اس کا کیا مطلب ہے کہ بائبل الہام شدہ ہے؟



سوال: اس کا کیا مطلب ہے کہ بائبل الہام شدہ ہے؟

جواب:
جب لوگ بائبل کے الہام شدہ ہونے کی بات کرتے ہیں تو وہ اس سچائی کا حوالہ دیتے ہیں کہ خدا نے الہی طور سے اس طریقہ سےانسانی مصنفوں کو متاثر کیا کہ جو انہوں نے لکھا وہ خداہی کا کلام ٹھہرا۔ صحیفوں کے سیاق عبارت میں لفظ "الہام" کے آسان معنی ہیں "خدا کا پھونکا ہوا"۔ الہام کا مطلب ہے کہ بائبل سچ مچ میں خدا کاکلام ہے اور اس لئے بائبل دوسری تمام کتابوں سے بے مثل کر دیتی ہے۔

بائبل کے الہامی ہونے کے لئے جب کہ فرق فرق نظریات ہیں ان نظریوں کو آگے بڑھانے کے لئے اس میں کوئی شک نہیں ہو سکتا اس لئے کہ بائبل خود ہی اس بات کا دعوی کرتی ہے کہ بائبل کے ہر ایک حصہ کا ہر ایک لفظ خدا کی طرف سے ہے (1 کرنتھیوں 13- 2:12؛ 2 تموتھیس 17- 3:16)۔ صحیفوں کا یہ نظریہ اکثر "لفظی طور سے کامل ہونے" کا الہام بطور حوالہ دیا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ کہ الہام اپنے آپ میں انہیں لفظوں کا پھیلاؤ ہے (یہ لفظی ہے)۔ نہ صرف تصورات اور خیالات کا بلکہ وہ الہام صحیفہ کے تمام حصوں میں ترقی کرتااور اور صحیفہ کے تمام موضوعات میں بھی ترقی کرتا۔ (یہ کاملیت ہے)۔

کچھ لوگ اعتقاد رکھتے ہیں کہ کچھ حصے ہی الہامی ہیں یا پھر وہ خیالات یا تصورات جو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں وہی الہامی ہیں۔ مگر الہامی ہونےکے یہ نظریہ ان دعوؤں کے سامنے جو بائبل خود اپنے بارے میں پپش کرتی ہے حصول مقصد میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ پوری لفظی کاملیت کا الہام خداکے کلام کاایک بہت ہی اہم خصوصیت ہے۔

الہام کی ترقی یا پھیلاؤ کو صاف طور سے 2 تموتھیس 17- 3:16 میں دیکھ سکتے ہیں "ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیق اورالزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لئے فائدہ مند بھی ہے تاکہ مرد خدا کامل بنے اورہر ایک نیک کام کے لئے بالکل تیار ہو جائے"۔ یہ آیت ہم سےکہتی ہے کہ خدا نے تمام صحیفوں کو الہام دی اور یہ ہمارے لئے فائدہ مند ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بائبل کے وہ حصے جو مذہبی اصولوں سے تعلق رکھتی ہیں وہی الہامی ہیں بلکہ پیدائش کی کتاب کے شروع سے لے کر مکاشفہ کی کتاب تک کا ہر ایک لفظ الہام شدہ ہے۔ اس لئےکہ تمام صحیفے سب کے سب خداکاالہام شدہ ہے۔اور جہاں اصول قائم کرنےکی بات آتی ہے تووہ اس کے لئےپورے طور سے متعبر ثابت ہوئے ہیں۔ اور آدمی اور عورت کو یہ بات سکھانے کےلئےکافی ہیں کہ خداکے ساتھ کس طرح ایک صحیح رشتہ قائم کیاجانا چاہئے۔ بائبل نہ صرف دعوی کرتی ہے کہ وہ الہام شدہ ہے بلکہ اس میں ایک فوق الفطرت قوت بھی پائی جاتی ہے کہ وہ انسان کی فطرت کو بدلے اور ہم کو ایک "کامل" انسان بنائے۔ اس سے بڑھ کر ہمیں اور کیا چاہئے۔

ایک اور آیت جو الہام سے تعلق رکھتی ہیں وہ ہے 2 پطرس 1:21۔ یہ آیت ہمیں اس بات کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے کہ حالانکہ خدا نے آدمیوں کو ان کی فرق فرق انسانیت اور لکھنےکے طریقوں کے ساتھ استعمال کیا بلکہ جو کچھ انہوں نے لکھا خدا نے ان کے تمام الفاظ کو الہی طور سے الہام کیا۔ یسوع مسیح نے خود ہی صحیفوں کے لفظی طور سےکامل ہونے اور الہامی ہونے کی تصدیق کی جب اس نے کہاکہ "یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں، منسوخ کرنے نہیں بلکہ انہیں پوراکرنے آیا ہوں، کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہر گز نہ ٹلے گا جب تک کہ سب کچھ پورا نہ ہو جائے"۔ (متی 18- 5:17)۔ ان آیتوں میں یسوع مسیح دوبارہ سے زور دیتے ہوئے صحیفوں کے ٹھیک ہونے کی بابت کہتا ہے کہ ایک نقطہ یا ایک شوشہ بھی توریت سے نہ ٹلے گا کیونکہ یہ خداکا اپنا کلام ہے۔

اس لئے کہ صحیفے الہام شدہ خدا کا کلام ہے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ وہ بے داغ اور معتبر بھی ہیں۔ خدا کی بابت ایک سہی نظریہ ہم کو خداکے کلام کی بابت بھی ایک سہی نظریہ کی طرف لے جائے گا۔ اس لئے کہ خدا قادر مطلق عالم کل اورکامل طور سےبے عیب ہے سو اس کا کلام بھی اپنی فطرت میں وہی صفت رکھتاہے۔ وہی آیتیں جو صحیفوں کے الہامی ہونے کو ثابت کرتی ہیں انہیں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ بے داغ اور معتبر ہیں۔کسی بھی شک کے بغیر بائبل وہی ہے جو وہ خود دعوی کرتی ہے۔ کہ انسانیت کے لئے بغیر انکاری کے معتبر اور خدا کاکلام ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



اس کا کیا مطلب ہے کہ بائبل الہام شدہ ہے؟