settings icon
share icon
سوال

بائبل رشوت دینے یا لینے کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

جواب


جو کچھ سچ، درست یا انصاف پر مبنی ہے اُس پر کسی کے اپنے اثرورسوخ کے اثر انداز ہونے کے بدلے میں دیا گیا روپیہ پیسہ، طرفداری یا خاص دھیان رشوت ہے۔ بائبل اِس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ رشوت کا دیا یا لیا جانا بُرائی ہے۔

خُدا کی طرف سے موسیٰ کے وسیلے بنی اسرائیل کو دی گئی شریعت میں رشوت لینے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ رِشوت بِیناؤں کو اندھا کر دیتی ہے اور صادِقوں کی باتوں کو پلٹ دیتی ہے۔ (خروج 23باب8 آیت)اِسی اصول کو اِستثنا 16باب19 آیت کے اندر دہرایا گیا ہے:"تُو اِنصاف کا خُون نہ کرنا ۔ تُو نہ تو کسی کی رُو رِعایت کرنا اور نہ رِشوت لینا کیونکہ رِشوت دانِش مند کی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے اور صادِق کی باتوں کو پلٹ دیتی ہے۔ " اِن دونوں حوالوں کے اندر رشوت لینے کے منفی اثرات کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ رشوت انصاف کے حصول کو بگاڑ دیتی ہے۔ یہ حکمت، دانشمندی اور سمجھداری کی بینائی کو چھین لیتی ہے۔ یہ سچائی کو بادل بنا کر اُڑا لے جاتی اور خُدا کے سامنے راستباز لوگوں کی باتوں کو توڑ مروڑ دیتی ہے۔

ایک بے گناہ کے قتل کے معاملے میں رشوت کے بارے میں شریعت اور بھی آگے بڑھ جاتی ہے۔ جو قاضی ‏ ایک بے گناہ شخص کو موت کی سزاد دینے کے لیے رشوت لیتا ہے وہ ایک کرائے کے قاتل کی طرح مجرم ہے-اُسے لعنتی قرار دیا گیا ہے (اِستثنا27باب25 آیت)۔ بائبل میں ایسے واقعات کا بھی بیان ملتا ہے جہاں شریعت کے اِس حکم کو توڑا گیا تھا جس کے نتائج تباہ کن ثابت ہوئے ۔ نبوت کے خلاف گواہی دینے والے دو افراد(1 سلاطین 21باب4-16 آیات) اور ستفنس کے خلاف گواہی دینے والے لوگوں (اعمال 6باب8-14 آیات) کو غالباً رشوت دے کر اِس کام پر راضی کیا گیا تھا، دونوں ہی صورت میں ایک ایک بے گناہ شخص مارا گیا تھا۔ جب اعلیٰ حکام رشوت دیتے اور لیتے ہیں تو یہ چیز معاشرے میں بُرائی کا سبب بنتی ہے۔ "بادشاہ عدل سے اپنی مملکت کو قِیام بخشتا ہے لیکن رِشوت سِتان اُس کو وِیران کرتا ہے "(امثال 29باب4 آیت)۔ رشوت بدعنوان معاشرے کی ایک عام خاصیت ہے۔

جب اسرائیلی قوم نے خُدا اور اُس کی شریعت سے منہ پھیر لیا تو یسعیاہ نے اُس کے خلاف نبوّت کی ۔ یسعیاہ نے یروشلیم شہر کو ایک بے وفا فاحشہ سے تشبیہ دی ؛ یہ شہر کسی دور میں عدل و انصاف سے بھرا ہوا تھا لیکن یہ بغاوت، قتل و غارت اور چوری و غارت گری کا گڑھ بن گیا تھا۔ اُس کے حاکم رشوت سے محبت کرتے تھے اور رشوت کے پیسوں کے پیچھے بھاگتے تھے (یسعیاہ 1باب2-23 آیات)۔ بنی اسرائیل کے لیے حکم تھا کہ وہ بُرائی کے طریقوں پر عمل نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے معاملات میں خُدا کی تقلید کریں: "کیونکہ خُداوند تمہارا خُدا ِلہٰوں کا اِلٰہ خُداوندوں کا خُداوند ہے ۔ وہ بزُرگوار اور قادِر اور مہیب خُدا ہے جو رُو رِعایت نہیں کرتا اور نہ رِشوت لیتا ہے " (اِستثنا 10باب17 آیت)۔

بائبل میں رشوت کی سب سے گھناؤنی مثال چاندی کے وہ تیس سکے ہیں جو یہوداہ نے خُداوند یسوع مسیح کو دھوکا دینے کے لیے رشوت کے طور پر لئے تھے۔ یہوداہ کی غداری کا براہِ راست نتیجہ یہ نکلا کہ خُداوند یسوع کو گرفتار کر کے مصلوب کر دیا گیا۔ اِس کے بعد یہوداہ کو بھی یہ احساس ہوا کہ رشوت کو قبول کرنا غلط ہے۔ لیکن جب اُس نے یہ رشوت میں لی ہوئی رقم سردار کاہنوں اور بزرگوں کو واپس کرنے کی کوشش کی تو اُنہوں نے اُسے واپس لینے سے انکار کر دیا اور اُسے "خون کی قیمت" (متی 27باب 3-9 آیات) قرار دیا۔

دلیلہ کو بھی سمسون کو پھنسانے کے لیے رشوت دی گئی تھی (قضاۃ 16باب5 آیت)۔ سموئیل کے بیٹوں نے رشوت لے کر اپنے مذہبی عہدوں کی بے حرمتی کی تھی (1 سموئیل 8باب3 آیت)۔ ناراست ہامان نے شاہِ فارس اخسویرس کو ایک طرح سے رشوت دیکر ہی یہودیوں کا مکمل خاتمہ کرنے کی کوشش کی (آستر 3باب9 آیت)۔ فیلکس نے پولس کو قید میں ہی رہنے دیا کیونکہ اُسے اُس سے کچھ رشوت ملنے کی اُمید تھی (اعمال 24باب26 آیت)۔ اور خُداوند یسوع مسیح کی قبر پر پہرہ دینے والے سپاہیوں کو سردار کاہن اور بزرگوں کی طرف سے رشوت دی گئی تاکہ وہ یسو ع کی لاش کے چُرائے جانے کی خبر کو مشہور کر دیں (متی 28باب12-15 آیات)۔ ہر ایک معاملے میں رشوت لینے والوں کو سچائی اور انصاف کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل رشوت دینے یا لینے کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries