اُن لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا جنہیں ایک دفعہ بھی یسوع کے بارے میں سُننے کا موقع نہیں ملا؟ کیا خُدا اُس ایک شخص کو سزاوار ٹھہرائے گا جس نے کبھی بھی اُس کے بارے میں نہیں سُنا ہے؟




سوال: اُن لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا جنہیں ایک دفعہ بھی یسوع کے بارے میں سُننے کا موقع نہیں ملا؟ کیا خُدا اُس ایک شخص کو سزاوار ٹھہرائے گا جس نے کبھی بھی اُس کے بارے میں نہیں سُنا ہے؟

جواب:
تمام لوگ خُدا کے لیے تابع احتساب (ذمہ دار) ہیں خواہ انہوں نے " اُس کا کلام سُن رکھا ہو یا نا سُن رکھا ) اور لوگوں کے دِلوں میں اپنے آپ کو1:20 ہو۔ بائیبل ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا واضع طور پر فطرت میں (رومیوں ) ۔ مسلئہ یہ ہے کہ نسل انسانی گُنا گار ہے ، ہم سب خُدا کی Ecclesiasts 3:11ظہور پذیر بھی کر چکا ہے ۔ () ۔ اگر یہ خُدا کے فضل کے لیے1:21-23 رومیوں )اِس تعلیم کو رد کرتے ہیں اور اُس کے خلاف بغاوت کرتے ہیں ۔

نہیں ہے، ہمارے دِلوں پر گناہ آلودہ خواہشات پڑجائیں گی، ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ یہ دریافت کریں کہ اُس کے بغیر زندگی کتنی بے فائدہ اور مصیبت زدہ ہے۔ وُہ یہ اُن کے لیے کرتا ہے جو اُسے مسلسل رد کرتے ہیں ۔ )1:24-32(رومیوں حقیقت میں اصل معمالہ یہ نہں ہے کہ کُچھ لوگوں نے خُدا کے بارے میں نہیں سُن رکھا ہے ۔ بلکہ مسلئہ یہ ہے )4:29کہ وہ اُس کو رد کرتے ہیں جو انُنہوں نے سُن رکھا ہے اور جو وہ فطرت میں ہو بہو دیکھتے ہیں ۔ (استعشناہ

بیان کرتی ہے، " لیکن وہان پر بھی اگر تیم خُداوند اپنے خُدا کےطالب ہو تو وہ تجھ کو مِل جائے گا بشرطیکہ تو اپنے پورے دل اور اپنی ساری جان سے اُسے ڈھونڈے۔" یہ آیت ہمیں ایک اہم اُسول سکھاتی ہے ۔ جو کوئی بھی خُدا کو سچا۴ی سے ڈھونڈتا ہے اُسے پالے گا۔ اگر ایک شخص خُدا کو جاننے کی سچی خواہش کرتا ہے ۔ تو خُدا اپنے آپ اُس پر واضح کر دے گا۔

مسلئہ یہ ہے کہ " کوئں سمجھدار نہیں ۔ کوئں خُدا کا طالب نہیں۔" لوگ خُدا کی تعلیم کو رِد کرتے ہیں ۔ جو کہ فطرت میں اور اُن کے اپنے دِلوں میں موجود ہے اور اِس کا بجائے وہ اپنے تخلیق کردہ ایک "خُدا " کی عبادت کرتے ہیں خُدا کی طرف سے ایک آدمی کو جنہم میں پھینکے جانے پر جس کے کبھی مسیح کی انجیل کو سُننے کا موقع نہیں ملا اِس پر بحث کرنا فضول ہے ۔ لوگ خُدا کے سامنے ذمہ دار ہیں جوکہ وہ پہلے ظہور کر چکا ہے ۔ بائیبل کہتی ہے کہ لوگ اِس تعلیم کو رد کرتے ہیں اور تاہم خُدا انہیں جنہم میں سزا دینے میں عادل ہے۔

اُن کی قسمت پر جنہوں نے کچھی نہیں سُنا بحث کرنگے کی بجائے ہمیں مسیحی ہونے کے ناطے اِس یقین دہانی کے لیے بھر پور کوشش کرنی چائیے کہ وُہ سُنیں ۔ ہمیں قوموں میں انجیل کی منادی کے لیے بلایا گیا ہے۔ ) ۔ ہم جانتے ہیں کہ لوگ فطرت میں ظہور پذیر خُدا کی تعلیم کو رِد کرتے ہیں ، 1:8 ) اور (اعمال 28:19-20 (متی اور یہ ہمیں یسوع مسیح کے وسیلہ سے نجات کی خوشخبری کا دعوٰی کرنے کے لیے ترغیب دیتا ہے ۔ صرف خُداوند مسیح یسوع کے وسیلہ سے خُدا کے فضل کو قبل کرکے لوگ اپنے گُناہوں سے اور خُدا سے مکمل علیحدگی سے نجات پا سکتے ہیں ۔

اگر ہم یہ قبول کرتے ہیں کہ وُہ جنہوں نے کبھی بھی انجیل کو نہیں سُنا خُدا سے رحم کے حقد دار ہیں، تو ہم ایک خوفناک مسلئے میں پڑ جائیں گے۔ اگر وہ لوگ جنہوں نے کبھی بھی انجیل کو نہیں سُنا نجات پاتے ہیں ، یہ ایک منطق ہے کہ ہمیں یہ یقین دہانی کرنی چاہیے کہ کوئں ہمیشہ ہی بائیبل کو نہ سُنے ۔ سب سے بڑی بات جو ہم کرسکتے ہیں کہ ایک شخص جو کے ساتھ انجیل کو بانٹیں اور وہ یا وہ (لڑکی) اُسے رد کر دے اگر یہ واقع ہوتا ہے تو وہ (مرد) یا وہ (عورت) کو سزا ملنی چاہیے ۔ وہ لوگ جو انجیل کو نہیں سُنتے انہیں سزا ضرور ملنی چاہیے، یا کہیں ایسی جگہ پر جہان بشارتی کام کی کوئں تحریک نہ ۔ کیوں انجیل کو رد کرکے اپنے آپ کو سزاور ٹھہرانے کا مکمنہ خطرہ مول لے رہے ہیں۔ جبکہ وہُ پہلے ہی سے نجات یافتہ ہیں کیونکہ انہوں نے کبھی بھی انجیل کو نہیں سُنا ہے ؟



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



اُن لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا جنہیں ایک دفعہ بھی یسوع کے بارے میں سُننے کا موقع نہیں ملا؟ کیا خُدا اُس ایک شخص کو سزاوار ٹھہرائے گا جس نے کبھی بھی اُس کے بارے میں نہیں سُنا ہے؟