موت كے بعد كيا هوتا هے؟




سوال: موت كے بعد كيا هوتا هے؟

جواب:
سوال موت كے بعدکیا هوتا هے پريشان کن ھو سکتا هے۔ جب اک شخص اپني ابدی منزل پر پهنچے گا اس بات كو كلامِ مقدس واضع طور پر ظاهر نهيں كرتا ۔ کچھ عالمِ دین کا خیال ہے کہ موت کے بعد ہر کوئی گہر ی نیند سو جاتا ہے جب تک کہ روزِ عدالت نہ آ جائے۔ اُس کے بعد ہر کسی کو جنت یا دوزخ میں بھیجا جائیگا۔ اور کچھ عالم کا ماننا ہے کہ میرنے کے وقت لوگوں کی فوری طور پر عدالت ہوتی ہے اور پھر انہیں اُن کے ابدی مقام میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اور پھر تیسری طرح کے لوگوں کا ماننا ہے کہ جب لوگ مرتے ہیں تو اُن کی روح کو عارضی طور پر جنت یا دوزخ میں جہاں وہ پھر جی اُٹھنے کا انتظار کرتے ہیں اور پھر اُن کی عدالت ہوتی ہے پھر آخر کار انہیں ان کے ابدی مقام میں بھیجا جاتا ہے۔ لہذا دیکھنا یہ ہے کہ آخر بائبل مقدس موت کے بعد کے بارے میں کیا فرماتی ہے۔

كلامِ مقدس ہمیں سیکھاتی ہے کہ مسیح یسوع پر ایمان رکھنے والے ایماندروں کی روحیں فردوس یا جنت میں چلی جاتی ہیں کیونکہ اُن کے گناہ پہلے ہی سے معاف ہو چکے ہیں جب انہوں نے مسیح یسوع کو اپنا شخصی نجات دہندہ قبول کیا تھا۔ مسیحیوں کے موت جسم سے جدا ہونے اور خداوند [ یوحنا ۳ باب کی سولہ، آٹھارہ اور چھیتس آیت کے مطابق ] کے حضور حاضر ہونا کا دوسرا نام ہے۔ ﴿2۔كرنتھيوں5باب6تا8آيت؛ فلپيوں1باب23آيت﴾۔غيرنجات يافته كے لئے ، موت كے بعد كا مطلب هے، دوزخ ميں كبھي نه ختم هونے والي سزا﴿لوقا 16باب22تا23آيت﴾۔

تو بھی بائبل مقدس کے یہ حصے ﴿۱۔كرنتھيوں۱۵ باب کی ۵۰ یا ۵۴آيت ۔ اور ۱۔تھسلینکیوں ۴ باب کی ۱۳ تا ۱۷ آیات ﴾ میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسیح یسوع کی دوسرے آمد کے وقت ایماندار لوگ زندہ ہو جائینگے اور اُن کے بدن تبدیل ہو کر اُن کو جلالی بدن عطا کیے جائینگے۔ لہذا سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر مرنے کے فورا بعد ایماندار فردوس یا جنت میں چلے جائینگے تو پھر بائبل میں اُن کے دوبارہ جی اُٹھنے کے اِس دعوے کا کیا ہو گا ؟ اور مندرجہ بالا آیات کے بغور مطالعے کے بعد یہ بھید کھلتا ہے کہ مرنے کے بعد جب ایمانداروں کے جسمانی بدن دوبارہ زندہ کیے جائینگے اور وہ جلالی ہو جائینگے اور پھر وہ روح کے منسلک ہو جائینگے۔ اور یہ ہم آہنگ جلالی بدن، جان اور روح ایمانداروں کے پاس ہو گا تا کہ وہ اپنے ابدی مقام فردوس میں یعنی نئی زمین اور نئے آسمان میں اپنی آسمانی برکات سے لطف اندوز ہو سکیں ۔ بمطابق مكاشفه 21اور 22

دوسرا ! اور وہ لوگ جنہوں نے مسیح یسوع کواپنا شخصی نجات دہندہ قبول نہیں کیا اُن کے لیے موت کا مطلب ہے ہمیشہ کی سزا۔ تو بھی ایماندروں کی قسمت کی طرح غیر ایماندار بھی مرنے کے فورا بعد ایک عارضی مقام میں منتقل کر دیے جاتے ہیں جہاں وہ اپنے پھر جی اُٹھنے کا اور روزِعدالت کا اور اپنی ابدی قسمت کا انتظار کرتے ہے۔ يه پريشان كن هے كه موت كے بعد كيا هوتا هے۔ مكاشفه 20باب11تا15بتاتا هے وه سب جو دوزخ ميں هيں آگ كي جھيل ميں ڈالے گئے۔ مكاشفه 21اور 22باب بتاتا هے كه ایک نيا آسمان اور ایک نئي زمين ۔ اس لئے ، يه نظر آتا هے كه جب تک آخرت ميں زنده نه كيا جائے گا موت كے بعد ایک شخص "عارضي طو پر "جنت يا دوزخ ميں سكونت كرتا هے۔ ایک شخص كي ابدی منزل كبھي تبديل نه هوگي، كچھ جگهوں پر موت كے بعد ايماندار نئے آسمان اور نئي زمين پر بھيجے جائيں گے﴿مكاشفه 21باب1آيت﴾۔ كچھ جگهوں پر موت كے بعد غير نجات يافته لوگ آگ كي جھيل ميں ڈالے جائيں گے﴿مكاشفه 20باب11تا 15آيت﴾۔ يه آخرت هے، سب لوگوں كے رهنے كي ابدی جگه جس كي بنياد اس پر هے كه کوئی شخص اپنے گناهوں سے نجات كے لئے يسوع مسيح پر ايمان ركھتا هے



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



موت كے بعد كيا هوتا هے؟