کیا ہمارے دو یا تین حصے ہیں ؟ کیا ہم بدن ، جان ، روح یا بد ن ، جان و روح ہیں ؟




سوال: کیا ہمارے دو یا تین حصے ہیں ؟ کیا ہم بدن ، جان ، روح یا بد ن ، جان و روح ہیں ؟

جواب:
پیدائش 1 : 26 ۔ 27 نشاندہی کر تی ہے کہ کچھ ایسا ہے جو انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز بناتا ہے ۔ بنی نو ع انسان خدا کے ساتھ ایک رشتہ استوار کرنے کے خواہش مند تھے اور جیسا کہ خدا نے ہمیں مادی اور غیر مادی حصوں سے تخلیق کیا ۔ واضح مادہ وہ ہے جو کہ محسوس کیے جانے کے قابل ہو ، جسمانی بدن ، ہڈیاں ، اعضا ء وغیرہ ، اور تب تک باقی رہتے ہیں جب تک ایک آدی جیتا رہتا ہے ۔ غیر مادی حالتیں وہ ہیں جو کہ محسوس کیے جانے کے قابل نہ ہوں جو کہ جان ، روح ، عقل ، مرضی ، ضمیر وغیرہ ہیں ۔ یہ انسان کی زندگی کی وسعت سے پرے رہتی ہیں۔

تمام انسان مادی اور غیر مادی دونوں طرح کی خصوصیات کے حامل ہو تے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ تمام بنی نوع انسان گوشت ہڈیوں ، اعضا ء اور خلیات پر مشتعمل ایک بدن رکھتے ہیں ۔ تاہم یہ انسان کی محسوس نہ کیے جانے والی خصوصیات ہیں جو کہ اکثر زیرِ بحث آتی ہیں ۔ اِن کے بارے میں کلام کیا کہتا ہے ؟َ پیدائش 2 باب 7 آیت بیان کر تی ہے کہ انسان ایک جیتی جان کے طورپر خلق ہوا تھا ۔ گنتی 16 باب 22 آیت میں خدا کو " روح کا خدا" کے طور پر پُکارا گیا ہے جو کہ تمام انسان رکھتے ہیں ۔ امثال 4 باب 23 آیت ہمیں بتاتی ہے " اپنے دل کی خوب حفاظت کر کیونکہ ازندگی کا سرچشمہ وہی ہے " یہ نشاندہی کر تی ہے کہ دل انسان کی خواہش اور جذبات کا مرکز ہے ۔ اعمال 23 باب 1 آیت کہتی ہے ، " پولس نے صدرِ عدالت والوں کو غور سے دیکھ کع کہا ے بھائیو ! میں نے آج تک کمال نیتی سے خدا کے واسطے عُمر گزاری ہے ۔" یہاں پر پولس ضمیر کا حوالہ دیتا ہے ۔ ذہن کا وہ حصہ جو کہ ہمیں اچھے بُرے کی شناخت کرواتا ہے ۔ رومیوں 12 باب 2 آیت بیان کر تی ہے ۔ " اور اِس جہان کے ہمزکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہو جانے سے اپنی صورت بدلتے جاو تاکہ خدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تضربہ سے معلوم کر تے رہو ۔ یہ آیات اور بہت ساری دوسری آیات انسان کے غیر مادی حصے کی بہت ساری حالتوں کا حوالہ دیتیں ہیں ۔ ہم مادی اور غیر مادی دونوں خصوصیات کو مکمل طور پر زیرِ بحث لاتے ہیں ۔

پس جان اور روح سے زیادہ اِس کا خاکہ پیش نہیں کرتا ہے ۔ کسی نہ کسی طرح جان ، روح ، ضمیر اور ذہن باہم جُڑے ہوئے اور ایک دسسرے سے متعلقہ ہیں ۔ اگرچہ جان او ر روح حقیقی طور پر انسان کی بنیادی غیر مادی حالتیں ہیں ۔ وہ دوسرے پہلووں کی طرح قابلِ اعتماد ہیں۔ اِس ذہن کے ساتھ کہ کیا انسان دو حصوں میں منقسم ہے ( دوحصوں میں بٹا ہوا ، بدن / جان ۔ روح ) یا تین حصوں میں منقس ہے ( تین حصوں میں ، بدن / جان / روح ) اِس کا راسخ الاعتقاد ہونا نا ممکن ہے ۔ یہاں پر دونوں نظریات کے لیے بہت اچھے دلائل ہیں ۔ عبرانیوں4 باب اُسکی 12 آیت ایک کُلیدی آیت ہے ،" کیونکہ خدا کا کلامِ زندہ اور موثر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جان اور بند بند اور گُودے کو جُدا کر کے گزر جاتا ہے اور دل کے خیالوں اور ارادوں کو جانچتا ہے ۔" یہ آیت اِس بحث کے بارے میں ہمیں کم از کم دو باتیں بتاتی ہے ۔ جان اور روح منقسم ہو سکتیں ہیں اور جان اور روح کی تقسیم وہ چیز جس کا عقلی امتیاز صرف خدا ہی کر سکتا ہے ۔ کسی ایسی چیز پر مرتکز ہونے کی بجائے جسے ہم یقینی طور پر نہیں جان سکتے ہیں ، خالق پر مرکوز ہونا ہے ۔ بہتر ہے ، جس نے ہمیں " عجیب و غریب اور حیرت انگیز بنایا ہے ( زبور139 : 14 ) ۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



کیا ہمارے دو یا تین حصے ہیں ؟ کیا ہم بدن ، جان ، روح یا بد ن ، جان و روح ہیں ؟