settings icon
share icon
سوال

بائبل مُقدس رویے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب


روم میں قید خانے کی ایک کوٹھڑی سے لکھتے ہوئے پولس نے ایک مسیحی کے رویے کے بارے میں کہا ہے کہ :"صرف یہ کرو کہ تمہارا چال چلن مسیح کی خُوشخبری کے مُوافق رہے " (فلپیوں 1باب27 آیت)۔ یہاں پر "صرف یہ کرو" کا تعلق اِس چیز کے ساتھ ہے کہ پولس فلپیوں کی کلیسیا سے ملنے آ سکتا ہے یا نہیں ۔ پولس نے یہ ہدایت اِس لیے دی کہ "تاکہ خَواہ مَیں آؤں اور تمہیں دیکھوں خَواہ نہ آؤُں تمہارا حال سنُوں کہ تم ایک رُوح میں قائِم ہو اور اِنجیل کے اِیمان کے لئے ایک جان ہو کر جانفشانی کرتے ہو "(فلپیوں 1باب27 آیت)۔ ہمارے راستے میں کوئی بھی غیر متوقع خلل، مایوسی یا مشکلات کیوں نہ آئیں، ہمیں اُن سب کا جواب مسیح جیسے رویے کے ساتھ دینا چاہیے۔ہمیں ایمان کے لیے ثابت قدم اور ہمیشہ جانفشانی کے ساتھ کوشاں رہنا چاہیے۔ پولس بعد میں لکھتا ہے کہ "وَیسا ہی مزاج رکھّو جیسا مسیح یِسُو ع کا بھی تھا" (فلپیوں 2باب5 آیت) ۔وہ رشتوں میں عاجزی اور بے لوث پن کا مظاہرہ کرنے کو کہتا ہے۔ وہ افسیوں 5باب1 آیت کے اندر بھی ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ "پس عزِیز فرزندوں کی طرح خُدا کی مانند بنو۔"جس طرح بچّے جو کچھ دیکھتے ہیں اُس کی تقلید کرتے ہیں اور جو کچھ سُنتے ہیں اُسے دہرانہ پسند کرتے ہیں۔ ہمیں مسیح کے طرزِ عمل کی نقل کرنے اور خُدا کی ذات کی واضح عکاسی کرنے کا حکم دیا گیا ہے (متی 5باب16 آیت)۔

خُداوند یسوع نے ہر حالت میں ایک کامل رویہ برقرار رکھا تھا۔ اُس نے ہر ایک چیز کے بارے میں دُعا کی اور کسی بھی چیز کی فکر نہ کی۔ ہمیں بھی اپنی زندگیوں کے ہر ایک پہلو کے حوالے سے خُداوند کی رہنمائی حاصل کرنی چاہیےاور اُس کی کامل مرضی کو اپنی زندگیوں میں پورا ہونے دینا چاہیے۔ خُداوند یسوع کا رویہ کبھی بھی مدافعتی یا حوصلہ شکنی کا نہیں تھا۔ اُس کا مقصد اپنے کسی ایجنڈے کو حاصل کرنے کی بجائے باپ کو خوش کرنا تھا (یوحنا 6باب38 آیت)۔ اپنی آزمائشوں کےوقت اُس نے صبر کیا۔ اپنے دُکھوں کے دوران وہ پُر اُمید تھا۔ اپنی برکت کے دوران وہ عاجز تھا۔ یہاں تک کہ تضحیک ، بد سلوکی اور دُشمنی کے درمیان بھی "نہ وہ گالِیاں کھا کر گالی دیتا تھا اور نہ دُکھ پا کر کسی کو دھمکاتا تھا بلکہ اپنے آپ کو سچّے اِنصاف کرنے والے کے سپُرد کرتا تھا" (1 پطرس 2باب23 آیت)۔

جب پولس لکھتا ہے کہ ہمارا "مزاج مسیح یسوع جیسا" ہونا چاہیے تو اُس نے پچھلی دو آیات میں خلاصہ کیا تھاکہ ایسا رویہ کیا ہوتا ہے : بے لوث پن، عاجزی اور خدمت"تفرقے اور بے جا فخر کے باعث کچھ نہ کرو بلکہ فروتنی سے ایک دُوسرے کو اپنے سے بہتر سمجھے۔ہر ایک اپنے ہی اَحوال پر نہیں بلکہ ہر ایک دُوسروں کے اَحوال پر بھی نظر رکھّے " (فلپیوں 2باب3-4 آیات) ۔دوسرے الفاظ میں، ایک مسیحی کو جس رویے کی عکاسی کرنی چاہیے اُسے دوسروں کی ضروریات اور مفادات پر مرکوز ہونا چاہیے۔ بلاشک یہ چیز ہمارے اندر فطری طور پر نہیں آتی۔ خُداوند یسوع جب دُنیا میں آیا تو اُس نے دوسروں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ایک بالکل نیا رویہ قائم کیا۔ ایک دن جب اُس کے شاگرد آپس میں بحث کر رہے تھے کہ اُن میں سے بڑا کون ہے تو خُداوند یسوع نے اُن سےکہا " تم جانتے ہو کہ غَیر قَوموں کے سردار اُن پر حکم چلاتے اور امِیراُن پر اِختیار جتاتے ہیں۔تم میں اَیسا نہ ہو گا بلکہ جو تم میں بڑا ہونا چاہے وہ تمہارا خادِم بنے۔اور جو تم میں اوّل ہونا چاہے وہ تمہارا غُلام بنے۔چُنانچہ اِبنِ آدم اِس لئے نہیں آیا کہ خِدمت لے بلکہ اِس لئے کہ خِدمت کرے اور اپنی جان بہتیروں کے بدلے فِدیہ میں دے " (متی 20باب25-28 آیات) ۔خُداوند یسوع ہمیں تعلیم دے رہا ہے کہ جب ہم اپنی چیزوں کے حوالے سے ہی مصروف ہو جاتے ہیں تو یہ رویہ اُن لوگوں کے ساتھ تنازعات اور دیگر مسائل کا سبب بن سکتا ہے جنہیں ہم جانتے ہیں۔ اِس کی بجائے خُدا چاہتا ہے کہ ہم دوسروں کی فکر میں سنجیدہ اور اُن کی پرواہ کرنے والا رویہ اختیار کریں۔

پولس افسس کی کلیسیا کو خط لکھتے ہوئے مسیح جیسے مزاج کے بارے میں مزید بات کرتا ہے : "تُم اپنے اگلے چال چلن کی اُس پُرانی اِنسانِیّت کو اُتار ڈالو جو فریب کی شہوَتوں کے سبب سے خراب ہوتی جاتی ہے۔اور اپنی عقل کی رُوحانی حالت میں نئے بنتے جاؤ۔اور نئی اِنسانِیّت کو پہنو جو خُدا کے مُطابِق سچّائی کی راست بازی اور پاکیزگی میں پَیدا کی گئی ہے۔"(افسیوں 4باب22-24 آیات)۔ آج کے بہت سے مذاہب بشمول نئے دور کے فلسفے اُس پرانے جھوٹ کو فروغ دیتے ہیں کہ ہم خُدائی فطرت کے مالک ہیں یا ہم دیوتا بن سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم کبھی خُدا یا دیوتا نہیں بنیں گے۔ یہ شیطان کا سب سے بڑا جھوٹ ہے جس میں اُس نے آدم اور حوّا سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم میرے مشورے پر عمل کروگے تو "تم خُدا کی مانند بن جاؤ گے"( پیدایش 3باب5 آیت)۔

جب بھی ہم اپنے حالات، اپنے مستقبل اور اپنے اردگرد کے لوگوں پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم صرف یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم خُدا/دیوتا بننا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ مخلوق کی حیثیت سے ہم کبھی خالق نہیں بنیں گے۔ خُدا نہیں چاہتا کہ ہم دیوتا بننے کی کوشش کریں۔ اِس کی بجائے وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کی مانند بنیں، اُس کی اقدار، اُس کے رویوں اور اُس کے کردار کو اختیار کریں۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ "اور اپنی عقل کی رُوحانی حالت میں نئے بنتے جاؤ۔اور نئی اِنسانیّت کو پہنو جو خُدا کے مُطابِق سچّائی کی راست بازی اور پاکیزگی میں پَیدا کی گئی ہے " (افسیوں 4باب23-24 آیات)۔

آخر میں ہمیں ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ خُدا کا اپنے فرزندوں کے لیے حتمی مقصد اُن کا سکون نہیں بلکہ اُن کے ذہنوں کو خُدا پرستی کے رویے میں تبدیل کرنا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم رُوحانی طور پر ترقی کریں، مسیح کی مانند بنیں۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنی شخصیت کو کھو دیں یا بے عقل کلون بن جائیں ۔ مسیح کے مشابہ ہونے سے مُراد اپنے ذہنوں کو تبدیل کرنا ہے۔ پولس رسول ہمیں پھر کہتا ہے کہ "اِس جہان کے ہم شکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہو جانے سے اپنی صُورت بدلتے جاؤ تاکہ خُدا کی نیک اور پسندِیدہ اور کامِل مرضی تجربہ سے معلُوم کرتے رہو " (رومیوں 12باب2 آیت)۔

خُدا کی مرضی یہ ہے کہ ہم مسیح کی طرف سے پیش کردہ مبارکبادیوں کے مطابق اپنے ذہن کو ترتیب دیں (متی 5باب1-12 آیات)۔ ہم اپنی زندگیوں میں سے رُوح کے پھل کو ظاہر کریں، ہم پولس رسول کی طرف سے بیان کردہ عظیم محبت کے باب (1 کرنتھیوں 13باب) کے اصولوں کی تقلید کریں اور یہ کہ ہم پطرس کی طرف سے بیان کردہ ایک موثر اور پیداواری زندگی کی خصوصیات کے نمونے کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کریں (2 پطرس 1باب 5-8 آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل مُقدس رویے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries