اپني موت اور جي اُٹھنے كے درميانی تين دنوں ميں يسوع كهاں تھا؟




سوال: اپني موت اور جي اُٹھنے كے درميانی تين دنوں ميں يسوع كهاں تھا؟

جواب:
1 پطرس 3باب18تا19آیت بیان کرتی هے، "اس لئے که مسیح نے بھی یعنی راستباز نے ناراستوں کے لئے گناهوں کے باعث ایک بار دکھ اُٹھایا تاکه هم کو خدا کے پاس پهنچائے۔ وه جسم کے اعتبار سے تو مارا گیا لیکن روح کے اعتبار سے زنده کیا گیا۔ اسی میں اس نے جاکر ان قیدی روحوں میں منادی کی"۔

فقره "روح کے اعتبار سے18 "آیت میں کی بناوٹ بالکل اس فقر ے کے مطابق جیسے ، "جسم کے اعتبار سے"۔ اس لئے ایک هی وقت میں لفظ "روح"کا تعلق لفظ "جسم"سے ملانانهایت مناسب هے ۔ جسم اور روح مسیح کے جسم اور روح هیں۔ لفظ "روحانی اعتبار سے زنده کرنا"، اس حقیقت کی طرف توجه دلاتا هے که مسیح جس نے گناهوں کو برداشت کیا اور موت نے اس کی جسمانی روح کو باپ سے جدا کردیا ﴿متی 27باب46آیت﴾۔ جسم اور روح کے درمیان فرق هے، جیسے متی 27باب41آیت اور رومیوں1باب3تا4آیت، اور نه کے مسیح کے جسم اور پاک روح کے درمیان۔ جب مسیح کی گناه کے عوض کفارہ مکمل ہو گیا ، اس کے روحانی شراکت پھر سے بحال هو گئی جو ٹوٹ چکی تھی۔

1پطرس 3باب18تا22آیت بیان کرتیں هیں ایک اهم تعلق کو جو مسیح کی تکالیف ﴿آیت 18﴾اور اس کے جلال ﴿آیت 22﴾کے درمیان هے۔ صرف پطرس هی اس بارے میں ٹھیک معلومات دیتا هے که ان دونوں واقعات میں کیا هوا تھا۔ لفظ "منادی"آیت19میں کوئی عام لفظ نهیں جو نئے عهد نامے میں انجیل کی خوشخبری کے لئے استعمال هو ا هے۔ اس لے لغوی معنی هیں پیغام دینے والا۔ یسوع نے دکھ اُٹھا یا اور صلیب پر جان دی، اس کے جسم کو قبر میں رکھا گیا، اور اس کی روح نے مرنا تھا جب اس نے گناه کرنا تھا۔ مگر اس کی روح زنده هوگئی اور اسے با پ کو دے دیا گیا۔ پطر س کے مطابق، کچھ وقت کے لئے اپنی موت اور جی اُٹھنے کے درمیان یسوع نے ایک اهم اعلان کیا "قیدی روحوں"میں جاکر۔

شروع میں پطرس لوگوں کو حواله دیتا هے که "جان"۔"روح"نهیں﴿1۔پطرس3باب20آیت﴾۔ نئے عهدنامے میں لفظ "روحوں"کا استعمال فرشتوں اور بُری روحوں کو بیان کرتا هے، بنی نوع انسان کو نهیں؛ اور 22آیت اس کے ٹھیک مطلب کو ظاهر کرتی هے۔ مزید کلامِ مقدس میں کهیں بھی نهیں بتایا گیا که یسوع دوزخ میں گیا۔ اعمال2باب31آیت کهتی هے که وه "عالمِ ارواح"میں گیا ﴿نئی امریکن معیاری بائبل﴾، لیکن "عالمِ ارواح "دوزخ نهیں۔ لفظ "عالمِ ارواح "مُردوں کے عالم کا حواله دیتا هے، ایک عارضی جگه جهاں وه دوباره جی اُٹھنے کا انتظار کر رهے هیں۔ مکاشفه 20باب11تا15آیت ﴿نئی امریکن معیاری بائبل﴾یا نیا بین الاقوامی ایڈیشن دونوں کے درمیان واضع فرق بتاتا هے۔ جهنم همیشه رهنے والی اور آخری مقام هے گمراه هوئے لوگوں کے لئے۔ عالمِ ارواح ایک عارضی جگه هے۔

همارے خداوند نے اپنی روح باپ کو سونپ دی، مر گیا اور کچھ وقت موت اور دوباره جی اُٹھنے کے درمیان موت کی وادی میں گیا جهاں اس نے روحانی حالت میں پیغام دیا ﴿یقینی طور پر گنهگار فرشتوں کو؛ دیکھیں یهوداه 6آیت﴾جو کسی نه کسی طرح سے نوح کے زمانه کے طوفان سے پهلے سے تعلق رکھتے تھے۔ آیت 20بتاتی هے ۔ پطرس همیں نهیں بتاتا هے که وه ان قیدی روحوں کے بارے میں کیا اعلان کرتا هے، لیکن یه چھٹکارے کا پیغام نهیں هوسکتا جب تک فرشتے نجات نهیں پاتے ﴿عبرانیوں2باب16آیت﴾۔ یه یقینی طورپر شیطان اور اسکے لشکر پر فتح کا اعلان تھا ﴿1۔پطرس 3باب22آیت؛ کلسیوں2باب15آیت﴾۔ افسیوں 4باب8تا10آیت بھی ظاهر کرتی هے که مسیح "فردوس "میں گیا﴿لوقا16باب20آیت؛ 23باب43آیت ﴾اور ان سب کو آسمان میں لے گیا جو مرنے سے پهلے اسکی موت پر یقین رکھتے تھے ۔ یه حواله اس واقع کو تفصیل سے نهیں بتاتا که کیا هوا تھا، لیکن کلامِ مقدس کے زیاده تر عالم اس کے مطلب سے متفق هیں "قیدیوں کو قید میں سے چھڑایا"۔

پس، سبھی کہتے هیں که کلام مقدس مکمل طور پر واضع نهیں بتاتا که مسیح نے اپنی موت اور دوباره جی اُٹھنے کے درمیان تین دنوں میں کیا کیا۔ یه ظاهر کرتا هے ، اگرچه وه گرے هوئے فرشتوں اور بے ایمانوں پر فتح کی تبلغ کررها تھا۔ کیا هم یه یقین سے جان سکتے هیں که یسوع لوگوں کونجات کے لئے دوسرا موقع نهیں دے رهاتھا۔ کلام مقدس همیں بتاتا هے که ہم موت کے بعد عدالت کا سامنا کریں گے ﴿عبرانیوں 9باب27آیت﴾ ، دوسرا موقع نهیں هے۔ یهاں پر کوئی حقیقی اور واضع جواب نهیں هے که یسوع نے اپنے مرنے اور جی اُٹھنے کے درمیان کیا کیا۔ شاید یه وه راز هے جس کو هم اس وقت جانیں گے جب هم اسکے جلال میں جائیں گے



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



اپني موت اور جي اُٹھنے كے درميانی تين دنوں ميں يسوع كهاں تھا؟