settings icon
share icon
سوال

بائبل مُقدس فروتنی کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

جواب


بائبل فروتنی کو حلیمی، عاجزی اور خودی کے انکار کے طور پر بیان کرتی ہے۔ وہ یونانی لفظ جس کا کلسیوں 3باب 12آیت اور دوسری جگہوں پر "فروتنی " ترجمہ کیا گیا ہےاُس کا لفظی معنی "ذہن کی عاجزی" ہے لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ فروتنی محض ظاہری برتاؤ نہیں بلکہ دِلی رویہ ہے۔ ہوسکتا کہ کوئی شخص فروتنی کا ظاہری لبادہ ا ُوڑھے ہولیکن اِس کے باوجود اُس کا دل غرور اور تکبر سے بھرا ہوا ہو۔خداوند یسوع نے فرمایا ہے کہ "دل کے غریب " لوگ آسمان کی بادشاہی حاصل کریں گے (متی 5باب 3آیت )۔ دل کے غریب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ صرف وہی لوگ ابدی زندگی کے وارث ہوں گے جو رُوحانی لحاظ سے مکمل پست حالی کو تسلیم کرتے ہیں ۔ لہٰذا فروتنی مسیحی ایماندار کے لیے اوّلین شرط ہے۔

جب ہم بطور گنہگار مسیح کے پاس آتے ہیں تو ہمیں فروتنی کے ساتھ آنا چاہیے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہم کنگال اور مسکین ہیں جو خُدا کو کچھ بھی پیش نہیں کر سکتے سوائے اپنے گناہوں اور اپنی نجات کی ضرورت کے۔ ہم غیر مستحق ہونے اور خود کو نجات دینے میں اپنی مکمل نااہلی کو تسلیم کرتے ہیں۔ پھر جب خدا اپنے فضل اور مہربانی کو پیش کرتا ہے تو ہم اُسے عاجزی کے ساتھ قبول کرتے اور اپنی زندگی کو اُس کے اور دوسروں کے لیے وقف کرتے ہیں۔ ہم " جسم کے اعتبار سے مرتے ہیں " تاکہ ہم مسیح میں نئے مخلوق کے طور پر جی سکیں (2 کرنتھیوں 5باب 17آیت )۔ ہم اس بات کو کبھی نہیں بھولتے کہ اُس نے ہمارے نکمے پن کا اپنی لامحدود قدرو قیمت اور ہمارے گناہ کا اپنی راستبازی کے ساتھ تبادلہ کیا ہے۔ اب ہم اس زندگی کو خدا کے بیٹے پر ایمان کے ساتھ جیتے ہیں جس نے ہم سے محبت رکھی اور ہماری خاطر خود کو قربان ہونے کے لیے پیش کر دیا تھا (گلتیوں 2باب 20آیت )۔ یہی حقیقی فروتنی ہے۔

بائبلی فروتنی نہ صرف بادشاہی میں داخل ہونے بلکہ بادشاہی میں عظیم بننے کے لیے بھی ضروری ہے (متی 20باب 26-27آیات )۔ اس حوالے سے خُداوند یسوع ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ جس طرح وہ خدمت کروانے کے لیے نہیں بلکہ خدمت کرنے کے لیے آیا تھا اِسی طرح ہمیں دوسروں کے مفادات کو اپنے مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے(فلپیوں 2باب 3آیت ) خود کو دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کرنا چاہیے ۔ یہ رویہ خود غرضانہ خواہشات، غرور اور اُس تکرار کو روکتا ہے جو خود کو حق بجانب قراردینے اور شخصی دفاع کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔خُداوند یسوع خود کو ایک خادم کے طور پر عاجز بنانے اور یہاں تک کہ صلیب پر جان دینے (فلپیوں 2باب 8آیت )میں نہ شرمایا (یوحنا 13باب 1-16آیات )۔اپنی عاجزی و فروتنی میں وہ ہمیشہ باپ کا فرمانبردار رہا اور اسی طرح کسی فروتن مسیحی کو تمام خود غرضی کو ختم کرنے اور فرمانبرداری میں خدا اور اُس کے کلام کے تابع رہنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ حقیقی فروتنی دینداری ، قناعت پسندی اور تحفظ پیدا کرتی ہے۔

خُدا نے فروتنوں پر فضل کرنے کا وعدہ کیا ہے مگر وہ مغرور وں کا مقابلہ کرتا ہے (امثال 3باب 34آیت ؛ 1 پطرس 5باب 5آیت )۔ اس لیے ہمیں اعتراف کرنے اور غرور کو اپنی زندگی سے دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر ہم اپنے آپ کو بڑا بناتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو خدا کی مخالفت کے لیے پیش کرتے ہیں جو اپنے فضل اور ہماری بھلائی کی خاطر ہمیں عاجز کرتا ہے۔ لیکن اگر ہم اپنے آپ کو عاجز بناتے ہیں تو خُدا ہمیں اور فضل بخشتا اور ہمیں سرفراز کرتا ہے (لوقا 14باب 11آیت )۔ خداوند یسوع کے ساتھ ساتھ پولس رسول کو بھی عاجزی کے لیے ہمارا نمونہ ہونا چاہیے ۔ عظیم نعمتوں اور خدا کے کلام کی گہری سمجھ پانے کے باوجود پولس رسول نے خود کو رسولوں میں سب سے چھوٹے اور گنہگاروں میں سب سے بڑے کے طور پر پیش کیا (1 تیمتھیس 1باب 15آیت ؛ 1 کرنتھیوں 15باب 9آیت )۔ پولس رسول کی طرح حقیقی فروتن لوگ شخصی راستبازی کی بجائے خدا کے فضل اور صلیب پر فخر کریں گے (فلپیوں 3باب 3-9آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل مُقدس فروتنی کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries