settings icon
share icon
سوال

بائبل تعلیم کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب


سلیمان نے لکھا ہے کہ " بہت کِتابیں بنانے کی اِنتہا نہیں ہے اور بہت پڑھنا جسم کو تھکاتا ہے " (واعظ 12باب12آیت) ۔ کوئی بھی ایسا طالب علم جس نے ساری رات پڑھ کر گزاری ہو، امتحان کے لیے خوب تیاری کی ہو ، کوئی مساوات یاد کی یا پھر یا کسی نصابی کتاب کو پڑھ کر ہٹا ہو وہ اِس بیان کی صداقت کی تصدیق کر سکتا ہے۔ یہاں پر سلیمان کا نکتہ یہ تھا کہ محض علم حاصل کرنے یا جمع کرنے سے زیادہ اہم خُدا سے ڈرنا اور اُس کی فرمانبرداری کرنا ہے (13-14آیات)۔

ایسا کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ تعلیم غیر اہم ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یسوع نے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ اُس کے بچپن کے بارے میں جو واحد چیز ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ "حکمت اور قد و قامت میں ۔۔۔ ترقی کرتا گیا" لوقا 2باب52آیت) ۔ اِس کا مطلب ہے کہ خُدا کے بیٹے نے رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو ایسے مقام پر رکھا جہاں پر اُسے عام انسانوں کی طرح علم حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔ تعلیم اِس سارے معاملے کا حصہ تھی۔

کلیسیا نے ساری تاریخ کے دوران تعلیم اور ذہنی ترقی کو فروغ دینے کے لیے کاوشیں کی ہیں۔ اصلاح کار جان کیلون عالمگیر سطح پر تعلیم کے دئیے جانے کا حامی تھا اور اُس کا ماننا تھا کہ ہر ایک بچّے کو پڑھنے، لکھنےکیساتھ ساتھ ریاضی اور گرائمر کی خاص تربیت دی جانی چاہیے۔ مارٹن لوتھر نے سکھایا کہ "کلامِ مُقدس کے فہم و ادراک اور اِس دُنیا کے علم کے لیے جس میں اِس کلام کا بیج بویا جائے گا "تعلیم انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ سنڈے سکول کی تحریک 1780 میں اُس وقت شروع ہوئی جب روبرٹ ریکس نےاُن غریب لوگوں کے بچّوں کو تعلیم دینا شروع کی جن کو معاشرے میں بالکل نظر انداز کیا جاتا تھا۔ زیادہ تر یونیورسٹیاں بشمول ہارورڈ، یئیل، پرنسٹن، آکسفورڈ اور کیمبرج کی بنیاد مسیحیوں نے اپنے مذہبی سکولوں کے طور پر رکھی تھی۔

واعظ کی کتاب میں ایک بیٹے کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے باپ کی ہدایات پر دھیان لگائے او ر اِس سارے مرحلے کے دوران حاصل کردہ علم کا اطلاق حکمت کہلاتا ہے۔ بائبل کے انگریزی ترجمے میں لفظ ایجوکیشن شاید نظر نہ آئے (اُردو ترجمے میں لفظ تعلیم کم از کم 195 دفعہ استعمال ہوا ہے)، لیکن بائبل تعلیم کے عمل کے بارے میں بہت زیادہ کچھ بیان کرتی ہےاور اِس کا آغاز والدین اور بچّے کے ساتھ ہوتا ہے۔ والدین کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچّوں کو تربیت اور نصیحت دے دے کر اُنکی پرورش کریں ( افسیوں 6باب4آیت) اور جو یونانی لفظ paideia /پیڈیا یہاں پر استعمال ہوا ہے اُس کے معنی انگریز ی زبان میں nurture کئے گئے ہیں اور یہ لفظ اپنے اندر تربیت، تعلیم، ہدایت اور اصول و ضوابط کے مطابق ڈھالنے کے معنی رکھتا ہے۔

سلیمان ہمیں بتاتا ہے کہ ہر ایک سچے علم کی بنیاد خُدا وند کا خوف ہے (امثال 1باب7آیت)۔ یہاں پر جس لفظ کا ترجمہ خوف ہوا ہے اُس کے معنی دہشت یا ہولناک ہیبت نہیں ہے اِس کی بجائے اِس کے معنی خُدا کی پاکیزگی اور جاہ و جلال کو دیکھ اُس کی عزت کرنے اور اُس کی تابعداری کرنے یا اُسے مایوس نہ کرنے سے کبھی نہ ہچکچانے کے ہیں۔ یسوع نے کہا ہے کہ جب ہم سچائی کو جان لیں گے تو وہ سچائی ہمیں آزاد کرے گی (یوحنا 8باب 32آیت)۔ خوف سے آزادی سچائی میں تعلیم پانے کے وسیلے سے ملتی ہے۔

رومیوں کے نام خط کے اندر پولس رسول کی طرف سے "جاننا" اور "جاننے" جیسے الفاظ قریباً گیارہ مرتبہ استعمال کئے گئے ہیں۔ ہمیں کیا جاننا ہے؟خُدا کے کلام کو۔ جب ہم رُوحانی علم حاصل کر لیتے ہیں اور اپنی زندگیوں پر اُس کا اطلاق کرتے ہیں تو اُس صورت میں ہم رُوح اور سچائی سے خُدا کی خدمت کرتے ہیں علمِ الہیات کو "ملکہِ علوم" کہا گیا ہے کیونکہ خُدا کی ذات کے بارے میں ہمارا علم زندگی کے دیگر تمام پہلوؤں کی تشنگی کو ختم کرتا ہے۔

ایک مسیحی کے لیے ضروری ہے کہ وہ "حق کے کلام کو درستی سے کام میں لاتا ہو جوخود کو خُدا کے سامنے مقبول اور ایسے کام کرنے والے کی طرح پیش کرنے کی کوشش کرے جس کو شرمندہ نہ ہونا پرے" (2 تیمتھیس 2باب 15آیت)۔ نیو انٹرنیشنل ترجمے میں اِس آیت کو کچھ یوں بیان کیا گیا ہے کہ "اپنے آپ کو خُدا کے سامنے مقبول ہونے والے کے طور پر پیش کرنے کی انتہائی کوشش کرو، ایک ایسے کام کرنے والے کے طور پر جسے شرمندہ نہ ہونا پڑے اور جو سچائی کے کلام کو مناسب طورپر استعمال کرنے کے قابل ہو۔"

یہاں پر جس یونانی لفظ کا ترجمہ مطالعہ "علم کو کام میں لانا" کیا گیا ہے اُ سکے معنی "محنت کرنا، زور لگانا، خود پر اطلاق کرنے میں جلدی کرنا" بھی ہیں۔ اِس لیے خود کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے، ہمیں بڑی محنت کے ساتھ خُدا کے کلام کے مطالعے کا اطلاق بھی اپنی ذات پر کرنا چاہیے۔

کچھ لوگ تعلیم کو معاشرے کی ساری بیماریوں اور بُرائیوں کا علاج خیال کرتے ہیں۔ بہرحال، تعلیم بذاتِ خود بُرائی کو ختم کرنے یا اُس کا مقابلہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں کرتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خُدا کی محبت کے بغیر علم تکبر پیدا کرتا ہے (1 کرنتھیوں 8باب1آیت)۔ نیکدیمس "یہودیوں کا سردار" اور فریسیوں میں سے ایک اُستاد تھا، لیکن اِس کے باوجود وہ رُوحانی زندگی کی بنیادی ترین باتوں کو نہیں جانتا تھا (یوحنا 3باب10آیت)۔ پولس بہت پڑھا لکھا شخص تھا، وہ اپنے دور کی بہترین یہودی درسگاہوں سے تعلیم یافتہ تھا (اعمال 22باب3آیت)، اور وہ مختلف معاشرتی پس منظر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی اُس تعلیم کو بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کرنے کے قابل تھا (اعمال 17باب28آیت؛ ططس 1باب12آیت)۔ لیکن پولس کی اُس ساری تعلیم نے یقینی طور پر اُسے پاک نہیں بنایا تھا (1 تیمتھیس 1باب16آیت)، اور اُس نے اُن لوگوں کو انتباہ کیا جو "ہمیشہ تعلیم پاتے رہتے ہیں مگر حق کی پہچان تک نہیں پہنچتے" (2 تیمتھیس 3باب7آیت) ۔ محض کچھ حقائق کو جاننا کسی بھی انسان کو بہتر نہیں بناتا، اور اِس بات کا امکان موجود ہے کہ کوئی شخص بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بیوقوف ہو۔

تعلیم کا آغاز خُدا کے وجود کی حقیقت کے ساتھ ہوتا ہے اور اِس حقیقت کے ساتھ بھی کہ اُس نے اپنی مخلوقات، اپنے کلام اور اپنے بیٹے کے ذریعے سے ہم تک اپنا پیغام پہنچایا ہے۔ جیسے جیسے ہم خُدا کی تخلیقات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سیکھتے ہیں، ویسے ویسے خُدا کی حکمت اور قدرت کے بارے میں ہمارا ادراک گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ جیسے جیسے ہم خُدا کے کلام کا مطالعہ کرتے ہیں، ہم خُدا کی خدمت کا کام کرنے کے لیے زیادہ تیار ہوتے چلے جاتے ہیں (2 تیمتھیس 3باب16-17آیات)۔ جیسے جیسے ہم خُدا کے بیٹے کے علم میں بڑھتے چلے جاتے ہیں (2 پطرس 3باب18آیت)،ویسے ویسے اُس کے لیے ہماری محبت بڑھتی چلی جاتی ہے اورہماری طرف سے اُس کی خدمت کرنے میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل تعلیم کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries