settings icon
share icon
سوال

بائبلی کتب کی ترتیب و تدوین کب اور کیسے کی گئی ؟

جواب


اُن کتابوں کو متعارف اور بیان کرنے کے لیے جو خُدا کی طرف سے الہامی ہیں "کینن" کی اصطلاح کو استعمال کیا جاتا ہے، اور اِسی وجہ سے یہ کتابیں بائبل مُقدس کا حصہ ہیں۔ بائبلی کینن کو واضح طور پر پہچاننے میں مسئلہ یہ ہے کہ بائبل واضح طور پر ہمیں کتابوں کی کوئی ایسی فہرست فراہم نہیں کرتی جو اُس کا حصہ ہیں یا حصہ ہونی چاہییں۔ ابھی یہ طے کرنے کے لیے کہ کونسی کتابیں کینن کا حصہ ہونگی(یعنی بائبل کی کتابوں کی ترتیب و تدوین کے لیے) سب سے پہلے یہودی ربیوں اور اُن کے علماء نے ایک سلسلہ شروع کیا اور ایسا ہی ابتدائی کلیسیا کے مسیحی علماء نے بھی کیا۔ اور اُن کی اِس کوشش میں بالآخر خُدا نے اُن کی مدد اور رہنمائی کی اور حتمی فیصلہ خود خُدا کی ذات نے دیا کہ کونسی کتابیں الہامی ہیں اور کونسی الہامی نہیں ہیں۔ اِس سارے معاملے میں خُدا نے اپنے پیروکاروں کو اپنی خاص ہدایت سے یہ فیصلہ کرنے میں مدد کی کہ کونسی کتابیں اُس کے کلامِ مُقدس میں شامل کی جانی چاہییں۔

اگر ہم نئے عہد نامے کو دیکھیں تو اُس کے مقابلے میں پرانے عہد نامے کی کتابوں کو کلام میں شامل کرنے کے حوالے سے بہت کم مسائل تھے۔ عبرانی ایمانداروں نے خُدا کے پیغمبروں کو اچھی طرح سے پہچان لیا تھا اور اُنہوں نے اُن نبیوں اور پیغمبروں کی تحریروں کو خُدا کی طرف سے الہامی کلام ہونے کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ اگرچہ 250 بعد از مسیح تک پرانے عہد نامے کی کتابوں کے حوالے سے تھوڑی بہت بحث جاری تھی لیکن ویسے عالمگیر سطح پر اُن کتابوں کے خُدا کا کلام ہونے کے حوالے سے لوگوں میں اتفاق پایا جاتا تھا۔ اگر کوئی مسئلہ تھا بھی تو وہ اپاکرِفا(نئے اور پرانے عہد نامے کے درمیانی دور میں لکھی جانے والی کتابوں) کے حوالے سے تھا جو کہ آج کے دن تک جاری ہے۔ عبرانی علماء کی ایک بہت بڑی تعداد اپاکرِفا (نئے اور پرانے عہد نامے کے درمیانی دور میں لکھی جانے والی کتابوں)کوتاریخی اور مذہبی لحاظ سے بہت اچھا اور معتبر تو گردانتے ہیں لیکن وہ اُنہیں خُدا کے الہامی کلام کا درجہ نہیں دیتے۔

نئے عہد نامے کے حوالے سے الہامی تحریروں کی پہچان اور اُن کو جمع کرنے کا مرحلہ ابتدائی کلیسیا کے دور کی پہلی صدیوں کے درمیان ہی شروع ہوا تھا۔ بہت ابتدائی طور پر نئے عہد نامے کی کچھ کتابوں کو واضح طور پر الہامی مانا جاتا تھا۔ پولس رسول اپنے دور میں لوقا کی طرف سے پیش کردہ تحریروں کو پرانے عہد نامے کے برابر الہامی مانتا تھا (1 تیمتھیس 5باب 18آیت؛ استثنا 25باب 4 آیت اور لوقا 10باب 7 آیت بھی دیکھئے)۔ پطرس پولس رسول کی تحریروں کو الہامی مانتا تھا (2 پطرس 3باب15- 16آیات)۔ ابتدائی کلیسیائی دور میں نئے عہد نامے کی کچھ کتابیں اُس دور کی کلیسیاؤں میں گردش کر رہی تھیں( کلسیوں 4باب 16آیت؛ 1 تھسلنیکیوں 5باب27آیت)۔ روم کے کلیمنٹ نے اُس دور میں نئے عہد نامے کی 8 کتابوں کا الہامی ہونے کے طور پر ذکر کیا (95 بعد از مسیح)۔انطاکیہ کے اگنیشئس نے اپنے دور میں نئے عہد نامے کی 7 کتابوں کا الہامی ہونے کے طور پر ذکر کیا (115 بعد از مسیح)۔ یوحنا کے ایک شاگرد بنام پولیکارپ نے 15 کتابوں کا الہامی ہونے کے طور پر ذکر کیا (108بعد ازمسیح)۔ بعد میں ارینائیس نے 21 کتابوں کا الہامی ہونے کے طور پر ذکر کیا (185 بعد از مسیح)۔ہیپولائٹس نے 22 کتابوں کو الہامی تسلیم کرتے ہوئے اُن کا ذکر کیا (170 تا 235 بعد از مسیح)۔ نئے عہد نامے کی وہ کتابیں جن کے حوالے سے ابتدائی طور پر زیادہ شبہات اور مسائل محسوس کئے گئے عبرانیوں ، یعقوب، 2 پطرس، 2 یوحنا اور 3 یوحنا تھیں۔

نئے عہد نامے کی کتابوں کی پہلی ترتیب (کینن) کو" موریٹوری کینن" کا نام دیا گیا جسے 170 بعد از مسیح میں ترتیب دیا گیا تھا۔ "موریٹوری کینن میں نئے عہد نامے کی سبھی کتب شامل تھیں ماسوائے عبرانیوں، یعقوب، 1 اور 2 پطرس اور 3 یوحنا۔ پھر 363 بعد از مسیح میں لودیکیہ کی مجلس میں یہ اعلان کیا گیا کہ پرانا عہد نامہ (بشمول اپاکرِفا) اور نئے عہد نامے کی 27 کتابیں کلیسیا کے اندر کلام کے طور پر پڑھی اور استعمال کی جائیں۔ ہپو کی مجلس (393 بعد از مسیح) اور کارتھیج کی مجلس (397 بعد از مسیح) میں بھی اِس بات کی تصدیق کی گئی اور اُنہی 27 کتابوں کو نئے عہد نامے کا حتمی اور معتبر حصہ قرار دیا گیا۔

اِن مجالس میں کچھ اِس طرح کے اصولوں کو استعمال کیا گیا جن کی بناء پر اِس بات کو طے کیا گیا کہ آیا کونسی کتابیں رُوح القدس کی تحریک سے تحریر ہوئیں اور کلامِ مُقدس (نئے عہد نامے) کا حصہ ہونگی:

‌أ. کیا کتاب کو تحریر کرنے والارُسول یا اُس کا کوئی بہت قریبی ساتھی تھا؟

‌ب. کیا اِس کتاب/تحریر کو ابتدائی کلیسیا میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا تھا؟

‌ج. کیا کتاب میں عقائد اور مسیحی تعلیمات کے حوالے سے ہم آہنگی پائی جاتی تھی؟

‌د. کیا کتاب اعلیٰ ترین اخلاقی اور رُوحانی اقدار کا ثبوت پیش کرتی تھی جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ رُوح القدس کا کام ہے؟

ایک بار پھر ہمیں یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ کلیسیا نے اپنے طور پر اِس بات کو طے نہیں کیا کہ کونسی کتابیں کینن یعنی خُدا کے کلام کا حصہ ہونگی۔ ابتدائی کلیسیا کی کسی بھی مجلس نے نئے عہد نامے کے کینن کے حوالے سے فیصلہ نہیں کیا تھا۔ یہ صرف خُدا ہی کی ذات تھی، صرف خود خُدا ہی نے اِس بات کا تعین کیا کہ اُس کے کلام میں کونسی کتاب شامل ہوگی۔ اور جو کچھ خُدا کا اپنا فیصلہ تھا اُسے اُس نے اپنے ماننے والے لوگوں پر ظاہر کیا۔ انسانی سطح پر کلام کی کتابوں کو جمع کرنے کا مرحلہ کئی طرح کی غلطیوں سے پُر تھا لیکن خُدا نے اپنی الٰہی حاکمیت سے انسانوں کی نا سمجھی اور بعض دفعہ ہٹ دھرمی کے باوجود ابتدائی کلیسیا کو اِس بات کی پہچان کروائی کہ وہ کونسی کتابیں ہیں جو اُس کی طرف سے الہام کے ذریعے سے کلیسیا کو دی گئی تھیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبلی کتب کی ترتیب و تدوین کب اور کیسے کی گئی ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries