settings icon
share icon
سوال

ایڈز/ایچ آئی وی کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے؟

جواب


بنیادی طور پر تو ہر ایک بیماری ہی خُدا کی طرف سے گناہ کی عدالت کا نتیجہ ہے۔ گناہ میں گرنے سے پہلے آدم اور حوؔا کو کسی بھی طرح کی بدعنوانی اور بداطواری کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ جس وقت خُدا نے آدم کی عدالت کی تو اُس وقت موت اِس دُنیا کے اندر داخل ہوئی (پیدایش 3باب19آیت؛ رومیوں 5باب12آیت)۔ ہر طرح کی بیماری، عام سے نزلے زکام سے لیکر کینسر تک اُسی لعنت کا حصہ ہیں اور ہم سب جو اِس گناہ آلوددُنیا کے اندر رہتے ہیں ہماری حتمی منزل اِس کی مٹی میں گل سڑ جانا ہے۔ تو ہاں، ایڈز/ایچ آئی وی اور جنسی گناہ اور بے راہ روی کی وجہ سے ہونے والی دوسری بیماریاں (اِن کے ساتھ دیگر ہر طرح کی بیماریاں) اِس لعنت زدہ دُنیا کے اندر خُدا کی عدالت ہیں۔

بائبل واضح طور پر اِس بات کی تعلیم دیتی ہے کہ ہمارے انتخابات کے اہم نتائج ہوتے ہیں۔ جو کچھ کوئی آدمی بوتا ہے، وہ وہی کچھ کاٹے گا (گلتیوں 6 باب7-8آیات)۔ راستبازی برکات لاتی ہے : " میرے فرمان کو بجا لا اور زِندہ رہ " (امثال 7باب 2آیت)؛ اور گناہ عدالت لاتا ہے: " جو بدی بوتا ہے مصیبت کاٹے گااور اُس کے قہر کی لاٹھی ٹُوٹ جائے گی "(امثال 22باب8آیت )۔ ہمارےبہت سارے مسائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم اپنے اعمال کے تعلق سے کچھ بھی کرنے کے چناؤ کی مکمل آزادی چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اُن کے کچھ بھی بُرے نتائج نہ ہوں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب بھی ہم کسی طرح کے اعمال کا چناؤ کرتے ہیں تو ہم اُن کے ساتھ جڑے ہوئے نتائج کا بھی چناؤ کرتے ہیں۔ کلامِ مُقدس ہمیں خبردار کرتا ہے کہ جنسی گناہ کے ساتھ شروع ہی سے خُدا کی عدالت جڑی ہوئی ہے۔ "حرام کاری سے بھاگو ۔ جتنے گناہ آدمی کرتا ہے وہ بدن سے باہر ہیں مگر حرام کار اپنے بدن کا بھی گنہگار ہے " (1 کرنتھیوں 6باب18آیت)۔ " خُدا حرام کاروں اور زانیوں کی عدالت کرے گا۔ " (عبرانیوں 13 باب4 آیت)۔ اِس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بائبلی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے (جنسی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی شادی کے بندھن میں وفا دار رہنے) کی بدولت کسی بھی انسان کی زندگی میں ایڈز/ایچ آئی وی اور دوسری جنسی بے راہ روی کی بدولت پھیلنے والی بیماریوں کا خدشہ کم ہو جاتا ہے۔

رومیوں 1باب 18-32آیات غیر ایمانداروں کی بُت پرست دُنیا کے خلاف واضح الزام ہے: " کیونکہ خُدا کا غضب اُن آدمیوں کی تمام بے دِینی اور ناراستی پر آسمان سے ظاہر ہوتا ہے جو حق کو ناراستی سے دبائے رکھتے ہیں۔ "یہ حوالہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم جنس پرستی کے گناہ کی جڑیں خُدا کے وجود سے انکار میں پیوست ہیں۔یہ گناہ شرمندگی ، تنزلی اور بالکل "بجا سزا" کا باعث بنتا ہے۔ اب جبکہ جنسی بے راہ روی کی بدولت لگنے والی بیماریاں جیسے کہ ایڈز اور ایچ آئی وی زیادہ تر حرامکاری کی بدولت ہی لگتی ہیں تو اِس لیے اِن کو حرامکاری کی "سزا" کے طور پر دیکھا جا سکتا ہےجس سے آدمیوں کی بے دینی اور ناراستی پر خُدا کا غضب ظاہر ہوتا ہے(18آیت)۔اِس حوالے میں ایک کلیدی بات "خُدا نے اُنہیں چھوڑ دیا" تین بار ظاہر ہوتی ہے۔ خُدا نے اُنہیں "ناپاکی میں چھوڑ دیا" ( 24آیت ) ؛ اُنہیں "گندی شہوتوں میں چھوڑ دیا" (26 آیت)؛ اور اُنہیں "ناپسندیدہ عقل کے حوالے کر دیا" (28 آیت)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ بنی نوع انسان نے اپنی راہ پر جانے کا چناؤ کر لیا، اور خُدا نے اُنہیں ایسا کرنے کی اجازت دے دی۔ اور انسان کو گناہ اور گمراہی میں مزید آگے جانے کی اجازت دینا بھی اُن کے گناہ کی سزا ہی ہے۔

یہ سب کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہر وہ انسان جو ایڈز /ایچ آئی وی کے مرض میں مبتلا ہے وہ حرامکاری کا مرتکب ہے یا پھر یہ کہ ہم جنس پرست نجات حاصل نہیں کر سکتے۔ افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ انتقال خون، کسی دوسرے ایڈز کے مریض کے ساتھ ملنے اور یا پھر ایڈز /ایچ آئی وی سے متاثرہ ماں کے ہاں جنم لینے کی وجہ سے اِس مرض کا شکار ہیں۔ ایڈز/ایچ آئی وی کا شکار لوگوں کے لیے مسیحی رویہ ہمیشہ ہی پُرفضل اور رحمدلانہ ہونا چاہیے۔ اِس سے قطع نظر کہ کسی کو کوئی بیماری کیسے لگی تھی ، ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم فضل، محبت، رحم اور معافی کی خدمت کو جاری رکھیں۔ ہمارے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ ہم یہ دعویٰ کریں کہ ایڈز/ایچ آئی وی کا شکار ہونا خُدا کی طرف سے کسی شخص کی زندگی میں خاص گناہ کی سزا یا عدالت کی نشانی ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہر کسی کے ساتھ بھلائی کریں (لوقا 10باب29-37آیات)، اور وہ انجیل جس کا ہم پرچار کرتے ہیں وہ اب بھی " ہر ایک اِیمان لانے والے کے واسطے ۔۔۔نجات کے لئے خُدا کی قدرت ہے۔ "

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ایڈز/ایچ آئی وی کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries