settings icon
share icon
سوال

بائبل کے اندر کون کونسے عہدوں کا ذکر کیا گیا ہے ؟

جواب


بائبل سات مختلف عہدوں کا ذکر کرتی ہے( جن میں سے چار :"ابراہیمی عہد، فلستی عہد، موسوی عہد اور داؤد کے ساتھ عہد" ہیں) جو خُدا نے بنی اسرائیل قوم کے ساتھ باندھے تھے ۔ان چار میں تین عہد غیر مشروط نوعیت کے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا اسرائیل کی فرمانبرداری یا نافرمانی سے قطع نظر اسرائیل کے ساتھ اِن عہدوں کو پورا کرے گا ۔ اور اِن میں سے ایک یعنی موسوی عہد کی نوعیت مشروط ہے۔ یہ عہد اسرائیل کی طرف سے خُدا کے احکام کی فرمانبرداری یا نا فرمانی کی بنیاد پر اُن کے لیے برکت یا لعنت کا باعث ہو گا ۔ تین عہد ( آدم کے ساتھ عہد ، نوح کے ساتھ اور نیا عہد ) عام طور پر خدا اور بنی نو ع انسان کے درمیان ہیں ۔ اور یہ محض بنی اسرائیل تک محدود نہیں ہیں ۔

آدم کے ساتھ کیے گئے عہد کو دو حصوں میں دیکھا جا سکتا ہے : باغِ عدن ( بے گناہی ) کا عہد اور آدم کے ساتھ (فضل ) کا عہد ( پیدایش 3باب 16-19 آیات)۔ باغِ عدن میں کیا گیا عہد پیدایش 1باب 26-30آیات؛ 2باب 16-17آیات میں پایا جاتا ہے ۔ باغِ عدن کا عہد مخلوق کےلیے انسان کی ذمہ داری اور نیک و بدن کی پہچان کے درخت کے بارے میں خدا کے حکم کا خلاصہ پیش کرتا ہے ۔ آدم کے عہد میں آدم اور حوّا کے گناہ کے باعث بنی نو ع انسان کے خلاف لعنتوں کے ساتھ ساتھ خدا کی طرف سے اس گناہ کے کفارے کی ادائیگی کا وعدہ بھی شامل ہے ( پیدایش 3باب 15آیت)۔

نوح کا عہد خدا اور ( خصوصاً) نوح اور( عموماً) نسل ِ انسانی کے د رمیان ایک غیر مشروط عہد تھا ۔ طوفان کے بعد خدا نے بنی نو ع انسان کے ساتھ یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ پھر کبھی طوفان کے ساتھ زمین پر تمام زندگی کو تباہ نہیں کرے گا ( دیکھیں پیدایش 9باب )۔ خدا نے عہد کی علامت کے طور پر قوسِ قزح کو پیش کیا تھا ۔ یہ اس بات کا وعدہ تھا کہ زمین پر پھر کبھی طوفا ن نہیں آئے گا اور یہ یاد دہانی تھی کہ خدا گناہ کی عدالت کر سکتا اور کرے گا ( 2پطرس 2 باب 5آیت)۔

ابرہام کے ساتھ عہد کو ( پیدایش 12باب 1-3 اور 6-7آیات؛ 13باب 14-17آیات؛ 15باب؛ 17باب 1-14آیات؛ 22باب 15-18 آیات) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس عہد میں خدانے ابرہام سے بہت سی باتوں کا وعدہ کیا تھا ۔ اُس نے ذاتی طور پر وعدہ کیا تھا کہ وہ ابرہام کے نام کو سرفراز کرے گا (پیدایش 12باب 2آیت)،ابرہام کی بے شمار اولاد ہو گی ( پیدایش 13باب 16آیت) وہ قوموں کا باپ ہو گا ( پیدایش 17باب 4-5 آیات)۔ خدا ایک قوم کے بارے میں بھی وعدہ کرتا ہے جو اب اسرائیل کہلاتی ہے ۔ درحقیقت پیدایش کی کتاب میں ابرہام کےساتھ عہد کی جغرافیائی حدود ایک سے زیادہ موقعوں پر بیان کی جاتی ہیں ( پیدایش 12باب 7آیت؛ 13باب 14-15آیات؛ 15باب 18-21آیات)۔ ابرہام کے عہد میں ایک اور چیز جو مہیا کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ابرہام کے صلب سے پیدا ہونے والی نسل کے وسیلہ سے زمین کے قبیلے برکت پائیں گے ( پیدایش 12باب 3 آیت؛ 22باب 18آیت)۔ یہ موعودہ مسیحا کے بارے میں ذکر ہے جو ابرہام کی نسل سے آئے گا ۔

فلستی عہدوعدے کی سر زمین میں بسے رہنے کا عہد ہے ( استثنا 30باب 1-10آیات)۔فلستی عہد یا زمین کا عہد ابرہام کے ساتھ کئے گئے عہد کے اندر اُس سرزمین کے متعلق ہے جو ابرہام کی نسل کو خُدا کی طرف سے دی گئی تھی۔ اِس عہد کی شرائط کے مطابق اگر لوگوں نے نافرمانی کی تو خدا ان کو قوموں میں پراگندہ کر دے گا (استثنا 30باب 3-4آیات) لیکن بالآخر وہ اسرائیل قوم کو بحال کرے گا (5آیت)۔ جب قوم بحال ہوگی تو وہ خدا کی کامل فرمانبرداری کرے گی (8آیت) اور خدا اُسے سرفراز کرے گا (9آیت)۔

موسوی عہد ( استثنا 11باب ؛اور دیگر) ۔ موسوی عہد ایک مشروط عہد تھا جو بنی اسرائیل کی فرمانبرداری کی بدولت براہ راست خدا کی نعمتوں یا پھر اُنکی نافرمانی کے باعث براہ راست خدا کی لعنتوں کا باعث ہو سکتا تھا ۔ موسوی عہد کا ایک حصہ دس احکام ( خروج 20باب ) اور باقی شریعت تھی جس میں قریباً 300 مثبت اور 300 منفی یعنی 600 سےزیادہ احکام تھے ۔ پرانے عہد نامے کی تاریخی کتب ( یشوع- آستر) تفصیل سے بتاتی ہیں کہ اسرائیلی لوگ شریعت کی پابندی میں کس حد تک کامیاب رہے تھے یا پھر اسرائیلی لوگ شریعت کی پابندی کرنے میں کیسے بُری طرح نا کام رہے تھے ( استثنا 11باب 26-28 آیات برکت /لعنت کے موضوع کی تفصیل بیان کرتی ہیں ۔

داؤد کا عہد ( 2سموئیل 7باب 8-16آیات ) ۔ داؤد کا عہد ابرہام کے ساتھ باندھے گے عہد کے نسلی پہلو کو واضح کرتا ہے ۔ اس حوالے میں داؤد کے ساتھ کئے گئے وعدے نہایت اہم ہیں ۔ خدا نے وعدہ کیا تھا کہ داؤد کی نسل ہمیشہ قائم رہے گا اور اُس کی بادشاہی کبھی بھی مستقل طور پر ختم نہیں ہو گی ( 16آیت)۔ یقیناً داؤد کا تخت ہمیشہ موجود رہنے والا نہیں ہے ۔ تاہم ایک وقت آئےگا جب داؤد کی نسل کا کوئی شخص اس تخت پر پھر سے تخت نشین ہو گا اور بادشاہ کے طور پر حکمرانی کرےگا ۔ یہ مستقبل میں آنے والا بادشاہ یسوع مسیح ہے (لوقا 1باب 32-33آیات)۔

نیا عہد ( یرمیاہ31باب 31-34آیات)۔ نیا عہد ایک ایسا عہد ہے جو پہلےبنی اسرائیل کے ساتھ اور اس کے بعد بالآخر تمام انسانیت کے ساتھ باندھا گیا تھا ۔ نئے عہد میں خدا گناہ معاف کرنے کا وعدہ کرتا ہے ۔ اُس وقت خداکے بارے میں عالمگیر طور پر آگاہی ہو گی ۔ یسوع موسیٰ کی شریعت کو پورا کرنے ( متی 5باب 17آیت) اور خدا اور اُس کے لوگوں کے مابین ایک نیا عہد قائم کرنے کےلیے آیا تھا ۔ اب ہم نئے عہد کے ماتحت ہیں اور یہودی اورغیر اقوام کے لوگ شریعت کی سزا سے آزاد ہو سکتے ہیں ۔ اب ہمیں مفت تحفے کے طور پر نجات حاصل کرنے کا موقع ملا ہے ( افسیوں 2باب 8-9 آیات)۔

بائبل کے عہد وں کے بارے میں کی جانے والی بحث میں چند ایک ایسے معاملات ہیں جن پر مسیحی متفق نہیں ہیں ۔ پہلا یہ کہ کچھ مسیحیوں کا خیال ہے کہ تمام عہد نوعیت کے لحاظ سے مشروط ہیں ۔ اگر یہ عہد مشروط ہیں تو اسرائیلی ان کو پورا کرنے میں بُر ی طرح ناکام رہے تھے ۔ جبکہ دیگر لوگوں کا خیال ہے کہ غیر مشروط عہدوں کا مکمل طور پر پورا ہونا ابھی باقی ہے اور اسرائیل کی نا فرمانی سے قطعِ نظر مستقبل میں کسی وقت اِن کی تکمیل ہو گی ۔ دوسرا یہ کہ یسوع مسیح کی کلیسیا کا ان عہد وں سے کیا تعلق ہے؟ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ کلیسیا ان عہد وں پر پورا اُترتی ہے اور خدا اسرائیل کے ساتھ اب کبھی تعلق نہیں رکھے گا ۔ اسے متبادل علم ِ الہیات کہا جاتا ہے اور اس کے بارےمیں بہت کم بائبلی ثبوت موجود ہیں ۔ دیگر لوگوں کا خیال ہے کہ کلیسیا ابتدائی یا جزوی طور پر اِن عہد وں کو پورا کرے گی ۔ تاہم اسرائیل کے بارے میں بہت سے وعدے ابھی مستقبل میں پورے ہونے والے ہیں اور بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ کلیسیا بھی ان عہد وں میں شریک ہے ۔ دیگر لوگوں کا ایمان ہے کہ یہ عہد صرف اور صرف اسرائیل کےلیے ہیں اور ان عہد وں میں کلیسیا کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل کے اندر کون کونسے عہدوں کا ذکر کیا گیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries