كلام مقدس شادي سے پهلے جنسي تعلقات كے بارے ميں كيا كهتا هے؟
سوال: كلام مقدس شادي سے پهلے جنسي تعلقات كے بارے ميں كيا كهتا هے؟
جواب:
هر قسم کی بداخلاقی اور حرامکاری کے ساتھ ساتھ شادی سے پهلے جنسی حرامکاری کو کلام مقدس میں سختی سے منع کیا گیا هے ﴿اعمال15باب20آیت؛ رومیوں1باب29آیت؛ 1۔کرنتھیوں5باب1آیت؛ 6باب13اور 18آیت؛ 7باب2آیت؛ 10باب8آیت؛ 2۔کرنتھیوں12باب21آیت؛ گلتیوں5باب19آیت؛ افسیوں5باب3آیت؛ کلسیوں3باب5آیت؛ 1۔تھسلنکیوں4باب3آیت؛ یهوداه7آیت﴾۔ کلام مقدس شادی سے پهلے هر قسم کے پرهیز کا حکم دیتا هے۔ شادی سے پهلے جنسی تعلقات بالکل ایسے هی هیں جیسے زناکاری اور اس جیسے دوسرے گناه، کیونکه ان میں آپ اس شخص سے جنسی تعلقات بنا رهے هوتے هیں جس سے آپ کی شادی نهیں هوئی هوتی۔ جنسی تعلقات صرف اور صرف ایک شوهر اور اسکی بیوی کے درمیان وه جنسی تعلقات هیں جن کی خدا نے باقاعده اجازت دی هوئی هے ﴿عبرانیوں 13باب4آیت﴾۔
شادی سے پهلے جنسی تعلقات کئی وجوهات کی وجه سے بهت عام هوچکے هیں ۔ هم بهت دور نهیں جاتے بلکه اس بات پر نظر کرتے هیں که هم جنسی آسودگی حاصل کرنے یا هم پیدائش کے کام کو جاری رکھنے کے لئے ایسا کرتے هیں۔ هاں جنسی تعلقات آسودگی دیتے هیں پر خدا نے اسے اس لیے بنایا تھا وه چاهتا هے که مرد اور عورت جنسی آسودگی حاصل کریں﴿مگر شادی شده بندھن میں ره کر﴾۔ تاهم، جنسی تعلقات کا اصل مقصد آسودگی حاصل کرنا نهیں، بلکه نسلِ انسانی کو جاری رکھنا ۔ خدا نهیں چاهتا که هم شادی سے پهلے جنسی تعلقات کے قانون کو توڑیں صرف آسودگی حاصل کرنے کے لئے، مگر همیں ناپسندیده حمل اور ایسے ماں باپ جو اولاد پیدا نه کرنا چاهیں یا اس کے لیے تیار نه هوں۔ سوچیں که هماری دنیا کتنی خوبصورت هو اگر هم جنسی آسودگی کے لیے خداکے بنائے گئے اصولوں پر عمل کریں ۔ کچھ جنسی تعلقات کی وجه سے منتقل هونے والی بیماریاں ، کچھ بغیر شادی کے مائیں، کچھ نه چاهے حمل، کچھ اسقاطِ حمل وغیره۔ پرهیز هی وه اصول هے جو شادی سے پهلے جنسی تعلقات کو روکنے کے لئے همیں ماننے کی ضرورت هے۔ پر هیز زندگیاں بچاتا هے، نومولود بچوں کو بچاتا هے۔ جنسی تعلقات کو ایک مناسب اهمیت دیتا هے، اور سب سے زیاده خدا کو عزت دیتا هے
واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر
كلام مقدس شادي سے پهلے جنسي تعلقات كے بارے ميں كيا كهتا هے؟
|