settings icon
share icon
سوال

بائبل ایمان کے بارےمیں کیا کہتی ہے؟

جواب


عبرانیوں 11باب1آیت ہمیں بتاتی ہے کہ "اِیمان اُمّید کی ہُوئی چیزوں کا اِعتماد اور اَن دیکھی چیزوں کا ثبوت ہے۔ " غالباً مسیحی زندگی کا کوئی بھی اور جزو اِس قدر اہم نہیں ہے جتنا کہ ایمان اہم ہے۔ نہ تو ہم اِسے خرید سکتے ہیں، نہ بیچ سکتے ہیں اور نہ ہی اِسے کسی دوست کو دے سکتے ہیں۔ پس ایمان کیا ہے اور مسیحی زندگی میں یہ کیا کردار ادا کرتا ہے؟لغت ایمان کی تعریف "کسی چیز /ذات پر/میں یقین "،" کسی چیز /ذات کے ساتھ خلوص" یا "کسی چیز یا ذات پر کسی بھی منطقی ثبوت کے بغیراعتبار یا بھروسے"کے طور پر کرتی ہے۔ یہ ایمان کی تعریف "خُدا کی ذات پر ایمان اور خُدا کے ساتھ پُر خلوص تعلق" کے طور پر بھی کرتی ہے۔ بائبل ایمان اور اِس کی اہمیت کے بارے میں بہت زیادہ کچھ کہتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایمان کے بغیر ہماراخُدا کے ساتھ کوئی حصہ نہیں اور ایمان کے بغیر ہمارا اُس پسند آنا نا ممکن ہے (عبرانیوں 11باب6آیت)۔ بائبل مُقدس کے مطابق ایمان ایک سچے خُدا پر اُسے دیکھے بغیر یقین کرنے کا نام ہے۔

ایمان کہاں سے آتا ہے؟ایمان کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ہم کسی جادو ٹونے سے پیدا کرتے ہیں، نہ یہ کوئی ایسی چیز ہے جو ہم ماں کے پیٹ سے لیکر پیدا ہوتے ہیں، اور نہ ہی ایمان کسی طرح کے مطالعے میں سخت محنت یا رُوحانی چیزوں کے حصول کے لیے جدوجہد کی بدولت ملتا ہے۔ افسیوں 2باب8-9آیات اِس بات کو بالکل واضح کرتی ہیں کہ ایمان خُدا کی طرف سے تحفہ ہے،اور یہ ہمیں اِس لیے نہیں ملا کہ ہم اِس کے مستحق تھے، یا ہم نے محنت کر کے اِسے حاصل کیا ہے۔ یہ ہماری اپنی طرف سے نہیں ہے، بلکہ خُدا کی طرف سے ہے۔ ہم ایمان کو اپنی قوت یا اپنی آزاد مرضی سے حاصل نہیں کر سکتے۔ ایمان ہمیں خُدا کی طرف سے اُس کے فضل اور رحم کے ساتھ اُس کے اپنے پاک منصوبے اور مقصد کے تحت اِس لیے ملا ہے کیونکہ ہمارے ایمان سے سارا جلال اُس کے نام کو ملتا ہے۔

ایمان کی ضرورت کیوں ہے؟خُدا نے ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا جس کی بنیاد پر خُدا سے تعلق رکھنے والے اور دیگر لوگوں کے درمیان فرق کیا جا سکتا ہے اور اِس طریقہ کار کو ایمان کہتے ہیں۔ سادہ طور پر کہا جائے تو ہمیں خُدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایمان چاہیے۔ خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ اگرچہ ہم اُسے دیکھ نہیں سکتے لیکن اِس کے باوجود اگر ہم اُس پر ایمان رکھتے ہیں تو یہ چیز اُسے خوش کرتی ہے۔ عبرانیوں 11باب6آیت کا ایک کلیدی حصہ ہمیں بتاتا ہے کہ "خُدا۔۔۔اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے"۔ ایسا کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہمیں خُدا سے کچھ حاصل کرنے کے لیے ہی ایمان رکھنے کی ضرورت ہے۔ بہرحال جوایماندار اور خُدا کے تابعدار ہیں خُدا اُنہیں برکات سے نوازتا ہے۔ ہم لوقا 7باب50آیت میں اِس کی ایک کامل مثال دیکھتے ہیں۔ یسوع اِس حوالے میں ایک گناہگار عورت کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور اُس وقت وہ ہمیں اِس بات کی جھلک دیتا ہے کہ ایمان اِس قدر زیادہ اجر دینے والا کیسے ہے۔ "تیرے اِیمان نے تجھے بچا لِیا ہے ۔ سلامت چلی جا۔ "عورت نے اپنے ایمان کے ساتھ یسوع مسیح پر یقین کیا اور اُس نے اُس ایمان کی بدولت اُسے اجر عطا کیا۔ اور آخر میں ایمان ہی وہ چیز ہے جو ہمیں آخر تک قائم رکھتی ہے، یہ جانتے ہوئے کہ ایمان کے وسیلے ہم آسمان پر جائیں گے اور اپنی ابدیت خُدا کے ساتھ گزاریں گے۔ "اُس سے تم بے دیکھے مُحبّت رکھتے ہو اور اگرچہ اِس وقت اُس کو نہیں دیکھتے تَو بھی اُس پر اِیمان لا کر اَیسی خُوشی مناتے ہو جو بیان سے باہر اور جلال سے بھری ہے۔اور اپنے اِیمان کا مقصد یعنی رُوحوں کی نجات حاصِل کرتے ہو۔ " (1 پطرس 1 باب 8-9آیات)۔

ایمان کی مثالیں۔ عبرانیوں 11باب کو "ایمان کے باب" کے طور پر جانا جاتا ہےکیونکہ اِس کے اندر ایمان کے وسیلے بہت بڑے بڑے کاموں کا بیان کیا گیا ہے۔ اِیمان ہی سے ہابِل نے قائِن سے اَفضل قُربانی خُدا کے لئے گُذرانی (4آیت)؛ ایمان ہی سے نوح نے اُس وقت کشتی بنائی جب طوفان یا بارش کا کوئی نام و نشان بھی نہیں تھا (7آیت)؛ ایمان ہی سے ابرہام نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا اور اُس جگہ جانے کے لیےخُدا کا حکم مانا جس کے بارے میں اُسے کچھ بھی معلوم نہیں تھا؛ اور پھر اُس نے ایمان سے ہی رضا کارانہ طور پر اپنے بیٹے کی قربانی گزراننے کے لیے تیاری کی (8-10، 17آیات)؛ ایمان سے ہی موسیٰ بنی اسرائیل کو مصر میں سے نکال کر لایا (23-29آیات)؛ ایمان ہی سے راحب فاحشہ نے اسرائیلی جاسوسوں کو اپنے گھر میں اُتارا تھا اور یوں اُس نے اپنی جان بھی بچائی تھی (31آیت)؛ ایمان کے بہت سارے دیگر سورماؤں کا بیان کیا گیا ہے جنہوں نے"اِیمان ہی کے سبب سے سلطنتوں کو مغلُوب کِیا ۔ راست بازی کے کام کئے ۔ وعدہ کی ہُوئی چیزوں کو حاصل کِیا ۔ شیروں کے مُنہ بند کئے۔ آگ کی تیزی کو بجھایا ۔ تلوار کی دھار سے بچ نکلے ۔ کمزوری میں زورآور ہُوئے ۔ لڑائی میں بہادُر بنے ۔ غیروں کی فَوجوں کو بھگا دِیا " (33-34آیات)۔ بڑے واضح طور پر ایمان کی موجودگی کا اظہار اعمال کے ذریعے سے کیا گیا ہے۔

بائبل مُقدس کے مطابق ایمان مسیحیت کا لازمی جزو ہے ۔ خُدا پر اپنے ایمان اور یقین کا اظہار کئے بغیر ہمارا خُدا کے ساتھ کچھ حصہ نہیں ہے۔ ہم ایمان کے وسیلے ہی خُدا کی ذات پر ایمان رکھتے ہیں۔ بہت سارے لوگ اِس بارے میں بہت مبہم اور متضاد تصور رکھتے ہیں کہ خُدا ہے کون، اور یوں اُن میں خُدا کے جاہ و جلال کے مطابق اُس کی عزت و احترام کا بھی فقدان پایا جاتا ہے۔ اُن میں اُس طرح کے عقیدے اور ایمان کی کمی ہوتی ہے جو محبت کرنے والےخُدا کے ساتھ ابدی تعلق رکھنے کے لیے درکار ہے۔ ہمارا ایمان بعض اوقات لڑکھڑا سکتا ہے لیکن چونکہ یہ ایمان خُدا کا تحفہ یعنی اُسکی بخشش ہے اِس لیے بعض اوقات وہ ہماری زندگیوں میں آزمائش کو آنے دیتا ہے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ ہمارا ایمان حقیقی ہے اور اِس کی بدولت ہمارا ایمان مزید گہرا اور مضبوط بھی ہوتا چلا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یعقوب ہمیں کہتا ہے کہ جب کبھی بھی ہم آزمائش میں پڑیں تو اِسے "کمال خوشی کی بات" سمجھیں کیونکہ ہمارے ایمان کی آزمائش صبر پیدا کرتی ہے اور صبر ہمارے ایمان کے حقیقی ہونے کا ثبوت دیتے ہو ئے ہمیں کامل ہونے کی طرف لے کر جاتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل ایمان کے بارےمیں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries