پاس آ جائے گا اور جو کوئی میرے پاس آئے گا اُسے مَیں ہرگز نِکال نہ دُوں گا۔۔۔ میرے بھیجنے والے کی مرضی یہ ہے کہ جو کچھ اُس نے مجھے دِیا ہے مَیں اُس میں سے کچھ کھو نہ دُوں بلکہ اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں" (یوحنا 6باب37، 39 آیات)۔

نجات کے تعلق سے استقامت کے تصور کے علاوہ مسیحی زندگی میں ثابت قدم رہنے کے لیے بائبل میں بارہا تلقین کی گئی ہے۔ پولس رسو ل اپنے پاسبانی خط کے اندر ایک نوجوان پاسبان تیمتھیس کو یاد دلاتے ہوئے کہتا ہے کہ "اپنی اور اپنی تعلِیم کی خبرداری کر ۔ اِن باتوں پر قائِم رہ کیونکہ اَیسا کرنے سے تُو اپنی اور اپنے سُننے والوں کی بھی نجات کا باعث ہو گا "(1 تیمتھیس 4باب 16 آیت)۔ تیمتھیس ایک خُدا پرست کردار کا مالک شخص تھا اور اُس کا عقیدہ بالکل درست اور کلامِ مُقدس کے مطابق تھا۔ پولس نے اُسے تنبیہ کی کہ وہ اپنے عقیدے اور کلام پر غور کرتا رہے اور اُن پر قائم رہے –اور یہ تمام مسیحیوں کے لیے تنبیہ ہے، یعنی خُدا پرست زندگی گزارنے میں استقامت اور حقیقی تبدیلی کے ساتھ ہمیشہ سچائی پر قائم رہنا (یوحنا 8باب 31 آیت؛ رومیوں 2باب7 آیت)۔

مسیحی زندگی میں ثابت قدم رہنے کی مزید تلقین یعقوب کی طرف سے کی گئی ہے جو ہمیں تنبیہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ " لیکن کلام پر عمل کرنے والے بنو نہ محض سُننے والے جو اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں۔۔۔ جو شخص آزادی کی کامِل شرِیعت پر غور سے نظر کرتا رہتا ہے وہ اپنے کام میں اِس لئے برکت پائے گا کہ سُن کر بُھولتا نہیں بلکہ عمل کرتا ہے "( 1باب22-25 آیات)۔ یہاں پر خیال یہ ہے کہ جو مسیحی خُداپرستی اور رُوحانی معاملات میں ثابت قدم رہتا ہے وہ استقامت کے عمل میں برکت پائے گا۔ ہم مسیحی زندگی میں جس قدر زیادہ ثابت قدم رہیں گے ، خُدا ہم پر اپنی برکات نازل کرے گا اور اِس طرح ہمیں اپنی استقامت میں مدد ملے گی۔ زبور نویس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسیحی زندگی میں ثابت قدم رہنے میں بہت زیادہ اجر ہےجب خُدا کے احکامات کو مانا جاتا ہے تو اُس کا "اجر بڑا" ہے (19زبور11 آیت)۔ ایک پُر سکون ذہن، ایک شفاف ضمیر اور دنیا کے اندر گواہی بہت زیادہ الفاظ سے بڑھ کر فصیح ہے۔

یعقوب ہمیں "آزمائشوں میں" بھی ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتا ہے کیونکہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ برکت حاصل کریں گے اور اُنہیں "زندگی کا تاج" ملے گا جس کا خُدا نے وعدہ کیا ہے (یعقوب 1باب12 آیت)۔ جس طرح ایک حقیقی ایماندار اپنی نجات کے تعلق سے ابدی طور پر محفوظ رہے گا اُسی طرح اُس کا ایمان بھی ہر طرح کی مصیبت، بیماری، ظلم و ستم اور زندگی کی دوسری آزمائشوں میں جو تمام ایمانداروں پر آتی ہیں قائم رہے گا ۔ اگر ہم مسیح میں خُدا پرست زندگی گزارنے کے خواہشمند ہیں تو ہم ایذا رسانی کا شکار ہونگے (2 تیمتھیس 3باب12 آیت)، لیکن ایماندار ثابت قدم رہیں گے۔ وہ رُوح القدس کی طاقت سے جو ہماری نجات کی ضمانت ہے اور جو ہمیں "آخر تک قائم رکھے گا" ثابت قدم رہیں گے"تاکہ ۔۔ خُداوند یِسُو ع مسیح کے دِن بے اِلزام "ٹھہریں " (1 کرنتھیوں 1باب8 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل استقامت کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries