settings icon
share icon
سوال

کیا ہم بائبل کی تشریح سادہ لغوی معنوں میں کر سکتے ہیں/کیا ہمیں ایسا کرنا چاہیے؟

جواب


ہم نہ صرف بائبل کا ترجمہ و تشریح سادہ حقیقی یا لغوی معنوں میں کر سکتے ہیں بلکہ ہمیں بائبل کو حقیقی معنوں میں ہی لینا چاہیے ۔ یہ اس بات کے تعین کرنے کا واحد راستہ ہے کہ خدا واقعی ہی ہم سے کسی بارے میں بات کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ جب ہم ادب کی کسی صنف اور خصوصاً بائبل کا مطالعہ کر رہے ہو ں تو ہمیں اس بات کو دریافت کرنا چاہیے کہ مصنف کس بارے میں بات کرنا چاہتا ہے ۔ آج کل بہت سے لوگ سیاق و سباق کے بارے میں مصنف کے مفہوم کو نظرانداز کرتے ہوئے الفاظ ، فقرےیا پیراگراف کو پڑھتے ہیں اور اُن کی اپنی مرضی کے مطابق تشریح کر تے ہیں ۔ لیکن خدا کا مقصد یہ نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا ہمیں سچائی کے کلام کو "درستگی سے کام "میں لانے کےلیے کہتا ہے ( 2تیمتھیس 2باب 15 آیت)۔

بائبل کو ہمیں اس وجہ سے بھی حقیقی معنوں میں لینا چاہیے کیونکہ خداوند یسوع مسیح نے بھی اِسے حقیقی معنوں میں لیا تھا ۔ یسوع جب بھی پرانے عہد نامے میں سے حوالہ پیش کرتا تواُس سے ہمیں ہمیشہ ہی یہ معلوم ہوتا کہ وہ اس کی حقیقی معنوں میں تشریح پر یقین رکھتا ہے ۔ مثال کے طور پر لوقا 4باب میں جب شیطان نے یسوع کی آزمایش کی تھی تو اُس نے پرانے عہدنا مے کا حوالہ پیش کرتے ہوئے اُسے جواب دیا تھا ۔ اگر استثنا 8باب 3آیت، 6باب 13آیت؛ 6باب 16آیت میں درج خدا کے احکام حقیقی نہیں تھے تو جب یسوع نےاُنہیں شیطان کا منہ بند کرنے کےلیے استعمال کیا تھا تو اُس صورت میں وہ غیر موثر ٹھہرتے لیکن اُنہوں نے یقیناً اُس کا منہ بند کر دیا تھا ۔

شاگردوں نے بھی یسوع کے احکام ( جو بائبل کا حصہ ہیں ) کو حقیقی معنوں میں لیا تھا ۔ یسوع نے متی 28باب 19-20آیات میں شاگردوں کو حکم دیا تھا کہ وہ دنیا میں جائیں اور مزید شاگرد بنائیں ۔ اعمال 2باب اور آئندہ ابواب میں ہم دیکھتے ہیں کہ شاگردوں نے یسوع کے حکم کو حقیقی معنوں میں لیا تھا اور اُس وقت تک دریافت شُدہ دنیا میں مسیح یسوع کے بارےمیں خوشخبری کی منادی کرنے اور یہ بتانےکے لیے نکل پڑے تھے کہ " یسوع پر ایمان لا توتُو۔۔۔ نجات پائے گا " ( اعمال 16باب 31آیت ) ۔ جس طرح شاگردوں نے یسوع کے الفاظ کو حقیقی معنوں میں لیا تھا ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے ۔ اگر ہم اُس کے ان الفاظ پر ایمان نہیں لاتے کہ وہ کھوئے ہووں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے ( لوقا 19باب 10آیت) ہمارے گناہوں کی قیمت چُکانے (متی26باب 28آیت) اور ہمیشہ کی زندگی دینے آیا ہے (یوحنا 6باب 54آیت) تو پھر ہم اپنی نجات کے بارےمیں اور کس طرح سے پُر یقین ہو سکتے ہیں ۔

اگرچہ ہم بائبل کو حقیقی معنوں میں لیتے ہیں مگر اس میں زبان و بیان اور محاورات بھی پائے جاتے ہیں ۔ زبان و بیان اور محاورات کی ایک مثال کچھ یوں ہو گی "ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینا" ۔آپ جانتے ہیں کہ اس کا تعلق ناک اور مکھی سے نہیں ہے بلکہ اس کا اصل مفہوم ہے " بہت زیادہ نازک مزاج ہونا / چھوٹی سی بات بھی برداشت نہ کرنا ۔ بائبل میں بھی ایسے ہی زبان و بیان اور محاورات موجودہیں جن کو حقیقی معنوں میں نہیں لینا چاہیے تاہم یہ پوری طرح واضح ہیں ( مثال کے طور پر دیکھیں 17زبور 8آیت "آنکھ کی پُتلی کی طرح محفوظ رکھنا") ۔

آخر میں جب ہم خود کو مختارِ کُل ٹھہراتے ہیں کہ بائبل کے کس حصے کا حقیقی معنوں میں ترجمہ کیا جائے تو ہم خود کو خدا سے بالاتر ٹھہراتے ہیں ۔ ۔لہذا اس صورت میں کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا ہے بائبل کے کسی واقعے یا سچائی کے بارےمیں ایک مخصوص شخص کی تشریح دوسرے لوگوں کی تشریح سے کم یا زیادہ معتبر ہے ؟ اس قسم کے نظام کا ناگزیرنتیجہ تذبذب اور بگاڑ کی صورت میں ظاہر ہو گا اور بنیادی طور پر یہ کلام مقدس کے غیر موثر اور کالعدم ہونے کی نشاندہی کریں گے ۔ بائبل ہمارے لیے خدا کا کلام ہے اور خدا چاہتا ہے کہ ہم اس پر حقیقی معنوں میں مکمل طور پر ایمان لائیں ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا ہم بائبل کی تشریح سادہ لغوی معنوں میں کر سکتے ہیں/کیا ہمیں ایسا کرنا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries