غیر مسیحی سماج میں شادی کرنے سے متعلق کلام پاک کیا کہتا ہے؟



سوال: غیر مسیحی سماج میں شادی کرنے سے متعلق کلام پاک کیا کہتا ہے؟

جواب:
پرانے عہد نامے کی شریعت نے بنی اسرائیل قوم کو سختی سے منع کیا ہے وہ غیر طبقوں میں جاکر شادی کرے (استثنا 7:3-4)۔ کسی طرح یہ حکم غیر طبقوں کی چمڑی، رنگ روپ یا بُت پرستی یا بُت پرستی کے برابر دیگر گھنونے کام کے سبب سے نہیں تھا بلکہ غیر مذہب کے ہونے کے سبب سے تھا۔ مطلب یہ کہ خدا نے یہودیوں کو غیر قوموں میں شادی نہ کرنے کا حکم اس لئے جاری کیا کیونکہ غیر قوم کے لوگ جھوٹے دیوتائوں کی پرستش کرتے تھے۔ یہ قانون اتنا سنجیدہ تھا کہ اگر وہ لوگ بُت پرستوں کے ساتھ غیر اہلِ کتاب کے ساتھ یا غیر قوموں کے ساتھ شادی کرتے یا کراتے ہیں تو وہ بنی اسرائیل قوم میں سے نکالا جاتا تھا۔ یا پھر وہ خدا کی نظر سے دور ہو جاتا تھا۔ ملاکی کی کتاب 2:11 کے مطابق یہی بات بنی اسرائیل قوم میں واقع ہوتا تھا۔

اسی رُوحانی پاکیزگی کے اصول کو نئے عہدنامے میں برقرار رکھا گیا ہے۔ مگر یہاں آپ دیکھیں کہ سماج یا طبقہ سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ مگر ایک عام بات کو لے کر سمجھایا گیا ہے اور نصیحت دی گئی ہے کہ ’’بے ایمانوں کے ساتھ ناہموار جُوئے میں نہ جُتو کیونکہ راستبازی اور بے دینی میں کیا میل جول؟ یا روشنی اور تاریکی میں کیا شراکت؟ (2کرنتھیوں 6:14) مسیح کو بلیعال کے ساتھ کیا موافقت؟ یا ایماندار کا بے ایمان سے کیا واسطہ؟ جس طرح سے بنی اسرائیل قوم (ایک سچے خدا کے ایماندار) ہونے کے ناطے انہیں حکم دیا گیا کہ بت پرستوں میں شادی نہ کریں ویسے ہی مسیحی لوگ (ایک سچے خدا کے ایماندار) ہونے کے ناطے حکم دیا گیا ہے کہ غیر ایمانداروں یا غیر مسیحیوں کے ساتھ شادی نہ کریں۔ کلام پاک کبھی نہیں کہتا کہ غیر مسیحی سماج میں شادی کرنا غلط ہے جو بھی کوئی غیر مسیحی سماج میں شادی کے لئے منع کرتا وہ کلامِ پاک کے اختیار کے بغیر منع نہیں کرتا۔ مارٹن لوتھر نے کہا ہے کہ ایک شخص کو اس کی چمڑی اور اس کی رنگت کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کی سیرت کے مطابق فیصلہ کرنا چاہئے۔ ایک مسیحی کی زندگی میں کسی طبقہ یا سماج کی بنیاد پر یا کسی کا چہرہ دیکھ کر کسی کی طرفداری یا حمایت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

)یعقوب 2:1-10) دراصل بائیبل کا ظاہری تناسب یہ ہے کہ ایک ہی طبقہ یا ایک ہی سماج ہے وہ ہے انسانی طبقہ، انسانی سماج جو آدم اور حوّا کی نسل ہے۔ جب ایک ساتھی کا چنائو ہوتا ہے تو ایک مسیحی کو چاہئے کہ نئے سرے سے پیدا ہوئے شریک حیات کا چنائو کرنا چاہئے جس کا مسیح پر پورا اعتقاد ہے (یوحنا 3:3-5)۔ مسیح پر ایمان رکھنے والے ایماندار کے لئے شریک حیات کا چنائو شکل و صورت اور رنگت معنی نہیں رکھتا۔ غیر مسیحی سماج میں شادی کرنا سہی یا غلط کی بات نہیں ہے بلکہ عقلمندی، بصیرت اور دعا کی رہنمائی سے ممکن ہے۔

شادی کا دھیان رکھتے ہوئے ایک جوڑے کو چاہئے کہ کئی ایک حقیقتوں کو جانچنا چاہئے، جبکہ شکل و صورت اور رنگت کے فرق کو نظر انداز کرنی چاہئے۔ یہ بالکل سے ٹھان سے ٹھان لینے کی ضرورت ہے کہ ایک جوڑے کی شادی فلاں طبقے میں ہی ہو۔ غیر طبقے کا جوڑا ہو سکتا ہے کہ بھیدبھائو اور ہنسی یا ٹھٹھے کا سامنا کرے اور انہیں بائیبل کے طریقے سے اس طرح کی بے جا مخالفت کا جواب دینے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ پولس رسول کہتا ہے کہ یہودیوں اور یونانیوں میں کچھ فرق نہیں اس لئے کہ وہی سب کا خدا وند ہے اور اپنے سب دعا کرنے والوں کے لئے فیاض ہے (رومیوں 10:12)۔ ایک رنگودھیا کلیسیا اور یا پھر ایک مسیحی-غیر مسیحی سماج کی شادی مسیح میں ہماری مساوات یا برابری کا طاقتور مثال بن سکتا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



غیر مسیحی سماج میں شادی کرنے سے متعلق کلام پاک کیا کہتا ہے؟