settings icon
share icon
سوال

کیا بائبل ذہن کو قابو کرنے کا ہتھیار ہے ؟

جواب


کچھ لوگ مسیحیوں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ بائبل کو ذہن کو قابو میں کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ کلیسیا کو تعمیر کرنے اور اراکین کو قائم رکھنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ لوگوں کو طرز زندگی اور رویوں میں تبدیلیوں پر مجبور کرنے کے لیے دماغ شوئی (برین واشنگ) کے ہتھکنڈے کو استعمال کیا جائے۔ (برین واشن /دماغ شوئی سے مراد غیر اخلاقی طور پر انفرادی یا اجتماعی سطح پر کسی کے خیالات کو اپنی مرضی کے تابع کرنا ہے۔ عموماً یہ عمل مفعول کی مرضی کے خلاف سر انجام دیا جاتا ہے۔ یہ کام نفسیاتی یا غیر نفسیاتی طریقے کی مدد سے سر انجام پاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مفعول اپنی سوچ، اپنے رویے، اپنے جذبات اور اپنی قوتِ فیصلہ پر اپنا اختیار کھو دیتا ہے۔) مسیحیوں اور بائبل پر یہ الزام بے بنیاد ہے لیکن ایسے لوگ جو رُوح القدس کی قدرت سے نا واقف ہیں اُنہیں لوگوں کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلی کی وضاحت کرنے کے لیے کسی نہ کسی طریقے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بات سچ ہے کہ بدعات ،جن میں سے بہت سے لوگ مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ذہن پر قابو پانے کی مشق کرتے ہیں، جبکہ حقیقی مسیحیت کسی بھی انسان پر کسی طرح کا دباؤ نہیں ڈالتی۔ ایسے پادری جو خُداوند سے محبت کرتے ہیں وہ اپنی کلیسیاؤں کی بڑھوتری، اصلاح اور حفاظت کی خواہش رکھتے ہیں (یوحنا 21 باب 15-19آیات)۔ کلیسیائی رہنماؤں کو ذاتی فائدے کی فکر کے بغیر بے لوث اور عاجزی سے خدمت کرنی چاہیے (1پطرس 5باب 2-3آیات)۔ لہذانہیں! بائبل ذہن کو قابو کرنے کا ہتھیار نہیں ہے اور یہ دماغ شوئی یا نفسیاتی پروگرامنگ کے معنوں میں دماغ پر قابو پانے کی حمایت نہیں کرتی ۔

تاہم بائبل کسی شخص کے اپنے ذہن پر قابو رکھنے کی بات کرتی ہے۔ توبہ ذہن کی تبدیلی پر مشتمل ہے۔ مسیحیوں کو "عقل کی رُوحانی حالت" میں نیا بنایا جاتا ہے (افسیوں 4باب 29آیت )۔ انہیں ہم خیال ہونا چاہیے تاکہ جھگڑوں سے بچ سکیں (فلپیوں 2باب 2آیت )۔ انہیں مسیح کی عقل بخشی گئی ہے (1کرنتھیوں 2باب 16آیت)۔ اس کا نتیجہ درحقیقت ایک نئے رویے اور نئےچال چلن - ایک نئے مخلوق(2 کرنتھیوں 5باب 17آیت ) کی صورت میں نکلتا ہے ۔ یہ تبدیلی کسی گُرو کے پُر تد بیر منصوبے یا پوری طرح طے شدہ ماحول کی وجہ سے نہیں آتی ؛ بلکہ یہ تبدیلی اندرونی، رُوحانی اور حقیقی ہے۔ یہ تبدیلی انسانی نمائندے کی بجائے رُوح القدس کے کام کی وجہ سے ہے (طِطُس 3باب 5آیت)۔

انسان نے میراث میں آدم سے گناہ آلود فطرت پائی ہے (رومیوں 5باب 12آیت )۔ یہ گناہ آلود فطرت کسی شخص پر اختیار رکھتی ہے اور انسان کی زندگی میں مختلف گناہوں کے ظاہر ہونے کا باعث بنتی ہے ( گلتیوں 5باب 17-21آیات؛ افسیوں 5باب 17-19آیات )۔ اس گناہ آلود فطرت کے قبضہ میں ہونے کی وجہ سے انسان کسی بھی طرح سے خدا کو نہ تو جان سکتا ہے اور نہ ہی اُسے خوش نہیں کر سکتا ہے۔ درحقیقت وہ خدا کے ساتھ دشمنی کی حالت میں ہے (رومیوں 5باب 10آیت ؛ 8باب 5-7آیات)۔ بائبل فرماتی ہے کہ اپنی گناہ آلود فطرت کے زیر اثر گنہگار انسان کو ایک نئی فطرت اور گناہ کی طاقت سے نجات کی ضرورت ہے۔ جو شخص یسوع مسیح کو شخصی نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتا ہے وہ اس نئی فطرت کو پاتا ہے اور اُس میں رُوح القدس کا بسیرا ہوتا ہے (2 پطرس 1باب 4آیت) جو ایماندار کو گناہ کے لیے " نہیں " اور خدا کی راستبازی کے لیے " ہاں " کہنے کی قوت بخشتا ہے (گلتیوں 5باب 16آیت؛ رومیوں 6باب 12-23آیات)۔ مسیح میں ایماندار کو آزاد کیا گیا ہے (یوحنا 8باب 32آیت)۔ وہ اب گناہ آلودہ فطرت کے اثرات کی تعمیل کرنے کا مزید پابند نہیں ہےکیونکہ وہ اپنی زندگی میں خدا کے نام کو جلال دینے اور اُن کاموں کو سرانجام دینے کے لیے مسیح میں آزادہے جو خدا چاہتا ہے۔

بائبل دماغ کو قابو کرنے کا ہتھیار نہیں ۔ بلکہ بائبل گناہ آلودہ فطرت کے ماتحت زندگی کا متبادل فراہم کرتی ہے۔ بائبل ہم پر واضح کرتی ہے کہ رُوح کی تابعداری میں کیسے رہنا ہے۔ جی ہاں، ایک ایماندار اُس وقت تبدیل شدہ ذہن پائے گا جب وہ اُن جھوٹی باتوں کو رد کرے گا جن پر وہ کبھی ایمان رکھتا تھا اور مسیح میں سچائی کو قبول کرے گا۔ رُوح سے معمور ایماندار خدا کے ساتھ پُر مسرت زندگی بسر کرے گا یعنی جوش، ابدی تکمیل اور امید کے ساتھ خُدا کی خدمت کرنے کے لیے ایک آزاد زندگی۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا بائبل ذہن کو قابو کرنے کا ہتھیار ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries