settings icon
share icon
سوال

بائبل ناانصافی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب


بائبل نا انصافی کے موضوع پر بہت کچھ کہتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خُدا انصاف کے حق میں ہے اور یہاں تک کہ بنیادی ترین چیزوں میں بھی وہ نا انصافی کے خلاف ہے۔ امثال کے مصنف نے اِس کا ذکر کیا ہے:"دو طرح کے باٹ سے خُداوند کو نفرت ہے اور دغا کے ترازُوٹھِیک نہیں " (امثال 20باب23 آیت)۔صداقت اور عدل خُدا کے تخت کی بنیاد ہے ( 89 زبور 14 آیت) اور خُدا طرفداری کو قبول نہیں کرتا چاہے ہم وزن کے پیمانوں کی بات کر رہے ہوں یا غیر منصفانہ قانونی نظام کی (احبار 19باب15 آیت)۔دونوں پرانے اور نئے عہد نامے میں ایسی بہت ساری آیات ہیں جو ہمیں ناانصافی کے بارے میں خُدا کی نا پسندیدگی سے آگاہ کرتی ہیں (2 تواریخ 19باب7 آیت؛ ایوب 6باب29 آیت؛ 11باب14 آیت؛ امثال 16باب8 آیت؛ حزقی ایل 18باب24 آیت؛ رومیوں 9باب14 آیت)۔

یسعیاہ نے ایک ایسے دور میں زندگی گزاری جب یہوداہ نا انصافی کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا :"عدالت ہٹائی گئی اور اِنصاف دُور کھڑا ہو رہا ۔ صداقت بازار میں گِر پڑی اور راستی داخِل نہیں ہو سکتی۔ہاں راستی گُم ہو گئی اور وہ جو بدی سے بھاگتا ہے شِکارہو جاتا ہے ۔ خُداوند نے یہ دیکھا اور اُس کی نظر میں بُرا معلُوم ہُؤا کہ عدالت جاتی رہی۔ " (یسعیاہ 59باب14-15 آیات)۔ اُن کے لیےخُدا کا پیغام بالکل سادہ تھا: "نیکوکاری سیکھو۔ اِنصاف کے طالِب ہو ۔ مظلوموں کی مدد کرو ۔ یتیموں کی فریاد رسی کرو ۔ بیواؤں کے حامی ہو " (یسعیاہ 1باب 17 آیت)۔ بعد میں خُدا اُنہیں بتاتا ہے کہ " جُوئے کے بندھن کھولیں "(یسعیاہ 58باب6 آیت بالموازنہ 82 زبور 3آیت)، جس میں خُدا اُن پر ظاہر کرتا ہے کہ نا انصافی دراصل غلامی اور ظلم کی ایک قسم ہے۔

یعقوب کے خط میں ہم ناانصافی کے حوالے سے خُدا کے دِل کی گہرائی میں پائے جانے والے خیال کو دیکھتے ہیں ۔خُدا سخت گیر اور جنونی نہیں ہے۔ وہ صرف نظم و ضبط کی خاطر انصاف کی قدر نہیں کرتا۔ یہاں پر بہت بڑے معاملات داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ یعقوب 2 باب میں ہم طرفداری کے بارے میں گفتگو کے متعلق جان پاتے ہیں۔ یعقوب ایمانداروں کے ایک ایسے گروہ سے بات کرتا ہے جو سماجی حیثیت کے مطابق اپنے اجتماع میں لوگوں کا فیصلہ کرتے ہیں۔ انسانی دِل میں ناانصافی جانبداری، فیصلہ پرستی اور محبت کی کمی کی علامت ہے۔ جب ہم اپنے انسانی نقطہ نظر سے صادق بننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم خُدا کے پیمانے کو بھول جاتے ہیں: کوئی بھی چیز جو کمال سے کم ہو وہ خُدا کے ترازو میں غیر متوازن ہوتی ہے۔

ہر انسان گناہ میں گرنے کی وجہ سے نا انصاف ہوتا ہے۔ ہم بہت ساری غیر موافق چیزیں کرتے ہیں۔ ہم غلطیاں کرتے ہیں، ہم گرم اور سرد پھونکتے ہیں، ہم ایسی چیزیں کرتے اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو بالکل متضاد ہوتی ہیں۔ جیسا کہ یعقوب نے کہا ہے کہ "اِس لئے کہ ہم سب کے سب اکثر خطا کرتے ہیں " (یعقوب 3باب2 آیت)۔ نا انصافی ہماری زندگیوں میں اُس وقت سرایت کر جاتی ہے جب ہم غیر منصفانہ فیصلے کرتے ہیں اور دوسروں کو اُن مختلف معیاروں پر پرکھتے ہیں جن کی پاسداری کرنے کے لیے ہم خود تیار نہیں ہوتے۔

‏ ناانصافی سے صحیح معنوں میں بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پہلے یہ تسلیم کیا جائے کہ خدا بالکل انصاف کرنے والا ہے، اور انسان فطری طور پر نا انصافی کرتے ہیں ، یعنی کامل سے کم ہیں، اور پھر خُدا کی راستبازی کو قبول کیا جائے (1 یوحنا 1باب5-9 آیات)۔ جس وقت ہم اپنے آپ کو صادق ٹھہرانے کے بارے میں فکر مند نہیں ہوتے تب ہی ہم اُس ذات پر بھروسہ کر سکتے ہیں جو نا راستوں کو راستباز ٹھہراتا ہے (رومیوں 4باب5 آیت)۔ پھر خُدا کے فرزندوں کی حیثیت سے ہم اپنے اردگرد ہونے والی ناانصافی کا مقابلہ رحمدلی کے ساتھ کر سکتے ہیں (میکاہ 6باب8 آیت؛ یعقوب 1باب27 آیت)۔

یسوع مکمل طور پر عادل ہے؛ اُس میں کچھ نا انصافی اور ظلم نہیں ہے۔ اپنی کاملیت کی وجہ سے خُداوند یسوع حقیقی انصاف فراہم کر سکتا ہے۔ درحقیقت "باپ کسی کی عدالت بھی نہیں کرتا بلکہ اُس نے عدالت کا سارا کام بیٹے کے سپُرد کِیا ہے " (یوحنا 5باب22 آیت)۔ ہم اُس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب راستبازی اور عدل کا دورِ دوراں ہوگا اور نا انصافی کو ہمیشہ کے لیے دور کر دیا جائے گا۔ "اُس کی سلطنت کے اِقبال اور سلامتی کی کچھ اِنتہانہ ہو گی ۔ وہ داؤُؔد کے تخت اور اُس کی مملکت پر آج سے ابد تک حکمران رہے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قِیام بخشے گا ربُّ الافواج کی غیُوری یہ کرے گی۔ " یسعیاہ 9باب7 آیت)

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل ناانصافی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries