settings icon
share icon
سوال

ہم یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ آجکل کے دور میں بائبل کے کونسے حصے کا اطلاق ہم پر ہوتا ہے؟

جواب


مسیحی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ غلط فہمی اِ س وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ یا تو ہم کسی مخصوص دور کے لوگوں کے لیے دئیے گئے احکام اور نصیحتوں کو، جن کا اطلاق کلام کے صرف اصل سامعین پر ہی ہوتا تھا خود ہی اپنے اوپر لاگو کر لیتے ہیں یا پھر ہم ایسے احکام اور نصیحتوں کو لیتے ہیں جو کچھ مخصوص سامعین کے لیے ہوتے ہیں اور اُنہیں ہر دور کے لیے لازمی حکم بنا دیتے ہیں۔ ہم اِن چیزوں میں فرق کس طرح سے کر سکتے ہیں؟اِس حوالے سے پہلی چیز جس کا دھیان رکھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ کلامِ مُقدس میں جن کتب کو شامل کرنا تھا اُنہیں پہلی صدی کے اختتام تک شامل کر لیا گیا ہے اور اب اِس سلسلے کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ پوری کی پوری بائبل حق اور سچ ہے اِس سچائی کا اطلاق ہم اپنی زندگی پر کر سکتے ہیں، لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اِس بائبل کے ایک بڑے حصے کے اصل سامعین ہم نہیں تھے، یہ حقیقت میں کسی او ر دور کے لوگوں کے لیے تحریر کی گئی تھی۔ جب مصنفین خُدا کے کلام کو قلمبند کر رہے تھے تو اُن کے دماغ میں اُن کے اپنے دور کے سامعین اور قارئین تھے۔ اِس بات کی روشنی میں جب ہم بائبل مُقدس کے پیغام کی موجودہ دور کے لیے تفسیر کرتے ہیں تو ہمیں بہت ہی زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دورِ حاضر کی بشارتی منادی کرنے والے کلامِ مُقدس کا عملی اطلاق کچھ یوں کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں ہم بائبل کو ایک ایسی ندی کے طور پر لیتے ہیں جہاں سے ہم آج کے دور کے مسیحیوں پر اطلاق کے لیے مچھلیاں پکڑ سکتے ہیں۔ اور ایسا کرنے کی بدولت ہمیں مناسب تشریح او ر ترجمے کا نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔

علمَ التفسیر (بائبلی تفسیر و تشریح کے فن اور سائنس) کے تین سب سے نمایاں اصول یہ ہیں کہ (1) سیاق و سباق، (2)سیاق و سباق) اور (3) سیاق و سباق۔ اکیسویں صدی کے مسیحیوں کو یہ بتانے کے لیے کہ اُن پر بائبل کی تعلیمات کا اطلاق کیسے ہوتا ہے، پہلے ہمیں اِس بات کی اچھی طرح سے سمجھ بوجھ حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ بائبل کا اپنے اصل سامعین کے لیے کیا پیغام تھا۔ اگر ہم کسی ایسے اطلاق کے نتیجے پر پہنچتے ہیں جو حقیقی سامعین کے لیے بالکل نیا، مختلف یا عجیب ہو سکتا ہے تو اِس بات کا قوی امکان ہے کہ ہم نے اُس حوالے کا ترجمہ یا تفسیر درست طور پر نہیں کیا تھا۔ ایک دفعہ جب ہمیں یقین ہو جائے کہ ہم اِس بات کو بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ بائبل کے متن کا اُس کے اصل سامعین کے لیے کیا مطلب تھا تو اُس صورت میں ہمیں اِس بات کا تعین کرنے کی ضرورت ہوگی کہ اصل سامعین اور ہمارے درمیان پائی جانے والی کھائی کی چوڑائی کتنی زیادہ تھی۔دوسرے الفاظ میں زبان، وقت، معاشرے ، جغرافیائی حدود و قیود ، پس منظر اور صورتحال میں کیا کیا فرق تھا۔ کسی بھی طرح کے اطلاق سے پہلے اِن سب باتوں کا اچھی طرح سے اندازہ لگانا ضروری ہے۔ ایک بار جب اصل سامعین اور اپنے درمیان پائی جانے والی کھائی کی پیمائش ہو جاتی ہےپھر ہم اصل سامعین اور اپنے درمیان پائی جانے والی اشتراکی چیزوں کی بنیاد پر اِس کھائی کے اوپر پُل باندھنا شروع کر سکتے ہیں۔ اور پھر ہم اپنے وقت اور حالات کے مطابق اپنے لیے اُس کلام کے اندر اطلاق کو ڈھونڈنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

ایک اور اہم چیز جس کا خیال رکھنا ضروری ہے یہ ہے کہ ہر ایک حوالے کی صرف ایک ہی درست تفسیر اور تشریح ہے۔ اِس کے کئی ایک مختلف اطلاق ہو سکتے ہیں لیکن اِس کی تفسیر اور تشریح بس ایک ہی ہوگی۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ بائبل کے کچھ حوالہ جات کے کچھ اطلاق دیگر اطلاق سے بہتر ہوتے ہیں۔ اگر کوئی اطلاق اصل تفسیر کے زیادہ قریب ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کلام کے اُس حوالے کا بہتر اطلاق ہے۔ مثال کے طور پر 1 سموئیل 17 باب (داؤد اور جاتی جولیت کی کہانی) پر بہت سارے وعظ پیش کئے جا چکے ہیں جن کا مرکزی پیغام یہی ہوتا ہے کہ "اپنے زندگی کے اندر ظاہر ہونے والے دیو کو کیسے شکست دی جا سکتی ہے۔ اِن پیغامات میں اکثر لوگ ساری تفصیلات پر سے آسانی کے ساتھ بالائی اُتار لیتے ہیں اور سیدھے اطلاق پر چلے جاتے ہیں۔ اور اُس اطلاق میں اکثر جاتی جولیت کو مجازی معنی دینے کے ذریعےزندگی کی کسی ایسی صورتحال میں ڈھال لیا جاتا ہے جو سخت، مشکل اور خوفناک ہوتی ہی اور جس پر ایمان کے ذریعے سے فتح پانا عام طور پر ضروری ہوتا ہے۔ کئی لوگ تو اُن پانچ چکنے پتھروں کے بھی مجازی معنی نکالتے ہیں جو داؤد نے جاتی جولیت کو مارنے کے لیے چُنے تھے۔ ایسے وعظوں کا اکثر اختتام اِس نصیحت کے ساتھ ہوتا ہے کہ ہمیں داؤد کی طرح وفادار رہنے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ اِس طرح کی تفسیریں ایسے وعظ تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں جو لوگوں کے لیے بہت زیادہ دلچسپی کا باعث بنتے ہیں لیکن اِس بات پر واضح طور پر شک کیا جا سکتا ہے کہ اُس پیغام کے اصل سامعین کے لیے اِس کہانی میں یہی پیغام تھا۔ اِس سے پہلے کہ ہم 1 سموئیل 17 باب کی سچائی کا اطلاق اپنی یا کسی اور کی زندگی پر کر سکیں، ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اصل سامعین نے اُس وقت اُس خاص حوالے کو کس طرح سے سمجھا تھااور اِس کا مطلب یہ ہے کہ1 سموئیل کی ساری کی ساری کتاب کے مقصد کے بارے میں جانا جائے۔ 1 سموئیل 17 باب کی اصل تفسیر میں جائے بغیر یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ یہ باب حقیقت میں آپ کی زندگی کے سب سے بڑے دیو کو شکست دینے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ سبق اِس حوالے کا دور کا ایک اطلاق ضرور ہو سکتا ہے لیکن جہاں تک تفسیر کا تعلق ہے تو یہ اطلاق اصل متن اور اُس کی تفسیر کے تعلق سے عجیب اور انوکھا ہے۔ اِس کہانی میں خُدا خود ہیرو ہے اور داؤد خُدا کی طرف سے چُنا ہوا ذریعہ تھا جس کے وسیلے وہ اپنے لوگوں کو رہائی بخشتا ہے۔ اِس کہانی میں لوگوں کے بادشاہ (ساؤل) کا موازنہ خُدا کی طرف سے مقرر کردہ بادشاہ (داؤد) کیساتھ کیا جا سکتا ہے اوریہ کہانی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ مسیح (ابنِ داؤد) ہماری نجات کی فراہمی کے لیے کیا کرے گا۔

سیاق و سباق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تفسیر کرنے کی ایک اور عام مثال یوحنا 14 باب 13-14آیات ہے۔ اگر اِن آیات کو سیاق و سباق کے بغیر پڑھا جائے تو یوں محسوس ہوگا کہ ہم (اہل نہ ہوتے ہوئے بھی) اگر خُدا سے کچھ بھی مانگیں گےتو وہ ہمیں ضرور مل جائے گا، اِس میں صرف ہم نے یہ فارمولا استعمال کرنا ہے کہ ہر ایک چیز "یسوع کے نام " میں مانگی جائے۔ جب ہم اِس حوالے پر علم التفسیر کے اصولوں کا اطلاق کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ الفاظ خُداوند یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ اُس وقت بول رہا تھا جب وہ یہودہ اسکریوتی کے ذریعے پکڑوائے جانے سے تھوڑی دیر پہلے بالائی منزل پر اپنے شاگردوں کے ساتھ خاص رفاقت میں تھا۔ اِس حوالے کے ابتدائی ترین سامعین تو خُداوند یسوع مسیح کے شاگرد تھے۔ یہ خاص وعدہ تو خُداوند یسوع مسیح کے شاگردوں کے ساتھ ہے کہ جو کام یسوع اُن کے سپرد کر رہا تھا اُس کی تکمیل کے لیے خُدا اُنہیں سبھی ضروری ذرائع مہیا کرے گا۔ یہ دراصل تسلی کا پیغام تھا کیونکہ خُداوند یسوع خود اپنے شاگردوں کو چھوڑ کر جانے والا تھا۔ کیا اِس میں اکیسویں صدی کے مسیحیوں کے لیے کوئی اطلاق ہے؟ یقینی طور پر اِس میں ہے!اگر ہم یسوع کے نام میں دُعا مانگتے ہیں تو پھر ہم خُدا کی مرضی کے مطابق دُعا مانگیں گے اور خُدا ہماری زندگی میں اور ہماری زندگیوں کے وسیلے سے اپنی پاک مرضی کو پورا کرنے کے لیے ہمیں تمام ضروری چیزیں مہیا کرے گا۔ مزید برآں، خُدا سے ہمیں جو بھی جواب ملے گا اُس سے خُدا ہی کے نام کو جلال ملے گا۔ اور یہ ایسے اختیارِ کلی (جس میں ہم اپنی مرضی سے جو چاہیں حاصل کریں)کے بالکل برعکس یہ حوالہ ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ ہی دُعا کے ذریعے سے خُدا کی پاک مرضی کے تابع رہنا چاہیے اور جب ہم اُس کی مرضی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو خُدا اُس کے حوالے سے ہماری تمام ضروری اور اصل ضروریات کو پورا کرے گا۔

بائبل مُقدس کی مناسب اور اچھی تفسیر کی بنیاد مندرجہ ذیل اصولوں کے اوپر ہوتی ہے۔

1. سیاق و سباق: کسی حوالے کو اچھی طرح سے سمجھنے کے لیے چھوٹے درجے یا چھوٹے حوالے سے شروع کیجئے اور پھر اُس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے باہر کی طرف (اُس کے آگے اور پیچھے) بڑھتے جائیے: آیت، حوالہ، باب، کتاب، مصنف اور پھر عہد نامے کے بارے میں مزید سیکھئے۔

2. اِس بات کو جاننے کی کوشش کریں کہ اِس حوالے کے اصل سامعین کے لیے کیا معنی تھے اور اُنہوں نے اِس کو کس طرح سے سمجھا تھا۔

3. اصل سامعین اور اپنے درمیان پائی جانے والی کھائی کی چوڑائی کو جاننے کی کوشش کریں۔

4. یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ پرانے عہد نامے میں جن اخلاقی احکام کو بیان کیا گیا ہے اگر اُن کے حوالے سے نئے عہد نامے میں بھی تعلیم ملتی ہے تو پھر وہ ہر زمانے کے لیے سچائی کے رہنما اصول ہیں۔

5. ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہر ایک حوالے کی صرف اور صرف ایک ہی درست تفسیر ہوتی ہے، لیکن اِس کا اطلاق بہت طرح سے کیا جا سکتا ہے (کچھ طرح کے اطلاق تو مناسب ہوتے ہیں اور کچھ غیر مناسب)

6. ہمیشہ حلیم رہیے اور تفسیر کے عمل میں رُوح القدس کے کردار اور اہمیت کو کبھی نظر انداز نہ کیجئے۔ یسوع نے وعدہ کیا ہے کہ رُوح القدس ہمیں تمام سچائی کی راہ دکھائے گا (یوحنا 16باب13آیت)۔

بائبلی تفسیر بھی اُتنا بڑا فن ہے جتنا کہ کوئی سائنس ہوتی ہے۔ اِس کے بہت سارے قوانین اور اصول ہیں۔ ہاں اگرچہ کچھ ایسے زیادہ مشکل یا متنازع حوالہ جات ہوتے ہیں جن کی تفسیر کرنے کے لیے ہمیں زیادہ کوشش کرنی پڑتی ہے۔ اگر رُوح القدس ہمیں قائل کرے اور شواہد ہماری رہنمائی کریں تو ہمیں اپنی پہلی تفسیر(جو غالباً اُتنی درست نہیں تھی) کو بہتر بنانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ہم یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ آجکل کے دور میں بائبل کے کونسے حصے کا اطلاق ہم پر ہوتا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries